چینی صدر کا فودان یونیورسٹی کی 120ویں سالگرہ پر مبارکباد کا خط ،سماجی علوم ،ہنرمندی اور سائنس و ٹیکنالوجی پر زور دیا
اشاعت کی تاریخ: 26th, May 2025 GMT
چینی صدر کا فودان یونیورسٹی کی 120ویں سالگرہ پر مبارکباد کا خط ،سماجی علوم ،ہنرمندی اور سائنس و ٹیکنالوجی پر زور دیا WhatsAppFacebookTwitter 0 26 May, 2025 سب نیوز
کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی مرکزی کمیٹی کے جنرل سیکرٹری، چین کے صدر اور مرکزی فوجی کمیشن کے چیئرمین شی جن پھنگ نے 26 مئی کو چین کی فودان یونیورسٹی کی 120ویں سالگرہ پر مبارکباد کا خط بھیجا اور تمام اساتذہ، عملے اور سابق طلباء کو گرمجوشی سے مبارکباد پیش کی۔
شی جن پھنگ نے اپنے مبارکبادی خط میں کہا کہ 120 سال میں، فودان یونیورسٹی نے بڑی تعداد میں ممتاز ہنر مند افراد کو تربیت دی، کئی اصل تخلیقی کامیابیاں حاصل کیں، اور ملک کی تعمیر اور قوم کی ترقی میں فعال کردار ادا کیا۔
شی جن پھنگ نے زور دیا کہ نئے نقط آغاز پر، امید ہے کہ فودان یونیورسٹی مسلسل نئے دور کے چینی خصوصیت کے سوشلسٹ نظریے سے طلباء کی تربیت کرے، تعلیمی اور تحقیقی اصلاحات کو گہرا کرے، سائنس و ٹیکنالوجی میں خود انحصار جدت اور ہنر مند افراد کی پرورش کے مثبت تعامل کو فروغ دے، فلسفہ اور سماجی علوم میں علم، نظریہ اور طریقہ کار کی جدت کو آگے بڑھائے، اور ملک کی اہم حکمت عملی اور علاقائی اقتصادی و سماجی ترقی کے لیے خدمات کی صلاحیت کو مسلسل بہتر بنائے، تاکہ مضبوط ملک کی تعمیر اور قوم کے نشاۃ ثانیہ کے لیے نئی خدمات سرانجام دے ۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرراولپنڈی ڈویلپمنٹ اتھارٹی میں 1ارب 94 کروڑ کی کرپشن، نیب نے تحقیقات شروع کردیں سول ملٹری تنخواہوں پر ابھی فیصلہ نہیں ہوا، تنخواہ دار طبقے کے ٹیکس میں کمی کے اقدامات کررہے ہیں، وزیر خزانہ موڈیز کی جانب سے چین کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ کو برقرار رکھنا چین کی معیشت کے روشن مستقبل کی مثبت عکاسی ہے،چین کی وزارت... چینی وزیر اعظم کی انڈونیشیا کے صدر سے ملاقات، کثیرالجہتی امور پر بات چیت دیواریں تعمیر کرنے والے عظمت کے حقدار نہیں ہوتے، چینی میڈیا چین کی ای کامرس کی مستحکم ترقی کا رجحان برقرار چین نے ڈیجیٹل انٹیلی جنٹ سپلائی چین کی ترقی کو تیز کرنے کے لئے خصوصی ایکشن پلان جاری کر دیا
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: فودان یونیورسٹی
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔