فرانسیسی صدر کی غیر ملکی دورے کے دوران اہلیہ کے ہاتھوں بدسلوکی کی وڈیو سوشل میڈیا پر وائرل
اشاعت کی تاریخ: 27th, May 2025 GMT
ہنوئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 27 مئی2025ء)فرانسیسی صدر ایمانویل میکروں کی غیر ملکی دورے کے دوران اپنی اہلیہ بریجٹ کے ہاتھوں بدسلوکی کی وڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے۔ میڈیارپورٹس کے مطابق جنوب مشرقی ایشیا کے دورے کے دوران فرانسیسی صدر ویتنام کے دارالحکومت ہنوئی میں اترنے کے بعد طیارے کے دروازے پر پہنچے خاتون اول نے ان نے زور سے ان کے منہ پر ہاتھ رکھ کر ان کو پیچھے کی طرف دھکا دیا۔
(جاری ہے)
فرانسیسی صدر اس کے فورا بعد کیمرے کی طرف متوجہ ہوئے اور انہوں نے اپنے استقبال کے لئے آنے والوں کی مسکراتے ہوئے ہاتھ ہلایا۔ بعد ازاں طیارے کی سیڑھیاں اترتے ہوئے فرانسیسی خاتون اول نے صدر کا ہاتھ تھامنے سے گریز بھی کیا۔ رپورٹ کے مطابق میکرون کے دفتر نے ابتدائی طور پر اس وڈیو کی تردید کی لیکن بعد میں اس واقعے کوصدر اور خاتون اول کے درمیان معمولی چھیڑ چھاڑ قرار دیتے ہوئے اسے نظر انداز کرنے کی کوشش کی۔بعد میں ایک صدارتی معاون نے بھی اس واقعہ کو ایک ازدواجی چھیڑ چھاڑ قرار دیا۔واضح رہے کہ فرانسیسی صدر اس دورے کے دوران انڈونیشیا اور سنگاپور بھی جائیں گے۔ ان کے دورے کا مقصد فرانس کو امریکہ اور چین کے مقابلے میں ایک قابل اعتماد پارٹنر کے طور پر پیش کرنا ہے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے دورے کے دوران
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔