افریقی ممالک کے ساتھ مشترکہ ترقی کے منصوبوں میں وسعت کا خواہاں ہے، فیصل کریم کنڈی
اشاعت کی تاریخ: 25th, May 2025 GMT
اسلام آباد:
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے افریقہ کے ساتھ پاکستان کی دوستی کو "دیرپا اور خلوص پر مبنی” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان افریقی ممالک کے ساتھ تجارت، تعلیم، ثقافتی تبادلے اور مشترکہ ترقی کے منصوبوں میں وسعت کا خواہاں ہے۔
اسلام آباد میں افریقہ ڈے کے موقع پر منعقدہ ایک پروقار تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے افریقی عوام اور افریقی ممالک کو یوم افریقہ پر دلی مبارکباد دی۔
انہوں نے کہا کہ اس سال کا موضوع "ہماری تاریخ پر نظر ثانی، ہمارے مستقبل کی تشکیل” نہ صرف افریقہ بلکہ پاکستان کے لیے بھی گہری اہمیت رکھتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ موقع ہمیں ماضی کی جدوجہد سے سبق سیکھ کر ایک بہتر اور مساوات پر مبنی مستقبل کی تعمیر کا پیغام دیتا ہے۔
فیصل کریم کنڈی نے افریقی اقوام کی ثقافتی ورثے، اتحاد اور خود انحصاری کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان، خاص طور پر خیبر پختونخوا، افریقہ کے ساتھ مشترکہ اقدار رکھتا ہے جن میں خودمختاری، ثقافتی تنوع، اور عوامی ترقی شامل ہیں۔
گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ پاکستان افریقی ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے اور مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کا خواہاں ہے۔
تقریب میں اقوامِ متحدہ کے ریزیڈنٹ کوآرڈینیٹر محمد یحییٰ، افریقی ممالک کے سفیروں، ہائی کمشنرز، اراکین پارلیمنٹ اور دیگر ممالک کے سفرا اور دیگر مہمانوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: افریقی ممالک کے فیصل کریم کنڈی کہ پاکستان کے ساتھ
پڑھیں:
وفاقی بجٹ 2026-27 میں شعبۂ تعلیم کے نئے ترقیاتی منصوبے بڑی حد تک نظرانداز
وفاقی بجٹ 2026-27 میں شعبۂ تعلیم کے نئے ترقیاتی منصوبے بڑی حد تک نظرانداز ہونے کا خدشہ ہے جب کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن اور وفاقی وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کے صرف 5 نئے ترقیاتی منصوبے سرکاری شعبہ ترقیاتی پروگرام میں شامل ہیں۔
ذرائع نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے دوران تعلیم کے شعبے کے لیے مجموعی طور پر 77 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز مختص کرنے کی تجویز ہے، ہائر ایجوکیشن کمیشن کے لیے 41 ارب 19 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، یہ رواں مالی سال کے مقابلے میں صرف ایک ارب 71 کروڑ روپے زیادہ ہیں۔
ذرائع نے کہنا تھا کہ دوسری جانب وفاقی وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کو ترقیاتی منصوبوں کے لیے 36 ارب روپے ملنے کی تجویز دی گئی ہے، وفاقی وزارتِ تعلیم کے تحت آزاد کشمیر، گلگت بلتستان، چترال اور سندھ میں دانش اسکولوں کے لیے آئندہ مالی سال میں 4 ارب 60 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم یوتھ اسکل ڈویلپمنٹ پروگرام کے لیے 3 ارب 29 کروڑ روپے جبکہ پاکستان ایجوکیشن اینڈومنٹ فنڈ کے لیے 3 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے، اسکل ڈویلپمنٹ پروگرام کے لیے 2 ارب 61 کروڑ روپے بھی سرکاری شعبہ ترقیاتی پروگرام کا حصہ ہوں گے۔
ہائر ایجوکیشن کمیشن کے 3 نئے منصوبوں کے لیے صرف 30 کروڑ روپے بطور ٹوکن رقم مختص کرنے کی تجویز ہے،41 ارب روپے سے زائد رقم کمیشن کے 135 جاری منصوبوں پر خرچ کی جائے گی، وفاقی وزارتِ تعلیم کے 2 نئے منصوبوں میں ڈیجیٹل لرننگ اور رول آؤٹ آف میٹرک ٹیک منصوبے بھی شامل ہیں، ان منصوبوں کے لیے 60، 60 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
ذرائع نے کہا کہ وزارتِ تعلیم اپنے 31 جاری ترقیاتی منصوبوں پر 34 ارب 80 کروڑ روپے خرچ کرے گی، مجموعی طور پر تعلیم کے شعبے میں نئے منصوبوں کے مقابلے میں جاری منصوبوں کو زیادہ ترجیح دی گئی ہے۔