پیپلز پارٹی کے کارکنوں پر شیلنگ کے احکامات میں نے نہیں دیئے: علی امین گنڈاپور
اشاعت کی تاریخ: 27th, May 2025 GMT
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کے کارکنوں پر شیلنگ کے احکامات میں نے نہیں دیئے، ہم نے صوبے میں کسی کو جلسے سے نہیں روکا، عالمی مالیاتی ادارے نے صرف خیبرپختونخوا صوبے کی کارکردگی کو سراہا ہے، آئی ایم ایف نے کہا کے پی نے اپنے اہداف حاصل کئے ۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علی امین گنڈاپور نے کہا کہ وفاق اور باقی صوبوں نے آئی ایم ایف سے متعلق اپنا کام کیوں نہیں کیا؟ ہمارا 200 ارب سے زائد کا سرپلس ہے، سندھ، پنجاب نے سرپلس کیوں نہیں دیا؟، وفاق کیوں قرضے لے رہا ہے؟۔وزیراعلیٰ کے پی نے کہا کہ ہم نے صوبے میں کسی کو جلسے سے نہیں روکا، پیپلز پارٹی کے کارکن ریڈ زون میں داخل ہوگئے تھے، ریڈ زون کے قواعد و ضوابط (ایس او پیز)توڑنے پر شیلنگ کی گئی۔انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کے کارکنوں پر شیلنگ کے آرڈر میں نے نہیں دیئے ۔انہوںنے کہا کہ بانی پاکستان تحریک انصاف پر کوئی کیس نہیں، وہ بیگناہ جیل میں قید بھگت رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
این سی سی آئی اے کے افسران کو فرائض کی انجام دہی سے نہ روکا جائے، اسلام آباد ہائیکورٹ
فائل فوٹو۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے تحریری حکم نامہ میں کہا گیا ہے کہ این سی سی آئی اے کے افسران کو فرائض کی انجام دہی سے نہ روکا جائے، ملازمین کے خلاف کسی بھی تادیبی کارروائی سے روکنے کا حکم امتناع برقرار ہے۔
عدالت عالیہ کے جسٹس اعظم خان نے متاثرہ افسران کی درخواست پر سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا۔ این سی سی آئی کے کانٹریکٹ ملازمین نے مستقلی کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا ہے۔
عدالت عالیہ کے مطابق این سی سی آئی اے حکام کی جانب سے جواب داخل کرانے کیلئے مزید مہلت کی استدعا کی گئی۔
حکم نامہ کے مطابق درخواست گزاروں کے وکلا نے فریقین کو جواب داخل کرانے کیلیے مزید مہلت دینے کی مخالفت کی، وکیل نے کہا 13 فروری کو پہلی سماعت کے بعد سے جواب جمع کرانے کے متعدد مواقع دیے گئے۔
تحریری حکم نامے کے مطابق فریقین کے وکلا نے ہر سماعت پر مختلف حیلے بہانوں سے التوا کی درخواست کی، وکیل نے کہا کہ تاخیری حربوں کے باعث درخواست گزاروں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے۔
عدالت عالیہ کے مطابق این سی سی آئی اے حکام کو 30 جولائی سے قبل جواب جمع کرانے کی مہلت دی جاتی ہے، آئندہ سماعت تک جواب داخل نہ کرایا گیا تو دستیاب ریکارڈ پر کیس کا فیصلہ کر دیا جائے گا۔
تحریری حکم نامے کے مطابق اتنے پڑھے لکھے اور تجربہ کار افراد کو کام سے روکنا زیادتی ہے، فریقین کو ہدایت کی جاتی ہے کہ درخواست گزار افسران کے قانون کے مطابق کام میں رکاوٹ نہ ڈالی جائے۔
عدالت نے کیس کی مزید سماعت 30 جولائی تک ملتوی کر دی۔