کراچی:

شہر قائد کے علاقے فیروزآباد تھانے کی حدود میں واقع شہید ملت روڈ پر ایک شہری کی بروقت جوابی کارروائی سے ڈکیتی کی واردات ناکام بنا دی گئی۔

کار سوار شہری کی فائرنگ سے ایک ڈاکو ہلاک جبکہ اس کے دو ساتھی موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

پولیس کے مطابق تین ڈاکو شہید ملت روڈ پر واقع ایک سپر اسٹور کے باہر شہریوں کو لوٹنے کے بعد موٹرسائیکل پر فرار ہو رہے تھے کہ اسی دوران ایک کار سوار شہری انس نے ان کا تعاقب کیا اور کچھ فاصلے پر عقب سے فائرنگ کی۔

فائرنگ کے نتیجے میں موٹرسائیکل کی پچھلی نشست پر سوار ڈاکو گولی لگنے سے موقع پر ہلاک ہو گیا، جس کی شناخت 27 سالہ عرفان کے نام سے ہوئی ہے۔ فرار ہونے والے دو ڈاکوؤں کی تلاش جاری ہے۔

مزید پڑھیں: کراچی، سرجانی ٹاؤن میں 8 رکنی مسلح ڈکیت گروہ کی دیدہ دلیری، ناکہ لگا کر شہریوں کو یرغمال بنا کر لوٹ لیا

واقعے کی اطلاع ملنے پر پولیس اور فارنزک ٹیم جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور شواہد اکٹھے کیے۔

ہلاک ڈاکو کی لاش ابتدائی طور پر چھیپا ایمبولینس کے ذریعے فیروزآباد تھانے منتقل کی گئی، بعد ازاں قانونی کارروائی کے بعد لاش جناح اسپتال منتقل کر دی گئی۔

پولیس کے مطابق ہلاک ملزم عرفان کا کرمنل ریکارڈ چیک کیا جا رہا ہے، جبکہ فرار ملزمان کی گرفتاری کے لیے سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر شواہد کی مدد سے تحقیقات جاری ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔

واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی: ملیر 15 میں رینجرز اور ایس آئی یو کی کارروائی، 3 بھتہ خور ہلاک
  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 5 ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار
  • مبینہ مقابلے‘ 45 سے زائد مقدمات کا ملزم گوجرانوالہ‘ 2 ڈ اکو پیر محل میں ہلاک 
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار 3 ڈاکو ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک 
  • کراچی، فیڈرل بی انڈسٹریل ایریا میں پولیس مقابلہ، 2 زخمی ڈاکو گرفتار، چھینی گئی موٹر سائیکل برآمد
  • کوہاٹ میں گاڑی پر فائرنگ سے کسٹم اہلکار شہید، ایک شخص زخمی
  • کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • کراچی، 7 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک