وزیراعظم پاکستان شہباز شریف سہ ملکی دورے کے سلسلے میں آذربائجان پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ اور فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی موجود ہیں۔ وزیراعظم اپنا 2 روزہ دورہ ایران مکمل کر چکے ہیں۔

وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے حالیہ دورہ ایران کے دوران ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس میں پاکستان کی جانب سے ایران کے پُرامن سول جوہری پروگرام کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں بارڈر پر دہشتگردی کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل بنانے پر پاکستان ایران کا اتفاق

دونوں رہنماؤں نے ملاقات میں باہمی دلچسپی کے مختلف شعبوں خصوصاً تجارت، سرمایہ کاری، توانائی اور انسداد دہشتگردی میں تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا۔

وزیراعظم نے کہاکہ پاکستان ایران کو اپنا دوسرا گھر سمجھتا ہے، دونوں ممالک کے درمیان گہرے تاریخی، ثقافتی اور مذہبی رشتے موجود ہیں، جنہیں اقتصادی شراکت داری کے ذریعے مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔

ایرانی صدر نے بھی پاکستان کو برادر ہمسایہ قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ خطے کی ترقی و خوشحالی کا انحصار امن و استحکام پر ہے، اور اس مقصد کے لیے دونوں ممالک کا تعاون کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔

تاجر برادری کی جانب سے وزیراعظم کے دورہ ایران کو خوش آئند قرار دیا گیا ہے، تاہم سابق صدر ایوان صنعت و تجارت بلوچستان فدا حسین نے وی نیوز سے بات کرتے ہوئے کہاکہ وزیراعظم کو دورے کے موقع پر بلوچستان کے تاجروں کو اعتماد میں لینا چاہیے تھا، اگر پاکستانی تاجر وفد کا حصہ بنتے تو تجارت کو فروغ دینے کی سنجیدہ کوششیں ممکن ہوتیں۔

فدا حسین نے بتایا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان سالانہ اربوں روپے کی قانونی تجارت ہوتی ہے، ایران سے پاکستان کو خوردنی تیل، اسٹیل، ایل پی جی، پیٹرو کیمیکلز، میوہ جات، خشک میوہ، قالین، ٹائلز اور دیگر صنعتی و روزمرہ اشیا درآمد کی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان سے ایران کو چاول، آم، سبزیاں، ٹیکسٹائل مصنوعات اور کھیلوں کا سامان برآمد کیا جاتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم کم از کم 10 ارب ڈالر تک پہنچایا جا سکتا ہے، لیکن عملی طور پر یہ حجم محدود سطح پر برقرار ہے۔

فدا حسین کا کہنا تھا کہ بلوچستان کی سرحدی مارکیٹیں پہلے سے تیار ہیں، لیکن ایران کی جانب سے بعض غیر ضروری پابندیاں اور نان ٹیرف رکاوٹیں تجارت کی راہ میں حائل ہیں۔ دوطرفہ تجارت کو فروغ دینے کے لیے نہ صرف اعتماد سازی کی ضرورت ہے بلکہ مشترکہ تجارتی کمیشنز کو فعال اور بارڈر مینجمنٹ کو جدید تقاضوں کے مطابق ہم آہنگ کرنا بھی ناگزیر ہے۔

ایران اور پاکستان نے ماضی میں گیس پائپ لائن، بجلی کی ترسیل اور بارٹر سسٹم کے ذریعے تجارت جیسے اہم منصوبوں پر اتفاق کیا تھا، مگر بیشتر پر عملدرآمد التوا کا شکار ہے۔

یہ بھی پڑھیں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ایرانی چیف آف جنرل اسٹاف سے ملاقات، دفاعی تعلقات مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال

اگر ان منصوبوں کو دوبارہ فعال کیا جائے اور باہمی اعتماد کی فضا بحال ہو تو دونوں ممالک نہ صرف اپنے عوام کی معاشی حالت بہتر بنا سکتے ہیں بلکہ خطے میں اقتصادی استحکام کی مثال قائم کر سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews باہمی اعتماد تجارت کا فروغ دورہ ایران دوطرفہ تجارت شہباز شریف وزیراعظم پاکستان وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: باہمی اعتماد تجارت کا فروغ دورہ ایران دوطرفہ تجارت شہباز شریف وزیراعظم پاکستان وی نیوز دونوں ممالک شہباز شریف دورہ ایران کو فروغ

پڑھیں:

پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملکی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے روبوٹکس اور اٹانومس سسٹمز کی ترقی کے لئے سپارک اینڈ ایلیویٹ پروگرام کے آغاز اور 20 ملین ڈالر کا پاکستان وینچر فنڈ قائم کرنے کا اعلان کیا اور کہا ہے کہ پاکستان نے دفاع اور سیکیورٹی کے شعبے میں ملکی صلاحیتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور سلامتی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے۔

اسلام آباد میں انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو 2026 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو سے ٹیکنالوجی کے شعبے میں صف اول کا کردار ادا کرنے کے حوالے سے پاکستان کے عزم کی عکاسی ہوتی ہے، یہ نمائش اور اس طرح کے اقدامات پاکستان کو 21ویں صدی کی جدید ٹیکنالوجی میں صف اول کا ملک بنائیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ رواں سال کے اوائل میں پاکستان نے انڈس اے آئی سمٹ کی بھی میزبانی کی، جس سے مصنوعی ذہانت کے دور میں پاکستان کے سفر کو آگے بڑھانے کے لیےحکومتی نمائندوں، ٹیکنالوجی لیڈرز اور محققین کاروباری افراد کو مل بیٹھنے کا موقع ملا۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

ان کا کہنا تھا کہ آج انڈس راس ایکسپو سے اس وژن کو عملی شکل دینے کا موقع حاصل ہوا ہے کہ کس طرح جدت کو فعال سلوشنز میں تبدیل کریں، روبوٹکس اور ڈرونز کی جدت سے معیشت مضبوط سلامتی بہتر اور عوام کی زندگی آسان ہوگی، اس جہت نے اکیڈیمیا، انڈسٹری، اسٹارٹ اپس اور پالیسی سازوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ میرے بچپن میں ٹیکنالوجی کی جدت بلیک اینڈ وائٹ ٹیلی ویژن کی آمد تھی اور خاندان کے تمام افراد’’اچے برج لاہور دے‘‘ جیسی پاکستان ٹیلی ویژن کی کلاسک نشریات کو مل کر دیکھتے تھے لیکن آج دنیا ٹیکنالوجی کے میدان میں بہت آگے بڑھ گئی ہے اور ہم تاریخ کے ایک غیر معمولی دور میں ہیں۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

ان کا کہنا تھا کہ زرعی پیداوار کے لیے پانی اور دیگر بنیادی عوامل کی ضرورت، موسمیاتی تبدیلی اور دیگر چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال انتہائی اہمیت کا حامل ہے، آج ٹیکنالوجی کی جدید شکل ہمارے سامنے موجود ہے، آج مشینیں محسوس کر کے تیزی سے فیصلے اور ان پر عمل درآمد کرتی ہیں جو کبھی خواب لگتا تھا آج حقیقت بن کر ہمارے سامنے موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ فخریہ طور پر کہتا ہوں کہ پاکستان نے دفاع اور سیکیورٹی کے شعبے میں ملکی صلاحیتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، سلامتی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج نے جدید ٹیکنالوجی اپنائی، سیمولیٹرز 100 فیصد پاکستان میں تیار ہو رہے ہیں، ڈرونز کی 60 فیصد سے زائد مقامی تیاری حاصل کر لی گئی ہے۔ 

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی

وزیراعظم نے کہا کہ معرکہ حق میں مسلح افواج نے جدید آٹونومس سسٹمز اور سائبر سیکیورٹی کے ذریعے سرحدوں کا دفاع کیا، معرکہ حق میں فیلڈ مارشل کی سربراہی میں ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر اور نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف کی معاونت شان دار رہی اور ہماری مسلح افواج نے ملکی خود مختاری کے تحفظ کے لیے آہنی عزم کے مظاہرے کے ساتھ ساتھ ملکی صلاحیتوں، ٹیکنالوجی کی ترقی اور اور آپریشنل مہارت کا بھی بھرپور ثبوت دیا۔ان کا کہنا تھا کہ دفاعی شعبے میں شان دار کامیابیاں مادر وطن کے قومی دفاع کا لازمی جزو ہیں، اس سے ہمارے سیکیورٹی کا نظام مضبوط ہوگا، دفاع مزید ناقابل تسخیر ہو جائے گا اور اس سے ابھرتے اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کے لیے صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔

چیئرمین یورپی یونین پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ کی ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے چیئرمین سے ملاقات

انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی استعمال کرے گا، دفاع میں آٹونومس صلاحیتوں کی ترقی میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کا انقلاب چند جدید معیشتوں، بڑی کارپوریشنز اور بڑے شہروں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ سب کے لیے مساوی ترقی ہونی چاہیے، کسانوں کی حالت بہتر ہو، چھوٹے کاروبار فروغ پائیں،کاروبار کرنے والی خواتین کو سہولیات ملیں اور کمزور طبقات کو فائدہ پہنچے، محفوظ اور شفاف آٹونومس سسٹمز کے لیے واضح قانون سازی اور اخلاقی فریم ورک بنانا چاہیے۔

پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے سیزن کا شیڈول جاری کر دیا

مزید :

متعلقہ مضامین

  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری