ٹرینوں کے بڑھتے حادثات، گھنٹوں کی تاخیر کے باعث مسافروں نے بسوں کے ذریعے سفر کرنا شروع کردیا
اشاعت کی تاریخ: 24th, May 2025 GMT
ٹرینوں کے بڑھتے ہوئے حادثات، آمد اور روانگی میں کئی کئی گھنٹوں کی تاخیر اور ان کی اچانک منسوخی کی وجہ سے مسافروں نے بسوں کے ذریعے ایک شہر سے دوسرے شہر کا سفر کرنا شروع کردیا۔
پاکستان ریلویز سے ملنے والے اعداد وشمار کے مطابق گزشتہ ایک ماہ سے پاکستان ریلویز کراچی، فیصل آباد، راولپنڈی سمیت دیگر شہروں کو جانے اور آنے والی اپ اینڈ ڈاون ٹرینوں کو منسوخ کر رہا ہے۔
منسوخ ہونے والی ٹرینوں میں شاہ حسین، بزنس ایکسپریس، شالیماراپ ڈاون شامل ہیں، ان ٹرینوں کے مسافروں کو گرین لائن میں ایڈجسٹ کیا جارہا ہے جب کہ آئے روز ٹرینوں کے ڈی ریل اور حادثے کے باعث ٹرینوں کی آمدو رفت شدید متاثر ہو رہی ہے۔
ریلوے ذرائع کے مطابق ریلوے کا انفراسٹرکچر بھی انتہائی پرانا ہو چکا ہے، کئی شہروں اور علاقوں کے جانے والے ٹریک سو سال سے بھی پرانے ہیں جب کہ بروقت ان کی مرمت اور مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے ریل گاڑیوں کے ڈی ریل ہونے اور ٹرالی رکشہ اور دیگر ٹرانسپورٹ سے ریل گاڑیوں کے ٹکرانے کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے، یہی وجہ ہے کہ ریلوے سے سفر کرنے والے مسافروں کی تعداد کم ہو رہی ہے۔
اس کے علاوہ ریلوے سے سفر کرنے والے مسافروں کو سہولیات کی فراہمی کا بھی فقدان ہے، ریلوے اسٹیشن پر گندگی کے ڈھیڑ لگے ہوتے ہیں، واش روم بدبو دار اور صفائی نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے، ٹرینوں کی روانگی اور آمد میں کئی کئی گھنٹے کی تاخیر کی وجہ سے مسافروں کے لیے انتظار گاہیں نہ ہونے کے برابر ہیں اور جو ہیں وہ سو سال پرانی ہیں۔
اسٹیشن مسافروں کے لیے اور ان لوگ انہیں لینے یا چھوڑنے کے لیے آتے ہیں، ان کے لیے بھی مناسب جگہ نہیں جہاں آرام سے انتظار کر سکیں جب کہ ریلوے اسٹیشن پر ملنے والی کھانے پینے کی اشیاء خردونوش انتہائی ناقص اور مہنگی ترین ہیں۔
قلی سے لیکر کھانے پینے کی اشیاء فروخت کرنے والے مسافروں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے میں مصروف عمل ہیں۔
مسافر ریحان ہاشم بابر اعوان اقبال ملک نے ایکسپریس نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ کراچی جانا ہے ریلوے اسٹیشن پہنچ کر پتا چلا کہ ہماری ٹرین منسوخ کر دی گی، اب دوسری ٹرین میں ایڈجسٹ کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ بزنس ایکسپریس کی جگہ گرین لائن میں روانہ ہو نگے وہ بھی چار گھنٹے کی تاخیر سے مسافروں کے لیے انتظار کی جگہ نہیں، گرمی شدید ہے، کہاں جائیں؟ ریلوے سے سفر انتہائی دلکش ہوتا ہے مگر ریلوے اسٹیشن سے لیکر ٹرینوں کی حالت خود دیکھ لیں ہزاروں روپے خرچ کر کے بھی زلیل و خوار ہونا ہے اس تو بہتر ہے کوچ میں سفر کریں۔
حیران کن بات یہ ہے کہ وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی لاہور ریلوے اسٹیشن سمیت دیگر اسٹیشن کا بڑا تفصیلی دورہ کر چکے اچانک بھی وزٹ کیا اور ریلوے کے سی ای او سمیت دیگر اعلی افسران و ملازمین کو احکامات بھی جاری کیے۔
انہوں نے صفائی ستھرائی سے لیکر انتظار گاہوں اور کھانے پینے کی اشیاء کو اعلی کوالٹی کے معیار کے حساب سے فروخت کرنے کا حکم بھی دیا۔
پنجاب فوڈ اتھارٹی کے ساتھ مل کر ریلوے انتظامیہ نے ریلوے اسٹیشن پر چھاپے بھی مارے جرمانے بھی کیے واش روم پر پچاس روپے کی ٹکٹ بھی لگا دی مگر ان سب کے باوجود کسی حکم پر عملدرآمد نہیں ہوا، صرف چند روز صفائی ستھرائی نظر آئی اس کے بعد حالات جوں کے توں۔
بعض مسافروں نے یہ شکایت بھی کہ کہ دوران سفر جو کھانا ملتا ہے اس کا معیار انتہائی گھٹیا اور ناقص جبکہ قیمت فائیو اسٹار ہوٹل کی وصول کی جاتی ہے۔
جب اس سلسلے میں ریلوے انتظامیہ سے بات کی گی تو انکا کہنا تھا کہ ریلوے میں ہر سال ایک سیزن ایسا اتا ہے کہ مسافروں کی تعداد کم ہو جاتی ہے گرمی اپنی جگہ مگر ابھی اسکول کالج یونیورسٹی بند نہیں ہوئی جنہوں نے جانا ہوتا ہے وہ گرمی کی چھٹیوں کا انتظار کرتے ہیں جیسے ہی چھٹی ہوگی رش بڑھ جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ رہی بات سہولیات کی تو جو ممکن ہے وہ مسافروں کو دی جارہی ہے کھانے پینے کی اشیاء سے لیکر انتظار گاہوں کو بھی اپ گریڈ کیا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کھانے پینے کی اشیاء ریلوے اسٹیشن مسافروں کو ٹرینوں کے کی تاخیر کے لیے ا سے لیکر
پڑھیں:
سیاستدان امیر دوستوں کو مراعات دینا، غریبوں کی مدد ختم کرنا چاہتے ہیں: بلاول
اسلام آباد ( نمائندہ خصوصی) چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے سکردو کے مین بازار میں انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ انتخابی مہم میں آپ کے پاس آیا تھا اور جی بی کی ہر تحصیل میں گیا۔ ہمارا صرف سیاسی رشتہ نہیں بلکہ نسلوں کا ساتھ ہے۔ میں یہ مہم بھی گزشتہ انتخابی مہم کی طرح کرنا چاہتا تھا۔ گزشتہ انتخابات میں خوشی کا ماحول تھا لیکن اب ہم سب کے لئے غم کا ماحول ہے۔ ایران میں جو شہادتیں ہوئی ہیں، بچیوں کو شہید کیا گیا ہے یہ غم کا ماحول ہے۔ جس طرح رمضان میں آیت اللہ علی خامنہ ای کو، ان کی نواسی کے شہید کیا گیا وہ انتہائی قابل مذمت ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی امن پسند اور جنگ کے خلاف ہے۔ یہ کہانی ایران تک نہیں فلسطین اور لبنا ن میں بھی بے گنا ہ لوگوں کو شہید کیا گیا۔ فیلڈ مارشل امن کی جو کوشش کر رہے ہیں، ہم سب دعاگو ہیں کہ یہ کوشش کامیاب ہو۔ پوری مسلم دنیا اور دنیا بھر کے نوجوان اس جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ اس جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بے تحاشا بڑھ گئی ہے۔ اس لئے ہم اس جنگ کو ختم ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی پی پی کی سیاست باقی جماعتوں سے مختلف ہے۔ ہم پسماندہ طبقہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کو حقوق دیتے ہیں اور غریب کا سوچتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ملک کی ترقی پسماندہ طبقے کی ترقی سے ہے۔ باقی جماعتیں امیروں کو مزید امیر بنانے کی پالیسی اختیار کرتے ہیں اور اسے نام ترقی کا دیا جاتا ہے۔ صدر زرداری نے اپنے پہلے دور حکومت میں بی آئی ایس پی بنا کر روٹی، کپڑا اور مکان کو عملی شکل دی۔ بطور وزیرخارجہ مجھ سے دوسرے ممالک پوچھتے تھے کہ ہم بی آئی ایس پی کے ذریعے اپنے غریبوں کی بھی مدد کرنا چاہتے ہیں۔ بدقسمتی اس ملک کی یہ ہے کہ ہمارے سیاستدان اور سیاسی جماعتیں ایسی ہیں کہ وہ سوچتی ہیں کہ اپنے امیر دوستوں کے لئے مراعات کیسے دیں اور وہ بی آئی ایس پی کی غریبوں کی مدد ختم کرنا چاہتے ہیں۔ یہ بی آئی ایس پی کی مدد پورے ملک کے غریب عوام کو ملتی ہے۔ ماؤں کی دعاؤں کی وجہ سے ان کی بی آئی ایس پی کو ختم کرنے کی سازش ناکام ہوگی۔ وزیراعظم آنے والے بجٹ میں بی آئی ایس پی میں اضافے کا اعلان کریں گے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پی پی پی نے ملک کی دفاعی صلاحیت مضبوط کی ہے۔ اس وقت پاکستان واحد مسلم ایٹمی طاقت ہے اور کوئی پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھ نہیں سکتا۔ یہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے تحفہ دیا ہے۔ وہ گڑھی خدا بخش سے پاکستان کا دفاع کر رہے ہیں۔ شہید بی بی نے میزائل ٹیکنالوجی دی کہ وہ اس بم کو لے کر دشمن تک پہنچ سکتے ہیں۔ آج پاکستان کا دفاع اسی وجہ سے ناقابل تسخیر ہے۔ اس کے بعد مشرف کا دور گزرا کہ جب دوسرے ممالک کو Bases بنانے کی اجازت دی گئی۔ صدر زرداری نے سلالہ واقعے کے بعد سارے فوجی اڈوں کو بند کیا۔ ہمیں تین اصولوں حق حاکمیت ، حق ملکیت اور حق روزگار پر عمل کرنا ہوگا۔ یہ تب ہوگا جب اٹھارہویں ترمیم کے مطابق دیگر صوبوں کی طرح حقوق جی بی کو بھی ملیں۔ آپ کے پہاڑوں کے نیچے جو وسائل ہیں ان پر حق جی بی کے عوام کا ہے۔ وسائل پر پہلا حق جی بی کے عوام کا ہے اور اگر یہ حق ملکیت مل جائے تو پاکستان کی ترقی ہوگی جس طرح تھر کے کوئلے سے پورا پاکستان مستفید ہو رہا ہے۔ تھر کے منصوبے سے تھر کے عوام کو مفت بجلی دیتے ہیں۔ ہم نے تھر کے عوام کو تھر کول منصوبے میں ان کا شیئر دینا چاہا لیکن ان لوگوں نے پیسے لے لئے لیکن آپ کو اپنے وسائل میں شیئر لینا چاہیے۔ سی پیک کا سب سے بڑا منصوبہ تھرکول کا ہے۔ جب آپ کو حق ملکیت ملے گا تو آپ وسائل کے حصہ دار ہوں گے۔ ہماری سیاست عوام دوست اور غریب دوست ہے جبکہ دیگر لوگوں کی سیاست غریب دشمن اور امیردوست ہوتی ہے۔ اس لئے تیر پر مہر لگا کر غریب دوست حکومت بنائیں۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا میں جانتا ہوں کہ آپ کے ہاں بارشوں اور سیلاب سے بہت نقصان ہوتا ہے۔ سندھ میں بھی 2022 میں سیلاب آیا اور دو تہائی سندھ پانی کے نیچے چلا گیا۔ اس وقت سارے غریب لوگ مطالبہ کر رہے تھے کہ انہیں گھر بنا کر دئیے جائیں۔ یہ پاکستان کی پہلی حکومت جس نے غریب لوگوں کو گھر بنا کر دئیے۔ میں کسی صوبے سے نہیں عالمی سطح پر مقابلہ کرتا ہوں اور 20 لاکھ گھر بنانے کا منصوبہ دنیا میں سب سے بڑا منصوبہ ہے۔ 7 جون کو تیر پر مہر لگائی تو اسی طرح جی بی کی خواتین کو بھی گھر بنا کر دیں گے۔ سندھ کا این آئی سی وی ڈی، این آئی سی ایچ، ایس آئی یو ٹی اور ڈاؤ میڈیکل کالج سے لے کر گمبٹ تک دل، گردے، کینسر اور جگر کا علاج پورے پاکستان کے عوام کو مفت مہیا کرتے ہیں۔ دیگر صوبے ہسپتالوں کی نجکاری کرتے ہیں تاکہ ان کے امیر دوستوں کو فائدہ ہو۔ وسائل نہ ہونے کی وجہ سے کسی کو علاج سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ 7جون کو انشاء اللہ جی بی کے عوام باہر نکلیں گے اور تیر پر مہر لگا کر پیپلزپارٹی کی حکومت بنائیں گے تاکہ حق حاکمیت، حق ملکیت اور حق روزگار، مفت علاج کے ادارے اور گھر بنانے کا منصوبہ شروع ہو سکے۔ ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ سے جی بی کے عوام کی خدمت کریں گے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وہ پہلی مرتبہ آصفہ بی بی کو لے کر سکردو آئے ہیں اور اس امید کا اظہار کیا کہ جس طرح بلتستان کے عوام نے انہیں کبھی مایوس نہیں کیا اسی طرح بی بی آصفہ کو بھی مایوس نہیں کریں گے۔ خطاب کے آخر میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے عوام کے ساتھ مل کر پارٹی کے لئے نعرے لگوائے۔