پاکستان میں کرپٹو کرنسی کا نیا نظام متعارف، قومی سطح پر بٹ کوائن ذخائر قائم کرنے کا منصوبہ
اشاعت کی تاریخ: 11th, July 2025 GMT
پاکستان نے کرپٹو کرنسی اور بلاک چین کے شعبے میں اہم پیشرفت کرتے ہوئے بٹ کوائن ذخائر کے قیام اور ڈیجیٹل اثاثوں کو قومی نظام کا حصہ بنانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:’دنیا کو ٹیسلا اور ٹرمپ ایک ہی گروپ چیٹ میں چاہییں‘،بلال بن ثاقب کی ایلون مسک کے والد سے ملاقات
نیویارک کے آزاد میڈیا پلیٹ فارم ’کوائن ٹیلی گراف میگزین‘ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرپٹو اثاثوں کی بڑھتی ہوئی اہمیت کے پیش نظر ایک نیا کرپٹو نظام متعارف کرایا جا رہا ہے، جس کے تحت ملک میں موجود بٹ کوائنز کو قومی ذخیرے میں شامل کیا جائے گا۔
پاکستان کرپٹو کونسل کے سی ای او اور وزیر مملکت بلال بن ثاقب کے مطابق یہ اقدام مالی استحکام کی جانب ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں:کیا پاکستان کرپٹو کرنسی میں واقعی بھارت کے مقابلے میں آگے نکل گیا ہے؟
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنے بٹ کوائن ذخائر سے ڈی فائی (DeFi) پروٹوکولز کے ذریعے آمدن حاصل کرے گا۔ اس نظام کے تحت مالی سرگرمیاں جیسے قرضہ جات اور لین دین بغیر کسی بینک کے مکمل کیے جا سکیں گے۔
رپورٹ کے مطابق وزارت خزانہ، اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP) مل کر ایک مضبوط کرپٹو فریم ورک کی تشکیل کریں گے تاکہ ڈیجیٹل معیشت کو محفوظ اور مستحکم بنایا جا سکے۔
بلال بن ثاقب نے مائیکرو اسٹریٹیجی کے بانی اور ایگزیکٹو چیئرمین مائیکل سیلر سے ملاقات بھی کی، جس میں انہیں پاکستان کے اسٹریٹجک بٹ کوائن ریزرو کے لیے مشیر بننے کی پیشکش دی گئی۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ 2024 میں پاکستان کرپٹو کرنسی اپنانے کی رفتار کے لحاظ سے دنیا بھر میں نویں نمبر پر رہا، جو اس شعبے میں پاکستان کی سنجیدہ کوششوں کا مظہر ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بٹ کوائں بلال بن ثاقب پاکستان کرپٹو کرنسی کوائن ٹیلی گراف میگزین.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بٹ کوائں بلال بن ثاقب پاکستان کرپٹو کرنسی پاکستان کرپٹو بلال بن ثاقب کرپٹو کرنسی بٹ کوائن
پڑھیں:
وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) ملک بھر میں جعلی دواؤں کا خاتمہ یقینی بنانےکے لیے وفاقی کابینہ نے دواؤں کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دیدی۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس حوالے سے کہا کہ ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی منظوری دے دی گئی ہے، یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی دواؤں کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔
انہوں نے کہا کہ پہلی بار ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، اس نظام کے تحت جعلی، غیرمعیاری اور نقلی دواؤں کی نشاندہی اور ان کا خاتمہ ممکن ہوگا، نظام کے نفاذ سے عام صارف بآسانی دوا کی میعاد اور قیمت کی مستند معلومات لے سکےگا۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
وفاقی وزیر نے کہا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی، نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں، یہ اہم فیصلہ دواوں کی سپلائی چین کو محفوظ اور معیاری بنانے کیلئے کیا ہے۔
مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا پاکستان میں دواؤں کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے، ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی دواؤں کے خلاف مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی، پاکستان خطے میں جدید ٹیکنالوجی اپنانے والا نمایاں ملک بن کر سامنے آئے گا، اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گا۔
پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر
مزید :