Islam Times:
2026-07-24@06:01:05 GMT

یکم جون کو پولنگ، پی پی 52 میں سیاسی گہما گہمی بڑھنے لگی

اشاعت کی تاریخ: 26th, May 2025 GMT

یکم جون کو پولنگ، پی پی 52 میں سیاسی گہما گہمی بڑھنے لگی

مسلم لیگ نون کے ممبر پنجاب اسمبلی کے انتقال کے بعد یہ سیٹ خالی ہوئی تھی، پی پی 52 سمبڑیال کے ضمنی الیکشن میں ٹوٹل 15 امیدوار حصہ لے رہے ہیں۔ الیکشن کیلئے مسلم لیگ نون کی جانب سے حنا ارشد وڑائچ کو ٹکٹ دیا گیا ہے، پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے فاخر گھمن امیدوار ہوں گے۔ اسلام ٹائمز۔ صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی پی 52 سمبڑیال کے ضمنی الیکشن کے قریب آتے ہی سیاسی گہما گہمی بڑھنے لگی۔ الیکشن کمیشن کے شیڈول کے مطابق پی پی 52 میں یکم جون کو پولنگ ہو گی، پی پی 52 میں ٹوٹل رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 2 لاکھ 96 ہزار 563 ہے۔ حلقہ میں مرد ووٹرز کی تعداد 1 لاکھ 57 ہزار 492 ہے، پی پی 52 میں خواتین ووٹرز کی تعداد 1 لاکھ 39 ہزار 71 ہے۔ پی پی 52 کے ضمنی الیکشن میں ٹوٹل پولنگ سٹیشن 185 ہوں گے، مردانہ پولنگ سٹیشنز کی تعداد 57، زنانہ 57 جبکہ مشترکہ پولنگ سٹیشن 71 ہوں گے۔

مسلم لیگ نون کے ممبر پنجاب اسمبلی چودھری ارشد وڑائچ کے انتقال کے بعد یہ سیٹ خالی ہوئی تھی، پی پی 52 کے ضمنی الیکشن میں ٹوٹل 15 امیدوار حصہ لے رہے ہیں۔ الیکشن کیلئے مسلم لیگ نون کی جانب سے حنا ارشد وڑائچ کو ٹکٹ دیا گیا ہے، پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے فاخر گھمن جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے راحیل کامران چیمہ امیدوار ہوں گے۔ تمام امیدواران بھر پور طریقے سے اپنی الیکشن کمپین چلا رہے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کے ضمنی الیکشن مسلم لیگ نون پی پی 52 میں کی جانب سے کی تعداد ہوں گے

پڑھیں:

کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔

اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔ 

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔ 

خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔ 

خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔  

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پارٹی‘ مرکزی مسلم لیگ‘ جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا اتحاد 
  • خیبر پی کے میں بلدیاتی انتخابات 2 مراحل میں ہونے کا امکان 
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن