آزاد کشمیر، خیبر پختونخوا میں بارشیں اور ژالہ باری؛ خاتون جاں بحق، متعدد لا پتہ، کئی زخمی
اشاعت کی تاریخ: 27th, May 2025 GMT
ملک کے بیشتر علاقوں میں بارش اور ژالہ باری کا سلسلہ جاری ہے، مظفرآباد کے نواحی علاقے بلگراں میں بادل پھٹنے (کلاؤڈ برسٹ) کے باعث ایک خاتون جاں بحق جبکہ متعدد افراد لاپتہ ہو گئے۔ پشاور کے علاقے متنی میں ہوٹل کی چھت گرنے تین افراد زخمی ہوئے۔ آئندہ چوبیس گھنٹوں میں پنجاب اور کے پی میں مزید بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ بلوچستان کے ضلع قلعہ عبداللہ، پشین، قلعہ سیف اللہ، لورالائی میں بھی آندھی اور مٹی کا طوفان آیا۔
ملک کے بیشترمیں شہروں میں شدید گرمی کے بعد بارشوں اور ژالہ باری کا سلسلہ شروع ہو گیا ، بعض علاقوں میں آندھی، طوفان اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث معمولاتِ زندگی متاثر ہو رہے ہیں۔
مظفرآباد میں کلاؤڈ برسٹ، خاتون جاں بحق، متعدد افراد لاپتہ
مظفرآباد کے نواحی علاقے بلگراں میں بادل پھٹنے (کلاؤڈ برسٹ) کے باعث ایک خاتون جاں بحق جبکہ متعدد افراد لاپتہ ہو گئے۔ ایس ڈی ایم اے کے مطابق کلاؤڈ برسٹ مگری مالی اور لیسوا کے علاقوں میں ہوا۔
واقعے کے بعد ریسکیو ٹیموں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے لاپتہ خاتون کی لاش ملبے سے نکال لی، جب کہ دیگر لاپتہ افراد کی تلاش کا عمل جاری ہے۔
ڈائریکٹر ایس ڈی ایم اے کے مطابق کلاؤڈ برسٹ کے باعث چار مکانات اور ایک مسجد کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ کوئیک رسپانس ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ چکی ہیں اور امدادی آپریشن جاری ہے۔
خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع بشمول پشاور، سوات، مانسہرہ، شانگلہ، باڑہ، لنڈی کوتل، بالاکوٹ اور وادیٔ کاغان میں موسلا دھار بارش اور ژالہ باری سے گرمی کا زور ٹوٹ گیا۔ پشاور کے علاقے متنی میں ہوٹل کی چھت گرنے سے تین افراد زخمی ہو گئے۔
سوات کے علاقوں مینگورہ، مالم جبہ اور کالام میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش جبکہ شانگلہ کے الپوری اور گردونواح میں شدید ژالہ باری ریکارڈ کی گئی۔
ہری پورکی تینوں تحصیلوں میں تیز آندھی اور طوفان ہلکی بارش ، تیزی اندھی سے درخت اوربجلی کے کھمبے اکھڑ گئے۔
ایبٹ آباد اور گردونواح میں طوفانی بارش کے باعث موسم خوشگوار ہو گیا، تاہم ندی نالوں میں طغیانی سے مانسہرہ روڈ پر ٹریفک جام ہو گیا۔
محکمہ موسمیات کے مطابق بارشوں کا سلسلہ آئندہ چوبیس گھنٹوں تک وقفے وقفے سے جاری رہے گا۔
ملکہ کوہسار مری میں بھی طوفانی بارش کا سلسلہ جاری ہے، جہاں کالی گھٹاؤں نے دن کو رات میں بدل دیا ہے۔ شدید بارش سے موسم سرد ہو گیا ہے جبکہ بجلی کا نظام متاثر ہوا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق مری اور گردونواح میں یکم جون تک بارش کا امکان ہے۔
اسلام آباد میں تیز جھکڑ کے باعث درخت گر گئے، نیشنل پریس کلب میں ایک بڑا بل بورڈ آ گرا۔ جس کے بعد ڈی سی اسلام آباد نے تمام بڑے بل بورڈز فوری طور پر ہٹانے کی ہدایت جاری کر دی۔
اسسٹنٹ کمشنرز کو نشیبی علاقوں پر خصوصی نظر رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے، جبکہ ممکنہ طوفانی بارشوں کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ کی ٹیمیں فیلڈ میں موجود ہیں۔
بلوچستان کے علاقوں قلعہ عبداللہ، پشین، قلعہ سیف اللہ اور لورالائی میں بھی آندھی اور مٹی کے طوفان نے نظام زندگی متاثر کیا۔
ادھر کوہستان کے علاقے لوئر کوہستان میں شاہراہِ قراقرم پر طغیانی اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث مختلف مقامات پر بند ہو گئی ہے۔
کھیدر نالہ، نالہ جیجال بازار اور آبشار نالہ کے مقامات پر شدید مٹی کے تودے گرنے سے سڑک ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند ہے۔
ڈی پی او کوہستان نے تمام تھانوں اور چوکیوں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی ہے، اور سیاحوں و مسافروں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا عمل جاری ہے۔
محکمہ موسمیات نے آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران پنجاب اور خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں مزید بارش کی پیشگوئی کی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اور ژالہ باری خاتون جاں بحق علاقوں میں کے مطابق کا سلسلہ جاری ہے کے باعث ہو گیا ا ندھی
پڑھیں:
گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں کے باعث آنے والے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے نظامِ زندگی مفلوج کر دیا، متعدد شاہراہیں، پل اور رابطہ سڑکیں بہہ جانے سے ہزاروں افراد، جن میں سیاح بھی شامل ہیں، مختلف علاقوں میں پھنس گئے۔
محکمہ موسمیات نے 26 جولائی تک گلگت بلتستان میں مزید بارشوں کی پیش گوئی کرتے ہوئے گلیشیائی جھیلیں پھٹنے سے اچانک سیلاب آنے کے خطرے سے خبردار کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پورا ہفتہ موسلا دھار مون سون بارشیں، محکمہ موسمیات کا ملک گیرالرٹ، شہریوں کو احتیاطی تدابیر اپنانے کا انتباہ
گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق قراقرم شاہراہ داسو سے ہنزہ اور نگر تک کئی مقامات پر بند ہے، جبکہ بابوسر روڈ، بلتستان روڈ، نلتر شاہراہ، غذر۔شندور روڈ، استور ویلی روڈ اور دیگر اہم راستے بھی سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے ناقابلِ استعمال ہوگئے ہیں۔
مسلسل سیلابی صورتحال کے باعث امدادی اور بحالی کی سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں، جبکہ کئی علاقے پل اور رابطہ سڑکیں تباہ ہونے کے بعد ملک کے دیگر حصوں سے منقطع ہو گئے ہیں۔
روندو سب ڈویژن کے تورمک نالہ میں شدید سیلاب سے کم از کم تین اہم پل، جن میں ملان پل بھی شامل ہے، بہہ گئے۔ خرمانگ، گانچھے اور شگر اضلاع میں سڑکوں، پلوں، زرعی زمینوں، فصلوں اور بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے، جبکہ ہراموش میں معلق پل اور بجلی گھر متاثر ہوئے ہیں۔
استور، تانگیر، تھور اور ضلع دیامر کے دیگر علاقوں میں بجلی، پانی اور مواصلاتی نظام معطل ہو گیا ہے۔ پینے کے پانی کی اسکیمیں، آبپاشی کے نہری نظام اور حفاظتی پشتے بھی تباہ ہو گئے، جبکہ کئی دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا۔
یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا میں شدید بارشوں کی پیشگوئی، گلیشیئر پھٹنے اور سیلابی صورتحال کا الرٹ جاری
استور، تھور ویلی، تانگیر اور دیگر علاقوں میں درجنوں خاندان سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بے گھر ہو گئے ہیں۔
ضلع غذر میں متعدد مقامات پر سڑکیں بند، مقامی سطح پر سیلابی صورتحال اور دو گھروں کو جزوی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں، جبکہ احتیاطی تدابیر کے تحت حساس علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
ہنزہ نگر دریا میں پانی کی سطح بلند ہونے سے گلگت کے جوتل علاقے میں آٹھ گھروں کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے، جبکہ یاسین ویلی، شیلی آباد، امیت اور دیگر علاقوں میں دریا کے کٹاؤ سے زرعی اراضی اور درختوں کو نقصان پہنچا ہے۔ غذر۔شندور اور غذر۔گلگت سڑکیں بھی تاحال بند ہیں۔
حکام نے شہریوں اور سیاحوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔
گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق ضلعی انتظامیہ، ریسکیو 1122 اور دیگر ادارے مشترکہ طور پر امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جارہا ہے اور انہیں خیمے، راشن، ادویات اور صاف پانی فراہم کیا جارہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 6 سے 10 اپریل کے دوران بارشیں اور ژالہ باری، این ڈی ایم اے کا الرٹ جاری
وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین نے متاثرہ علاقوں میں امدادی اور بحالی کے کام تیز کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کو چوبیس گھنٹے الرٹ رہنے کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے خوراک، صحت، پینے کے پانی، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے اور تباہ شدہ سڑکوں، پلوں اور بنیادی ڈھانچے کی فوری بحالی کے لیے بھاری مشینری استعمال کرنے کی بھی ہدایت کی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ گلگت بلتستان کی حکومت متاثرہ عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا کر متاثرین کی بحالی اور ہر ممکن امداد فراہم کی جائے گی۔
انہوں نے اسلام آباد میں قومی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ بھی کیا، جہاں چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے انہیں بتایا کہ گلگت بلتستان میں گلیشیئرز کی جدید سائنسی طریقوں سے مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور ہر گلیشیئر کو منفرد شناختی کوڈ دیا گیا ہے تاکہ ممکنہ خطرات کا بروقت اندازہ لگایا جا سکے۔
وزیراعلیٰ امجد حسین نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اب ایک حقیقت بن چکے ہیں اور گلگت بلتستان ان سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہے، جہاں گلیشیائی جھیلیں پھٹنے، اچانک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان مؤثر تعاون پر زور دیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news بارش تباہی سیلاب گلگت بلتستان