دیربالا میں غیرت کے نام پر خاتون اور اسکی 8 سالہ بیٹی سمیت 3 افراد قتل
اشاعت کی تاریخ: 26th, May 2025 GMT
پولیس کے مطابق واقعے کے بعد ملزم جائے وقوع سے فرار ہو گیا، جس کی تلاش کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ ملزم کو جلد گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ اسلام ٹائمز۔ دیربالا میں غیرت کے نام پر قتل کے اندوہناک واقعے میں خاتون اور اس کی 8 سالہ بیٹی سمیت 3 افراد کو فائرنگ کرکے مار دیا گیا۔ پولیس کے مطابق خیبر پختونخوا کے ضلع دیر بالا کے علاقے یباڑ کیجون میں غیرت کے نام پر افسوسناک واقعہ پیش آیا، جس میں ایک شخص نے اپنی بیوی، 8 سالہ بیٹی اور ایک نامعلوم شخص کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔ حملہ آور نے اپنی بیوی اور ایک شخص پر گولیاں برسائیں، جس کے نتیجے میں دونوں موقع پر ہی دم توڑ گئے جب کہ فائرنگ کی زد میں آ کر اس کی معصوم 8 سالہ بیٹی بھی جاں بحق ہو گئی۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری جائے وقوع پر پہنچی اور شواہد اکٹھے کیے۔ لاشوں کو تحویل میں لے کر مقامی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جب کہ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہے۔ پولیس کے مطابق واقعے کے بعد ملزم جائے وقوع سے فرار ہو گیا، جس کی تلاش کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ ملزم کو جلد گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا، افسوس ناک واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سالہ بیٹی
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔