ڈیرہ اسماعیل خان میں فورسز کیساتھ فائرنگ کے تبادلے میں 4خوارجی دہشت گرد مارے گئے
اشاعت کی تاریخ: 25th, May 2025 GMT
ڈیرہ اسماعیل خان میں فورسز کیساتھ فائرنگ کے تبادلے میں 4خوارجی دہشت گرد مارے گئے WhatsAppFacebookTwitter 0 25 May, 2025 سب نیوز
ڈی آئی خان (آئی پی ایس )صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں فورسز کیساتھ فائرنگ کے تبادلے میں 4 دہشت گرد مارے گئے۔
تفصیلات کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خان کی تحصیل درازندہ میں پاک فوج اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا، اس دوران 4 دہشتگرد ہلاک ہوئے ہیں۔سیکورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے 3دہشت گردوں کی شناخت بہرام، مولانا بودان اور فاتح کے ناموں سے کرلی گئی، جب کہ چوتھے دہشتگرد کی شناخت نہیں ہو سکی۔سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو کلیئر کر کے سرچ آپریشن مکمل کر لیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والے دہشتگرد فورسز اور شہریوں پر حملوں سمیت دہشتگردی کی مختلف وارداتوں میں ملوث تھے، پاک فوج اور سیکیورٹی ادارے شہریوں کی حفاظت اور قیام امن کے لیے ملک بھر میں آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں۔یاد رہے کہ بھارت کیساتھ حالیہ کشیدگی کے بعد فتن الہندوستان کی پراکسی تنظیمیں پاکستان میں دہشتگردی کی سرگرمیوں کو بڑھانے کی کوشش کر رہی ہیں، بلوچستان کے ضلع خضدار میں اسکول بس پر حملے میں اب تک 7 طالبات اور ایک طالب علم سمیت 8 شہادتیں رپورٹ ہوچکی ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاکستان کو بھارت پر ٹیکنالوجی کے شعبے میں بھی برتری حاصل ہو گئی،احسن اقبال پاکستان کو بھارت پر ٹیکنالوجی کے شعبے میں بھی برتری حاصل ہو گئی،احسن اقبال حافظ عبدالکریم مرکزی جمعیت اہل حدیث کے بلا مقابلہ امیر منتخب معرکہ حق میں پاک فوج کی عظیم فتح پر نیا نغمہ جاری کر دیا گیا ڈیجیٹل پاکستان کی جانب بڑا قدم، بٹ کوائن مائننگ اور اے آئی ڈیٹا سینٹرز کیلئے 2000میگاواٹ بجلی مختص وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا ازبک ہم منصب سے رابطہ، علاقائی صورتحال پر گفتگو پاکستان بزنس فورم کا حکومت سے خطے کی صورتحال کے پیش نظر گروتھ بجٹ لانے کا مطالبہCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ڈیرہ اسماعیل خان
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔