میانوالی میں پرائمری سکول کے بچوں میں ڈرگ کے استعمال کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 26th, May 2025 GMT
پنجاب اسمبلی اجلاس میں اپوزیشن رکن کا اظہار خیال کرتے ہوئے کہنا تھا کہ میانوالی میں پرائمری سکول کے بچے چرس اور ہیروئن پی رہے ہیں، ہمیں بتایا جائے کہ چرس و ہیروئن جیسی لعنت میرے بچوں تک کیسے پہنچی۔؟ اسلام ٹائمز۔ میانوالی میں پرائمری سکول کے بچوں کے چرس اور ہیروئن پینے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔ پنجاب اسمبلی اجلاس میں اپوزیشن رکن اقبال خٹک نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ میرے علاقے کے سکولوں میں ڈرگ کا استعمال ہورہا ہے۔ انہوں نے گفتگو کرتے ہوئے خوفناک انکشاف کیا کہ میانوالی میں پرائمری سکول کے کے بچے چرس اور ہیروئن پی رہے ہیں، ہمیں بتایا جائے کہ چرس و ہیروئن جیسی لعنت میرے بچوں تک کیسے پہنچی۔؟ رکن صوبائی اسمبلی کا مزید کہنا تھا کہ پولیس نے کس حد تک اس لعنت کو پھیلنے سے روکا، لہٰذا اس منشیات کو پھیلانے والوں کا تدارک کیا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔