کراچی، پکنک کا سفر خوفناک خواب بن گیا، تیز رفتار کوسٹر الٹنے سے 7 افراد زخمی
اشاعت کی تاریخ: 26th, May 2025 GMT
کراچی:
شہر قائد سے دھابیجی کی جانب جانے والی ایک کوسٹر گھگھر پھاٹک کے قریب تیز رفتاری کے باعث الٹ گئی، جس کے نتیجے میں خواتین سمیت 7 افراد زخمی ہو گئے۔
حادثے کے بعد زخمیوں کو فوری طور پر ایدھی ایمبولینس کے ذریعے جناح اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔
ایدھی فاؤنڈیشن کے حکام کے مطابق حادثہ تیز رفتاری کے باعث پیش آیا، جب کوسٹر ڈرائیور گاڑی پر قابو نہ رکھ سکا اور وہ الٹ گئی۔ متاثرہ افراد تفریحی سفر پر کینجھر جھیل جا رہے تھے کہ یہ افسوسناک واقعہ پیش آ گیا۔
مزید پڑھیں: کراچی میں المناک حادثہ: ٹرالر کے نیچے سویا شخص ٹائروں تلے آکر جاں بحق
زخمیوں میں 18 سالہ باقر ولد عبدالغنی، 50 سالہ ممتاز زوجہ الطاف حسین، 30 سالہ انیلا دختر الطاف حسین، 19 سالہ عروبہ دختر محمد علی، 35 سالہ اشفاق ولد الطاف حسین، 27 سالہ بلال حسن ولد محمد حسن اور 45 سالہ فرینہ شامل ہیں۔
اسپتال ذرائع کے مطابق تمام زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر ہے، تاہم انہیں طبی نگرانی میں رکھا گیا ہے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔