بلوچستان میں بھارتی اسپانسرڈ پراکسیز کی معاونت سے دہشتگرد کارروائیاں ایک بار پھر بے نقاب
اشاعت کی تاریخ: 26th, May 2025 GMT
بلوچستان میں بھارتی اسپانسرڈ پراکسیز کی معاونت سے دہشتگرد کارروائیاں ایک بار پھر بے نقاب WhatsAppFacebookTwitter 0 26 May, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)فتنہ الہندوستان بلوچستان میں کالعدم تنظیموں کے دہشت گردوں کی سرپرست اعلی بن گئی، معرکہ حق آپریشن بنیان مرصوص میں تاریخی شکست کے بعد مودی سرکار بوکھلاہٹ کا شکار ہو چکی۔
رپورٹ کے مطابق سیکیورٹی ذرائع نے کہا کہ بلوچستان میں بھارتی اسپانسرڈ پراکسیز کی معاونت سے دہشتگرد کارروائیاں ایک بار پھر بے نقاب ہو گئی ہیں، بھارتی خفیہ ایجنسیاں پراکسیز کو مالی معاونت فراہم کر تی ہیں۔سیکیورٹی ذرائع نے کہا کہ بھارتی سپانسرڈ پراکسیز نہ صرف حملوں کی منصوبہ بندی کرتی ہیں بلکہ کالعدم تنظیموں کو تربیت اور اسلحہ بھی فراہم کرتی ہیں، بھارتی اسپانسرڈ پراکسیز کے کالعدم تنظیموں کے علاج معالجے کے ساتھ ساتھ سرکاری روابط بھی قائم ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بھارتی حکومت کے ساتھ ساتھ بھارتی میڈیا بھی دہشتگردوں کی پشت پناہی میں پیش پیش رہا، پاکستان میں دہشتگردانہ حملوں کی خبر سب سے پہلے بھارتی میڈیا دیتا ہے۔سیکیورٹی ذرائع نے کہا کہ دہشتگردانہ حملے کی خبر بھارتی ذرائع ابلاغ کے اکاونٹس سے جاری ہوتی ہے جسے بھارتی میڈیا پروپیگنڈے کے طور پر استعمال کرتا ہے۔بھارتی چینلز کے اینکرز نے حکومت کو مشورہ دیا کہ کالعدم تنظیموں کا دفتر دہلی میں ہونا چاہیے، بھارتی حکومت ان کالعدم تنظیموں کو سرکاری سطح پر معاونت فراہم کرے تاکہ پاکستان کی علاقائی سالمیت اور داخلی خودمختاری کو نقصان پہنچایا جا سکے۔
سیکیورٹی ذرائع نے کہا کہ جنگی جنون میں مبتلا مودی سرکار اور بھارتی فوج نے خطے کے امن کو خطرے میں ڈال دیا۔دفاعی ماہرین کا کہنا تھا کہ فتنہ الہندوستان کا یہ رویہ نہ صرف علاقائی سلامتی کے لیے خطرہ ہے بلکہ انسانی حقوق کی بھی سنگین خلاف ورزی ہے، بین الاقوامی برادری ، فتنہ الہندوستان کی ریاستی دہشت گردی کا سختی سے نوٹس لے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرزیادہ سختی نہ کریں، ساس بھی کبھی بہو تھی، 9مئی جناح ہاوس حملہ کیس کے ملزم کی ضمانت منظور زیادہ سختی نہ کریں، ساس بھی کبھی بہو تھی، 9مئی جناح ہاوس حملہ کیس کے ملزم کی ضمانت منظور سعودی سپریم کورٹ نے عوام سے ذوالحجہ کا چاند دیکھنے کی اپیل کر دی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے 18کروڑ ، 40لاکھ پاس ورڈز لیک ہونے کا انکشاف،ایڈوائزری جاری عید قرباں پر راولپنڈی کے کن مقامات پر مویشی منڈیاں لگیں گی، تفصیلات سب نیوز پر عید الاضحی پر اسلام آباد میں 6مویشی منڈیاں قائم کرنے کی منظوری،نوٹیفکیشن جاری سول ملٹری تنخواہوں پر ابھی فیصلہ نہیں ہوا، تنخواہ دار طبقے کے ٹیکس میں کمی کے اقدامات کررہے ہیں، وزیر خزانہCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: بھارتی اسپانسرڈ پراکسیز بلوچستان میں
پڑھیں:
5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظاتپارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکاپارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکملعمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس