خیبرپختونخوا: سیکیورٹی فورسز نے بھارتی حمایت یافتہ 9 دہشتگرد ہلاک کردیے
اشاعت کی تاریخ: 25th, May 2025 GMT
سیکیورٹی فورسز نے خیبرپختونخوا میں 3 الگ الگ کارروائیوں کے دوران بھارتی حمایت یافتہ 9 دہشتگردوں کو ہلاک کردیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے خیبرپختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر آپریشن کرتے ہوئے 4 دہشتگردوں کو ہلاک کیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق دوسری کارروائی ضلع ٹانک میں کی گئی جہاں فائرنگ کے تبادلے میں مزید 2 دہشتگردوں کو ہلاک کیا گیا۔
فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے بتایا کہ فورسز نے تیسری کارروائی ضلع خیبر کے علاقے میں کی، جہاں فائرنگ کے تبادلے میں 3 دہشتگرد مارے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ہلاک ہونے والے بھارتی حمایت یافتہ دہشتگردوں کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد ہوا ہے۔ یہ دہشتگرد ان علاقوں میں دہشتگردی کی کارروائیوں میں سرگرم تھے۔
آئی ایس پی آر نے بتایا کہ علاقے میں کسی بھی دہشتگرد کو ہلاک کرنے کے لیے کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں۔ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز ملک سے بھارتی حمایت یافتہ دہشتگردی کی لعنت کو ختم کرنے کے لیے پُرعزم ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews آئی ایس پی آر بھارتی حمایت یافتہ دہشتگرد ہلاک سیکیورٹی فورسز وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا ئی ایس پی ا ر بھارتی حمایت یافتہ دہشتگرد ہلاک سیکیورٹی فورسز وی نیوز بھارتی حمایت یافتہ سیکیورٹی فورسز ا ئی ایس پی ا ر فورسز نے کو ہلاک
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔