ملتان (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 مئی2025ء) ایس ایم تنویر سرپرست اعلی فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی سربراہی میں پری بجٹ میٹنگ آف سٹینڈنگ کمیٹی برائے بحالی کاٹن صنعت(ایف پی سی سی آئی) کا اجلاس زیر صدارت زین افتخار چوہدری ریجنل چیئرمین پنجاب منعقد ہوا۔ اجلاس کو چیئرمین ملک طلعت سہیل نے کنوین کیا۔ پارلیمانی سیکرٹری رانا محمد سلیم اور چوہدری ضیاء الرحمن(ایم پی اے ) نے خصوصی شرکت کی۔

چیئرمین اپٹما کامران ارشد نے واضح طور پر روئی، دھاگے،کپڑے کو ای ایف ایس سے مبرا کرنے کا اظہار کیا۔میٹنگ میں موجود تمام شرکاء سنئیر ممبر پی سی جی اے ملک تنویر ارشد، چیئرمین ٹاسک فورس(ایف پی سی سی آئی ) شام لال منگلانی، چیئرمین ریڈی میڈ گارمنٹس ایسوسی ایشن شیخ ایاز الدین نے مقامی کپاس پر عائد اٹھارا فیصد سیلز ٹیکس کے خاتمے کو کپاس صنعت بحالی کے لیے ضروری قرار دیا۔

(جاری ہے)

اجلاس میں افواج پاکستان کے آپریشن بنیان مصرور کی کامیابی پر مسلح افواج کو بھرپور خراج تحسین پیش کیا گیا ،زراعت کی بحالی کے لیے SIFC کی خدمات کو سراہا گیا۔روئی کے بیج کی درآمد پر پابندی ہٹانے کے حکومتی اقدام کو کپاس بحالی کے لیے مثبت اقدام دیا۔
چیئرمین تارا گروپ ڈاکٹر خالد محمود، ڈی جی پنجاب انجم علی بٹر، چیف ایگزیکٹو نیلم سیڈ سید حسن رضا، نے کپاس کے بیج پر اظہار رائے دیا۔اجلاس میں پنجاب یونیورسٹی، کاٹن کونیکٹ، بیٹر کاٹن انیشیٹو اور دیگر اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے

پڑھیں:

طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم

ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ  کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔

متعلقہ مضامین

  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا