اسلام آباد میں قوانین سخت؛ ٹریفک کی خلاف ورزی پر بھاری جرمانے، گاڑی تھانے منتقل ہوگی
اشاعت کی تاریخ: 27th, May 2025 GMT
اسلام آباد:
وفاقی دارالحکومت میں ٹریفک قوانین مزید سخت کردیے گئے، جن کے تحت خلاف ورزی پر بھاری جرمانوں کے ساتھ گاڑی بھی تھانے منتقل کی جائے گی۔
کیپٹل پولیس نے خلاف ورزیوں کے سدباب کے لیے نئی اور سخت حکمت عملی مرتب کر لی ہے۔ چیف ٹریفک آفیسر (سی ٹی او) کیپٹن (ر) ذیشان حیدر کا کہنا ہے کہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر اب بلا تفریق فوری کارروائی کی جائے گی۔
نئی پالیسی کے تحت بغیر ڈرائیونگ لائسنس، بغیر پرمٹ، کم عمر ڈرائیورز، لین وائلیشن، ون ویلنگ اور اوور لوڈنگ پر نہ صرف بھاری جرمانے عائد ہوں گے بلکہ گاڑی کو موقع پر ہی تھانے منتقل کر دیا جائے گا۔
سی ٹی او کے مطابق قوانین سب کے لیے یکساں ہیں۔ بغیر لائسنس ڈرائیونگ، کم عمر افراد کے گاڑی چلانے جیسے خطرناک عوامل برداشت نہیں کیے جائیں گے۔ عوام سے اپیل ہے کہ ٹریفک قوانین کی مکمل پابندی کریں تاکہ خود بھی محفوظ رہیں اور دوسروں کی جان و مال کو بھی خطرے سے بچایا جا سکے۔
ٹریفک پولیس کو ہدایت کی گئی ہے کہ خلاف ورزی کرنے والوں سے کوئی نرمی نہ برتی جائے اور ہر کیس پر موقع پر فوری ایکشن لیا جائے۔ اس اقدام کا مقصد سڑکوں پر ٹریفک نظم و ضبط کو یقینی بنانا اور حادثات کی شرح میں نمایاں کمی لانا ہے۔
سی ٹی او نے مزید کہا کہ شہری قانون کا احترام کریں اور مہذب شہری ہونے کا ثبوت دیں۔ یہ مہم کسی دباؤ یا اثر و رسوخ کے بغیر جاری رہے گی اور کسی کو چھوٹ نہیں ملے گی۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔