یوم تکبیر،قائد نواز شریف اور وزیراعظم شہباز شریف کو سلام پیش کریں گے، امیر مقام
اشاعت کی تاریخ: 27th, May 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)پاکستان کے ایٹمی دھماکوں کو 27 سال مکمل ہونے پر ملک بھر میں یومِ تکبیر کل جوش و خروش سے منایا جائے گا۔ اس موقع پر اہم اور مرکزی تقاریب پشاور اور میرپور، آزاد جموں و کشمیر میں منعقد ہوں گی۔ وفاقی وزیر برائے امور کشمیر، گلگت بلتستان و سیفران اور صدر مسلم لیگ (ن) خیبر پختونخوا، امیر مقام ان تقریبات کے مہمانِ خصوصی ہوں گے۔
یومِ تکبیر کی تقریبات کا مقصد 28 مئی 1998 کو کیے گئے ایٹمی دھماکوں کی یاد تازہ کرنا ہے، جب پاکستان نے ملکی دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانے کا اعلان کیا تھا۔
امیر مقام میرپور میں ایک بڑی مرکزی تقریب سے خطاب کریں گے جبکہ پشاور میں مسلم لیگ (ن) کے صوبائی سیکریٹریٹ میں بھی ایک اہم تقریب منعقد ہو گی، جس سے وہ خطاب کریں گے۔
امیر مقام کی ہدایت پر مسلم لیگ (ن) کے تمام ونگز کو صوبے بھر میں ریلیاں نکالنے کی ہدایت کی گئی ہے، جبکہ گلگت بلتستان میں بھی خصوصی تقریبات کا اہتمام کیا جائے گا۔
اپنے خصوصی پیغام میں امیر مقام نے کہا”یومِ تکبیر اور یومِ معرکۂ حق دراصل قومی وقار اور دفاع پر کسی قسم کے سمجھوتے سے انکار کا اعلان ہیں۔ ہم اس دن قائد نواز شریف اور وزیراعظم شہباز شریف کو سلام پیش کرتے ہیں، جنہوں نے ملک کو ناقابلِ تسخیر بنایا۔”
ملک بھر میں مسلم لیگ (ن) کی قیادت میں تقریبات، ریلیاں اور اجتماعات کا اہتمام کیا جا رہا ہے، جو قومی جذبے اور ایٹمی طاقت پر فخر کے مظاہر ہوں گے۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: مسلم لیگ
پڑھیں:
ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
ویب ڈیسک :مسلم لیگ ن کے صدر اور سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا۔
سابق وزیر اعظم نواز شریف نے گلگت میں عوامی جلسے سے خطاب کے دوران کہا ہے کہ میں وہ نواز شریف ہوں جو کسی پر تنقید کرکے نہیں بلکہ کارکردگی پر ووٹ مانگتا ہوں، گلگت بلتستان کی سڑکوں کی حالت دیکھ کر افسوس ہوا،پوچھنا چاہتا ہوں کہ گلگت بلتستان کو نظر انداز کیوں کیا گیا ؟
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
میاں نوازشریف نے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوامی جوش و جذبہ دیکھ کر خوشی ہوئی ،ہم نےگلگت اور ملحقہ علاقوں میں بہترین شاہراہیں بچھائی تھیں۔
چاہتا ہوں جی بی میں ترقی اور لوگوں کو روزگار ملے، 50 ارب روپے کی لاگت سے گلگت سے سکردو تک سڑک تعمیر کی گئی تھی ،گلگت کے عوام کا پیسہ ان پر کیوں نہیں لگایا گیا؟ہم نے ہائیڈرل پاور منصوبے شروع کیے، اب تک مکمل کیوں نہیں ہوئے؟