ڈالر کی پشت پناہی سے قائم عالمی معاشی نظام ’ٹوٹ پھوٹ کا شکار‘ ہے، صدر یورپی بینک
اشاعت کی تاریخ: 27th, May 2025 GMT
یورپی مرکزی بینک کی صدر کرسٹین لاگارڈ نے کہا ہے کہ امریکی ڈالر کی پشت پناہی سے قائم عالمی معاشی نظام ’ٹوٹ پھوٹ کا شکار‘ ہو رہا ہے، انہوں نے یورو کو عالمی ذخیرہ کرنسی کے طور پر پیش کرنے کی حمایت کی۔
ڈان اخبار میں شائع فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق برلن میں ہرٹی اسکول میں ایک تقریر کے دوران انہوں نے کہا کہ امریکا کی قیادت میں عالمی معیشت نے کھلے پن اور کثیرالجہتی پر مبنی بنیاد پر ترقی کی۔
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن کے قواعد پر مبنی بین الاقوامی نظام اور ڈالر کی ریزرو کرنسی کے طور پر حمایت نے تجارت کو فروغ دینے اور مالیاتی نظام کو وسعت دینے کے لیے بنیاد فراہم کی۔
کرسٹین لاگارڈ نے کہا کہ گزشتہ 80 برسوں سے امریکا کی قیادت میں قائم اس معاشی نظام نے یورپی یونین کو بے حد فوائد پہنچائے، لیکن آج یہ نظام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔
یورپی مرکزی بینک کی صدر کا یہ بیان بظاہر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اہم شراکت داروں پر بڑے پیمانے پر ٹیرف عائد کرنے کی دھمکیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی عالمی تجارتی کشیدگی کی طرف اشارہ تھا۔
کرسٹین لاگارڈ نے کہا کہ عالمی معاشی نظام کی تحلیل یورپ کے لیے خطرات پیدا کرے گی۔
Post Views: 3.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: نے کہا کہ
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔