متحدہ عرب امارات میں گرمی کا قہر، سویہان میں درجہ حرارت 51.6 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا پہنچا
اشاعت کی تاریخ: 25th, May 2025 GMT
ابوظہبی: متحدہ عرب امارات میں گرمی کی شدت نے نیا ریکارڈ قائم کر دیا، جب سویہان، العین میں درجہ حرارت 51.6°C ریکارڈ کیا گیا، جو کہ سال 2025 کا اب تک کا سب سے زیادہ درجہ حرارت ہے۔
نیشنل سینٹر آف میٹیورولوجی (NCM) کے مطابق یہ درجہ حرارت ہفتہ کی دوپہر 1:45 بجے ریکارڈ کیا گیا، جو ملک میں گرمیوں کے سیزن کی ایک شدید اور جلد شروعات کی نشاندہی کرتا ہے۔
یہ شدید گرمی 23 مئی کو ریکارڈ کیے گئے 50.
فلکیاتی طور پر موسمِ گرما 21 جون کو شروع ہوتا ہے جب سورج آسمان میں اپنی بلند ترین اور شمالی ترین پوزیشن پر پہنچتا ہے، جیسا کہ DAG کی آپریشنز مینیجر خدیجہ الحریری نے بتایا۔
یاد رہے کہ جولائی 2024 میں بھی سویہان میں 50.8°C ریکارڈ کیا گیا تھا، جس کے قریب موجودہ مئی کی گرمی پہنچ چکی ہے، جس پر موسمِ گرما کے آنے والے مہینوں کے حوالے سے تشویش بڑھ گئی ہے۔
حکام نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے، خاص طور پر جب درجہ حرارت 50 ڈگری سے تجاوز کر رہا ہو۔ شدید گرمی خاص طور پر بچوں، بزرگوں، حاملہ خواتین اور دائمی امراض کے مریضوں کے لیے سنگین خطرات پیدا کرتی ہے۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ شہری زیادہ پانی پئیں، دوپہر کے اوقات میں باہر جانے سے گریز کریں، اور موسمی اپ ڈیٹس کے لیے سرکاری ذرائع سے رجوع کرتے رہیں۔
Post Views: 2
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
محبوبہ مفتی کا نئی دلی سے مذاکرات کیلئے متحدہ سیاسی محاذ بنانے پر زور
انہوں نے لداخ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں لہہ اور کارگل کے رہنمائوں نے علاقائی اور مذہبی اختلافات کے باوجود مشترکہ طور پر اپنے حقوق اور آئینی تحفظات کے لیے آواز بلند کی۔ اسلام ٹائمز۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے سیاسی جماعتوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر ایک مشترکہ پلیٹ فارم تشکیل دیں تاکہ نئی دہلی کے ساتھ سیاسی مذاکرات کے لیے سازگار فضا قائم ہو سکے۔ذرائع کے مطابق سرینگر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ جموں و کشمیر کے سیاسی مسائل کے حل کا واحد راستہ بامعنی سیاسی مذاکرات اور مسلسل رابطہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو مشترکہ حکمتِ عملی اپناتے ہوئے ایک متحد موقف اختیار کرنا چاہیے۔ انہوں نے لداخ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں لہہ اور کارگل کے رہنمائوں نے علاقائی اور مذہبی اختلافات کے باوجود مشترکہ طور پر اپنے حقوق اور آئینی تحفظات کے لیے آواز بلند کی۔ انہوں نے کہا کہ اسی طرز پر جموں و کشمیر میں بھی ایک اجتماعی سیاسی نقطہ نظر اپنانے کی ضرورت ہے۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن جیسے پلیٹ فارمز کی طرز پر دوبارہ سیاسی اتحاد قائم کیا جانا چاہیے تاکہ مودی حکومت کے ساتھ مذاکرات شروع کئے جا سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مشکل اور کشیدہ حالات میں بھی سیاسی رابطے اور بات چیت کے دروازے کھلے رکھنے کی کوششیں جاری رہنی چاہیں۔ کشمیری عوام چاہتے ہیں کہ منتخب عوامی نمائندے ان کے سیاسی حقوق اور وقار کی بحالی کے لیے بھی کردار ادا کریں۔ محبوبہ مفتی نے کشمیری نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی مایوسی اور بیگانگی پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور اعتماد سازی کے اقدامات پر زور دیا۔ انہوں نے شہری علاقوں میں تعینات قابض بھارتی فورسز کی تعداد کم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کشمیری نظربندوں کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ریلیف فراہم کرنے کی بھی اپیل کی۔