مورو احتجاج میں ہلاک نوجوان کی پوسٹمارٹم رپورٹ، دماغ سے دھاتی ٹکڑا برآمد
اشاعت کی تاریخ: 27th, May 2025 GMT
مورو احتجاج میں ہلاک نوجوان عرفان لغاری کی یادگار تصاویر—بشکریہ سوشل میڈیا
مورو احتجاج میں ہلاک نوجوان عرفان لغاری کی پوسٹ مارٹم رپورٹ جاری کردی گئی۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق عرفان علی لغاری کا پوسٹ مارٹم 23 مئی 2025ء کو کیا گیا ہے، عرفان کے جسم پر متعدد زخم اور چوٹیں پائی گئیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نوجوان کی کھوپڑی کی ہڈی دائیں جانب سے ٹوٹی ہوئی پائی گئی، نوجوان کے دماغ پر گہری چوٹ تھی، جو دماغ کی نچلی سطح تک تھی۔
یہ بھی پڑھیے کالعدم قوم پرست جماعت کے کارکن عرفان لغاری کی زبردستی تدفین کینالز کی تعمیر کیخلاف احتجاج، پولیس فائرنگ سے زخمی عرفان لغاری ہلاک مورو، عرفان لغاری کو تشویشناک حالت میں سول اسپتال حیدرآباد منتقل کردیاپوسٹ مارٹم رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نوجوان کے دماغ کے درمیانے حصے سے ایک دھات کا ٹکڑا ملا ہے، جبکہ اس کی ریڑھ کی ہڈی کے زخم میں بھی دھاتی چیز برآمد ہوئی ہے۔
عرفان علی لغاری پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق اس کے دماغ اور پھیپھڑوں میں سوجن پائی گئی ہے۔
واضح رہے کہ سندھ کے شہر مورو میں دریائے سندھ پر کینالز کی تعمیر کے خلاف احتجاجی مظاہرے اور وزیرِ داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار کے گھر پر حملے کے دوران پولیس کی فائرنگ اور شیلنگ کے دوران زخمی ہونے والا عرفان لغاری جمعے کو سول اسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا تھا۔
سول اسپتال کے مردہ خانے میں غسل کی کوشش کے دوران پولیس کی بھاری نفری نے چھاپہ مار کر عرفان لغاری کی لاش تحویل میں لی تھی اور مزاحمت کرنے والے قوم پرستوں کے خلاف کارروائی کے دوران قوم پرست رہنما ٹک ٹاکر سمیت متعدد افراد کو گرفتار کر لیا تھا۔
سندھ یونائیٹڈ پارٹی و کنوینر دریائے بچاؤ کمیٹی سید زین شاہ نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ شہید عرفان لغاری کی میت کو اس کے والدین اور ورثاء کے حوالے کرنے کے بجائے پولیس کے ذریعے زبردستی دفنایا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: پوسٹ مارٹم رپورٹ عرفان لغاری کی کے دوران
پڑھیں:
پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔
فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔
ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔
عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔
ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔
ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔
اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔