مذاکرات کے پانچویں دور کے موقع پر روم میں ملاقات کے دوران ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ حق خود ارادیت کی سنگین خلاف ورزیوں سمیت فلسطنی عوام کے بنیادی حقوق کی پائمالی مغربی ایشیائی خطے میں عدم تحفظ اور مسائل کی جڑ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کے پانچویں دور کے موقع پر روم میں ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے جمعے کی شام ویٹیکن کے وزیراعظم کارڈینل پیٹرو پیرولین سے ملاقات اور گفتگو کی۔ ملاقات میں ویٹیکن کے سیکرٹری آف سٹیٹ بشپ پال گیلاگھر بھی موجود تھے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے پوپ فرانسس کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا اور پوپ لیو کے انتخاب پر مبارکباد دی۔

انہوں نے ناجائز صیہونی قبضے، نسل پرستی اور حق خود ارادیت کی سنگین خلاف ورزیوں سمیت فلسطنی عوام کے بنیادی حقوق کی پائمالی کو مغربی ایشیائی خطے میں عدم تحفظ اور مسائل کی جڑ قرار دیا۔ سید عباس عراقچی نے ویٹیکن کے سینیئر حکام کو جوہری توانائی کے پرامن استعمال کے لیے ایرانی عوام کے حق اور ضرورت کے بارے میں ایران کے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے ایران امریکہ بالواسطہ مذاکرات کے عمل سے بھی آگاہ کیا۔

ایرانی وزیر خارجہ نے غزہ میں قتل و غارت میں شدت اور نسل کشی کے نتیجے میں مقبوضہ فلسطین کی تباہ کن صورتحال کے پیش نظر تمام ممالک اور معاشروں کی قانونی اور اخلاقی ذمہ داری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ غزہ میں ہونے والے جرائم پر اپنی بیزاری اور مذمت کیساتھ ان جرائم کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کرتے ہوئے انسانی امداد بھیجیں۔ انہوں نے کہا کہ دو ریاستی حل عشروں سے محض ایک ادھورا وعدہ ثابت ہوا ہے اور اس سے فلسطینی عوام کے حقوق کی بڑھتی ہوئی پامالی کی راہ ہموار ہو رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسی حالت میں جب غاصب اسرائیلی حکومت ظالمانہ طریقوں سے فلسطینیوں کو نابود کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی طرف سے ایک جمہوری فلسطینی ریاست کا حل ہی قابل عمل ہے، ایک ایسی جمہوری ریاست جو تمام تر ریاست کے مسلمانوں، یہودیوں اور عیسائیوں سمیت فلسطین کے حقیقی باشندوں کی طرف سے ریفرنڈم کے ذریعے تشکیل پائے۔ اس ملاقات میں ویٹیکن اور ایران کے دوطرفہ تعلقات کی تازہ ترین صورتحال، بین المذاہب مکالمے اور پرامن گفتگو پر تبادلہ خیال بھی کیا گیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ایرانی وزیر خارجہ عوام کے

پڑھیں:

ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے

امریکی فوج کی جانب سے ایرانی جزیرے قشم پر کارروائی کے دعوے کے بعد ایران نے خطے میں موجود امریکی مفادات اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا اعلان کرتے ہوئے جوابی حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق امریکی افواج نے قشم جزیرے میں موجود ایک ایرانی فوجی تنصیب کو نشانہ بنایا۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ایران کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملوں کے ردعمل میں کی گئی۔

سینٹ کام کے مطابق امریکی اور اتحادی دفاعی نظام نے متعدد ایرانی میزائل اور ڈرون راستے میں ہی تباہ کر دیے۔

امریکی بیان میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ ایران کی جانب سے داغے گئے بعض بیلسٹک میزائل اپنے اہداف تک پہنچنے میں ناکام رہے۔

کویت کی جانب فائر کیے گئے دو میزائل راستے میں گر گئے جبکہ بحرین کی طرف بڑھنے والے تین میزائل امریکی اور بحرینی فورسز نے فضا میں ہی تباہ کر دیے۔

اسی دوران امریکی فوج نے ایک ایسے آئل ٹینکر کو بھی ناکارہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے جو مبینہ طور پر ایرانی جزیرے خارگ کی جانب رواں تھا۔

امریکی حکام کے مطابق مذکورہ جہاز پر بوٹسوانا کا پرچم لہرا رہا تھا۔

مزید پڑھیں

ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ

امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر

دوسری طرف ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے امریکی کارروائی کا فوری جواب دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ قشم میں کمیونیکیشن انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے بعد امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے ہیں۔

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق جوابی کارروائی میں بحرین میں موجود امریکی ففتھ فلیٹ کے ہیڈکوارٹر، بعض فضائی تنصیبات اور ہیلی کاپٹر مراکز کو ہدف بنایا گیا۔

پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ امریکی حملوں کا جواب دینا ناگزیر تھا اور خطے میں کسی بھی جارحیت کا بھرپور ردعمل دیا جائے گا۔

عرب میڈیا کے مطابق بحرین، کویت اور عراق میں سیکیورٹی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے جبکہ بحرین کے مختلف علاقوں میں خطرے کے سائرن بھی بجائے گئے۔

بحرینی وزارتِ داخلہ نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔

ادھر ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب ایک ایرانی آئل ٹینکر کو نشانہ بنائے جانے کے بعد پاسداران انقلاب نے ایک بحری جہاز پر میزائل حملہ کیا۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کی قیمت امریکا کو چکانا پڑے گی۔

متعلقہ مضامین

  • امریکی سفارت کاری نہیں، میزائلوں کی زبان سمجھتے ہیں، ایران
  • امریکا کا ایران پر نیا وار، 4 ایرانی شہریوں اور کرپٹو کمپنیوں پر سخت پابندیاں عائد
  • امریکا کیوں ایران سے ڈیل کی بھیک مانگ رہا ہے؟ امریکی ڈیموکریٹک سینیٹر کے وزیر خارجہ سے سخت سوالات
  • اسحاق ڈار کا کویتی وزیر خارجہ سے رابطہ‘ بیلجیئم میں تعینات پاکستانی سفیر کی ملاقات
  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟