گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کا دورہ بلوچستان، سانحہ خضدار کے زخمیوں کی عیادت
اشاعت کی تاریخ: 26th, May 2025 GMT
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی ایک روزہ دورے پر کوئٹہ پہنچ گئے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور گورنر فیصل کریم کنڈی نے سی ایم ایچ کوئٹہ میں سانحہ خضدار کے زخمیوں کی عیادت کی۔
وزیراعلیٰ بلوچستان نے سانحہ خضدار کے شہدا کے لیے 10، 10 لاکھ اور زخمیوں کے لیے 5، 5 لاکھ روپے کا اعلان کردیا۔
یہ بھی پڑھیے: خضدار: اسکول بس پر حملے میں زخمی مزید 2 طالبات دم توڑ گئیں، شہدا کی تعداد 8 ہوگئی
وزیر اعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا کہ فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے معصوم بچوں کو نشانہ بنا کر اپنی بزدلی کا ثبوت دیا ہے، بلوچستان کے لوگ امن پسند اور محب وطن ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم اپنے معصوم شہدا کے مقدس خون کے قرضدار ہیں اور ہمیں ان کی قربانی پر فخر ہے۔
وزیراعلیٰ نے یہ عزم دہرایا کہ مٹھی بھر دہشت گردوں اور ان کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملایا جائے گا اور شہید بچوں کے خون کے ایک ایک قطرے کا حساب لیا جائے گا۔
اس موقع پر گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے شہدا کے خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کیا اور زخمیوں کی عیادت کی۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمارا ملک اندرونی اور بیرونی دہشتگردی کا شکار ہے، ہماری افواج نےبیرونی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا ہے ایسے ہی ہماری بہادر فوج ان اندرونی تخریب کاروں کو بھی ان کے منطقی انجام تک پہنچائی گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: فیصل کریم کنڈی
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔