Islam Times:
2026-07-24@10:58:45 GMT

مذمت اپنی جگہ دھندہ اپنی جگہ

اشاعت کی تاریخ: 27th, May 2025 GMT

مذمت اپنی جگہ دھندہ اپنی جگہ

اسلام ٹائمز: عام آدمی کا زور بس اتنا چل رہا ہے کہ وہ کسی ایسی فوڈ چین کے شیشے توڑ دے جس کے بارے میں بتایا جائے کہ اس کے ڈانڈے کسی اسرائیلی کمپنی یا سرمایہ کار سے ملتے ہیں۔ اصل بائیکاٹ تو ان ممالک کا ہونا چاہیئے جو اسرائیل کو مسلسل اسلحہ اور اقتصادی امداد دے رہے ہیں۔ مگر موجودہ عالمی بے حسی کے ماحول میں کوئی بھی ایسا ویسا مطالبہ دیوانے کی بڑ اور پاگل کے خواب جیسا ہے۔ تحریر: وسعت اللہ خان

یورپی ممالک غزہ کی لاش پر ’’ غم زدہ‘‘ بھی ہیں اور اشک بار آنکھوں کے ساتھ اسرائیل کے ہاتھ میں لہراتے ’’ ساختہِ مغرب‘‘ خنجر کی دھار تیز کرنے کی مشین بھی کاندھے پر اٹھائے ساتھ ساتھ چل رہے ہیں۔ جب سے روس نے یوکرین پر فوج کشی کی کوئی مغربی ملک روس سے کاروبار نہیں کر رہا۔ نسل کشی کے الزام میں انٹرنیشنل کرائم کورٹ کے وارنٹ نکلنے کے بعد یورپی یونین نے بھی ولادی میر پوتن پر سفری پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔

مگر اسرائیل کے بارے میں پابندیوں کا مطالبہ چھوڑ ایسے امکانات کے بارے میں سوالات اٹھانا بھی قابلِ تعزیر ’’یہود دشمنی‘‘ کے دائرے میں آتا ہے۔ گزشتہ ہفتے برطانیہ، فرانس اور کینیڈا نے بس اتنا ہی کہا تھا کہ ہم اسرائیل کے خلاف ’’سخت‘‘ اقدامات پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں کہ نیتن یاہو نے ان تینوں ممالک پر حماس نوازی اور یہود دشمنی کا فتوی داغ دیا۔ مغرب اسرائیل کی گالی کو محبوب کی گالی سمجھ کے کبھی بے مزہ نہیں ہوتا اور فلسطینی بھنوئیں بھی چڑھائیں تو قابلِ مذمت ہے۔

ٹسوے، مذمت، افسردگی اپنی جگہ دھندہ اپنی جگہ۔ گزشتہ برس اسرائیل نے دنیا سے لگ بھگ ایک سو تریپن ارب ڈالر کی تجارت کی۔ اس عرصے میں امریکا نے اسرائیل سے سترہ ارب ڈالر سے زائد کا سامان خریدا۔ دوسرے نمبر پر چین اور ہانک کانگ نے مجموعی طور پر چھ ارب ڈالر کی اسرائیلی مصنوعات خریدیں۔ تیسرے نمبر پر آئرلینڈ نے تقریباً تین ارب ڈالر سے زائد کی مصنوعات منگوائیں۔ (ویسے آئرلینڈ دو ریاستی حل کے پرجوش حامیوں میں شامل ہے)۔

اسرائیل کی برآمدی مصنوعات میں ہیرے، ہائی ٹیک الیکٹرونکس بشمول انٹیگریٹڈ سرکٹس، آپٹیکل اور ٹیلی کمیونکیشن آلات، کیمیکل مصنوعات، بھاری مشینری بشمول زرعی و طبی آلات و ادویات شامل ہیں۔ (اسرائیل کی ٹیووو فارماسوٹیکل دس بڑی عالمی دوا ساز کمپنیوں میں شامل ہے)۔ اسرائیل ہیروں کی تجارت کا بھی کلیدی بین الاقوامی مرکز ہے (خام ہیرے افریقہ سمیت متعدد خطوں سے درآمد کر کے ان کی تراش خراش اور تجارت کی جاتی ہے)۔

یوں سمجھیے کہ گزشتہ برس اسرائیل نے ایک سو سترہ ممالک کو اپنا مال فروخت کیا۔ ان ممالک میں امریکا، چین اور آئرلینڈ کے بعد علی الترتیب ہالینڈ، جرمنی، بھارت ، برطانیہ، بلجئیم، فرانس، اٹلی، برازیل، اسپین، جنوبی کوریا اور جاپان بھی شامل ہیں۔ جب کہ اسرائیل نے جن ممالک سے سال انیس سو چوبیس میں تقریباً بانوے ارب ڈالر کی مصنوعات خریدیں اس فہرست میں چین (انیس ارب ڈالر)، امریکا (ساڑھے نو ارب ڈالر)، جرمنی (ساڑھے پانچ ارب ڈالر) سمیت ایک سو بانوے ممالک شامل ہیں۔

چین نے زیادہ تر الیکٹرونک گاڑیاں، کمپیوٹر، موبائل فون اور دھاتیں فروخت کیں۔ جب کہ امریکا نے گولہ بارود، خام ہیرے، الیکٹرونکس اور کیمیکل مصنوعات فروخت کیں (اربوں ڈالر کے سامان حرب کی امداد و فروخت کی تفصیلات الگ ہیں)۔ جرمنی سے اسرائیل نے گزشتہ برس فوجی سامان کے علاوہ گاڑیاں، الیکٹرونکس، مشینری، ادویاتی مصنوعات خریدیں۔ ترکی سالِ گزشتہ اسرائیل کو اشیا فروخت کرنے والے ممالک کی فہرست میں پانچویں، روس چھٹے، فرانس ساتویں، جنوبی کوریا آٹھویں، بھارت نویں، اسپین دسویں، برطانیہ گیارہویں، جاپان بارہویں، ہالینڈ تیرہویں، ویتنام چودھویں اور سوئٹزرز لینڈ پندرھویں نمبر پر رہا۔

سال دو ہزار چوبیس میں اسرائیل نے باقی دنیا کو باسٹھ ارب ڈالر مالیت کی جو اشیا اور مصنوعات فروخت کیں ان میں اٹھارہ ارب ڈالر کی الیکٹریکل مشینری، الیکٹرونکس ، مکینیکل آلات ، دس ارب ڈالر کی کیمیکل اور فارماسوٹیکل مصنوعات ، نو ارب ڈالر کے قیمتی جواہرات و زیورات ، سات ارب ڈالر کے آپٹیکل ، ٹیکنیکل اور طبی آلات اور پانچ ارب ڈالر کی معدنیات شامل ہیں۔

اسلحے کی عالمی تجارت میں دو ہزار بیس تا چوبیس اسرائیل کا حصہ تین اعشاریہ ایک فیصد رہا۔ یعنی وہ اسلحہ فروخت کرنے والے ممالک کی فہرست میں علی اترتیب امریکا، فرانس، روس، چین، جرمنی، اٹلی اور برطانیہ کے بعد آٹھویں نمبر پر ہے۔ یہ ترقی یوں حیرت انگیز ہے کہ دو ہزار نو تا تیرہ کے پانچ برس میں اسرائیل اسلحہ فروخت کرنے والے ممالک کی فہرست میں سینتالیسویں نمبر پر تھا۔ (گزشتہ چار برس میں بھارت نے ساختہ اسرائیل چونتیس فیصد، امریکا نے تیرہ فیصد اور فلپینز نے آٹھ فیصد اسلحہ خریدا)۔

جب کہ اسرائیل دو ہزار انیس سے تئیس کے درمیان اسلحہ خریدنے والے ممالک کی فہرست میں پندھرویں نمبر پر رہا۔ امریکا اسرائیل کی انسٹھ فیصد اسلحہ جاتی ضروریات پوری کرتا ہے۔ جرمنی تیس فیصد اسلحہ فراہم کرتا ہے۔ اس کے بعد اٹلی، فرانس، برطانیہ اور اسپین لگ بھگ ایک فیصد دفاعی آلات و فاضل پرزے فراہم کرتے ہیں (اسپین نے گزشتہ برس اسلحہ کی فروخت معطل کردی مگر یہ فروخت ویسے بھی آٹے میں نمک کے برابر تھی)۔

لبِ لباب ان گذارشات کا یہ ہے کہ اس دنیا میں اسرائیلی نسل کشی کے خلاف شور محض عوامی سطح پر جلسے جلوسوں اور سوشل میڈیا کے ذریعے ہو رہا ہے۔ جب کہ ریاستیں محض خانہ پری کی حد تک لب ہلا رہی ہیں۔ اسرائیل سے اقتصادی تعلقات میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آئی اور نہ ہی اسرائیل کو گزشتہ ڈھائی برس میں کسی شے کی قلت محسوس ہونے دی گئی۔ حتی کہ درآمد و برآمد کا نقشہ بھی غزہ کی نسل کشی سے پہلے کے نقشے سے کہیں بہتر دکھائی دے رہا ہے۔

عام آدمی کا زور بس اتنا چل رہا ہے کہ وہ کسی ایسی فوڈ چین کے شیشے توڑ دے جس کے بارے میں بتایا جائے کہ اس کے ڈانڈے کسی اسرائیلی کمپنی یا سرمایہ کار سے ملتے ہیں۔ اصل بائیکاٹ تو ان ممالک کا ہونا چاہیئے جو اسرائیل کو مسلسل اسلحہ اور اقتصادی امداد دے رہے ہیں۔ مگر موجودہ عالمی بے حسی کے ماحول میں کوئی بھی ایسا ویسا مطالبہ دیوانے کی بڑ اور پاگل کے خواب جیسا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ارب ڈالر کی کے بارے میں اسرائیل کو اسرائیل کی اسرائیل نے گزشتہ برس شامل ہیں اپنی جگہ فروخت کی رہے ہیں کے بعد رہا ہے

پڑھیں:

کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری

پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایران میں تعمیر نو کی رفتار پر اسرائیل حیران ہے، وال اسٹریٹ جرنل
  • ایران جنگ، امریکی اسلحہ ذخائر کی بحالی میں 5 سال لگ سکتے ہیں، سابق پینٹاگون عہدیدار
  • بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کا بڑا آپریشن، 4 دہشت گرد ہلاک، اسلحہ اور سہولت کار بھی پکڑے گئے
  • مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
  • کراچی، فیڈرل بی انڈسٹریل ایریا میں پولیس مقابلہ، 2 زخمی ڈاکو گرفتار، چھینی گئی موٹر سائیکل برآمد
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ