بیجنگ :چین کے وزیر اعظم لی چھیانگ نے جکارتہ میں انڈونیشیا کے صدر پربووو کے ساتھ چائنا-انڈونیشیا بزنس عشایئے میں شرکت کی ۔ دونوں ممالک کی کاروباری برادری کے تقریباً 200 نمائندے بھی موجود تھے۔اتوار کے روز چینی میڈیانے بتایا کہ لی چھیانگ نے کہا کہ اس سال چین اور انڈونیشیا کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 75 ویں سالگرہ اور بانڈونگ کانفرنس کی 70 ویں سالگرہ ہے۔ 70 سال پہلے، دنیا ایک تاریخی سنگم پر تھی.

چین، انڈونیشیا اور دیگر ایشیائی اور افریقی ممالک بانڈونگ میں جمع ہوئے ، اور اتحاد ، دوستی اور تعاون پر مبنی بانڈونگ روح کی تشکیل دی گئی۔ آج 70 سال بعد دنیا ایک بار پھر ایک اہم موڑ پر کھڑی ہے۔ بانڈونگ کی اہمیت پہلے سے زیادہ ہے۔ ہمیں تاریخی ترقی کے عمومی رجحان کی پیروی کرنے کی ضرورت ہے، اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اتفاق کی تلاش کرنے ، امن بقائے باہمی، اختلافات کو مشاورت کے ذریعے حل کرنے ، تعاون کے ذریعے مشترکہ فوائد کے حصول کو فروغ دینے کی ضرورت ہے، تاکہ مشترکہ ترقی اور خوشحالی حاصل ہو سکے۔لی چھیانگ نے نشاندہی کی کہ حالیہ برسوں میں دونوں سربراہان مملکت کی اسٹریٹجک رہنمائی میں چین انڈونیشیا تعاون ایک نئی سطح پر پہنچ گیا ہے۔ دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری میں اضافہ ہو رہا ہے، باہمی اقتصادی اور تجارتی تعاون مضبوط سے مضبوط تر ہوتا جا رہا ہے،جس سے دونوں ممالک کے کاروباری اداروں اور عوام کو واقعی فائدہ پہنچا ہے اور عالمی معیشت میں مزید یقین پیدا ہوا ہے۔لی چھیانگ نے اس بات پر زور دیا کہ چین انڈونیشیا سمیت دیگر ممالک کے ساتھ ترقی کے مواقع کا اشتراک کرنے کا خواہاں ہے ، کھلے پن کو غیر متزلزل طور پر وسعت دے گا اور غیر ملکی کاروباری اداروں کے لئے چین میں سرمایہ کاری اور کاروبار کرنے کے لئے بہتر ماحول پیدا کرتا رہے گا۔ امید ہے کہ چین اور انڈونیشیا کی کاروباری برادری باہمی تعاون کو وسعت دینے، صنعتی انضمام کو مضبوط بنانے، آزاد تجارت کو برقرار رکھنے اور دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کے لئے مثبت اقدامات اٹھائے گی تاکہ مزید ثمرات حاصل ہوسکیں۔

Post Views: 4

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

صدر مملکت سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال

کراچی:

صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی بلاول ہاؤس کراچی میں ملاقات ہوئی جس میں بلوچستان میں امن و امان، ترقیاتی منصوبوں اور صوبے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

صدر ِمملکت نے بلوچستان میں ترقی کے عمل کو مزید تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور صوبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

انہوں نے بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت تیز کرنے کی ہدایت کی۔

صدر مملکت نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی، امن و امان کی صورتحال کو بہتر کرنے، عوامی فلاح اور صوبے میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے تمام متعلقہ ادارے مربوط انداز میں کام کریں۔

ملاقات میں صوبائی وزیرِ آبپاشی صادق عُمرانی، وزیرِ منصوبہ بندی و ترقی ظہور بلیدی، وزیرِ صحت میر بخت کاکڑ، وزیرِ لائیو اسٹاک سردار فیصل جمالی، وزیرِ صنعت و تجارت کویار ڈومکی، وزیرِ محنت غلام رسول عُمرانی اور پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان کے سینئر نائب صدر میر علی حسن زہری شریک تھے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
  • ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کا آغاز، اسحاق ڈار کی شرکت
  • صدر مملکت سے بلوچستان کے وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  •  صدر آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات
  • پاکستانی سفیر کی جانب سے پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ
  • صدر مملکت سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم