Jasarat News:
2026-07-24@13:09:43 GMT

غزہ: 60 روزہ جنگ بندی

اشاعت کی تاریخ: 4th, July 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

امریکا، قطر اور مصر کی ثالثی سے اسرائیل اور حماس کے درمیان مجوزہ 60 روزہ جنگ بندی کی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جس کا مقصد غزہ میں جاری خونریزی کو روکنا، انسانی امداد کی فراہمی ممکن بنانا، اور مستقل جنگ بندی کی راہ ہموار کرنا ہے۔ رائٹرز کے اینڈریو ملز کی رپورٹ کے مطابق یہ منصوبہ فریقین کی منظوری سے مشروط ہے، تاہم اس میں کچھ ایسے نکات شامل ہیں جو اس معاہدے کو ایک متوازن اور دیرپا حل کی طرف پہلا قدم بناتے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے غزہ میں 60 روزہ جنگ بندی کے لیے ضروری شرائط کو تسلیم کر لیا ہے‘ اس ممکنہ معاہدے کے دوران فریقین کے ساتھ مل کر جنگ کے خاتمے کے لیے کوشش کی جائے گی۔ معاہدے کے تحت حماس 60 دن کی مدت میں مرحلہ وار 10 زندہ یرغمالیوں کو رہا کرے گی جبکہ 18 یرغمالیوں کی لاشیں بھی واپس کرے گی۔ اس عمل کا شیڈول پہلے سے طے شدہ ہوگا۔ پہلے دن 8 زندہ یرغمالی، ساتویں دن 5 لاشیں، 30 ویں دن مزید 5 لاشیں، 50 ویں دن 2 زندہ یرغمالی، اور آخر میں 60 ویں دن 8 لاشیں واپس کی جائیں گی۔ ان تبادلوں کو کسی قسم کی عوامی تقریب یا میڈیا نمائش کے بغیر خاموشی سے مکمل کیا جائے گا۔ دسویں دن، حماس باقی یرغمالیوں کے زندہ یا جاں بحق ہونے کے ثبوت اور میڈیکل رپورٹس فراہم کرے گی۔ بدلے میں اسرائیل اْن تمام فلسطینی قیدیوں کی معلومات دے گا جنہیں 7 اکتوبر 2023 کے بعد غزہ سے گرفتار کیا گیا تھا۔ قیدیوں کے تبادلے کا عمل دو طرفہ ہوگا۔ اسرائیل کے مطابق، حماس اور اس کے اتحادیوں کے قبضے میں موجود 50 یرغمالیوں میں سے تقریباً 20 زندہ ہیں۔ اس معاہدے کی بنیاد ایک پہلے سے طے شدہ معاہدے پر ہے جس کے مطابق غزہ میں اقوامِ متحدہ اور ریڈ کراس کی نگرانی میں فوری اور وافر انسانی امداد داخل کی جائے گی۔ اس اقدام کا مقصد جنگ سے متاثرہ علاقوں میں بنیادی ضروریاتِ زندگی کی فراہمی کو ممکن بنانا ہے۔ معاہدے کے پہلے دن جب ابتدائی یرغمالی رہا کیے جائیں گے، اسرائیلی فوج شمالی غزہ کے مخصوص علاقوں سے پیچھے ہٹ جائے گی۔ ساتویں دن، جب 5 یرغمالیوں کی لاشیں واپس ملیں گی، تو جنوبی غزہ کے مخصوص حصوں سے بھی فوجی انخلا ہوگا۔ ان انخلا کے لیے نقشے پہلے سے طے کیے جائیں گے اور ایک تکنیکی ٹیم ان سرحدوں کی درستی اور جلد عملدرآمد کے لیے کام کرے گی۔ معاہدے کے پہلے دن ہی مستقل جنگ بندی کے لیے مذاکرات کا آغاز ہوگا۔ ان مذاکرات میں باقی ماندہ یرغمالیوں اور فلسطینی قیدیوں کا تبادلہ، غزہ کی طویل مدتی سیکورٹی، اور مستقل جنگ بندی کا باقاعدہ اعلان شامل ہوگا۔ اگر ان مذاکرات میں کامیابی حاصل ہوتی ہے تو یہ 7 اکتوبر 2023 کے بعد گرفتار ہونے والے تمام فلسطینیوں کی رہائی کا سبب بنے گا۔ ادھر حماس نے عندیہ دیا ہے کہ وہ اس جنگ بندی کی تجویز پر سنجیدگی سے غور کرنے کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ اس کا اختتام غزہ میں جاری جنگ کے مکمل خاتمے پر ہو۔ حماس کے ترجمان نے بتایا کہ تنظیم کے رہنما اس نئی تجویز کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں۔ حماس کے ایک اعلیٰ عہدیدار طاہر النونو نے کہا کہ ہم سنجیدہ اور تیار ہیں کہ اگر کسی بھی تجویز سے جنگ کا مکمل خاتمہ ممکن ہو، تو ہم اسے قبول کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ’’انہوں نے کہا کہ ہمارے رہنما قاہرہ میں مصری اور قطری ثالثوں سے ملاقات کریں گے تاکہ اختلافات کم کرکے دوبارہ مذاکرات شروع ہوسکیں۔ اسرائیل نے ہمیشہ جنگ بندی معاہدے کی یک طرفہ خلاف ورزی کرکے ہمارے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی ہے۔ عالمی قوتیں اگر اسرائیل کی ضمانت لیں تو ہم اپنی شرائط پر اس تجویز پر غور کرسکتے ہیں۔ادھر بن یامین نیتن یاہو نے سخت مؤقف اپناتے ہوئے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ ’’میں واضح طور پر اعلان کرتا ہوں — غزہ میں حماس کا کوئی وجود نہیں ہوگا‘‘۔ اسرائیل کی پوزیشن یہ ہے کہ جب تک حماس ہتھیار نہیں ڈالتی، غیر مسلح نہیں ہوتی اور غزہ سے از خود جلا وطن نہیں ہوتی، تب تک جنگ بند نہیں کی جائے گی۔ اسرائیلی ذرائع کے مطابق، موجودہ تجویز میں انسانی امداد کی فراہمی اور محدود فوجی انخلا شامل ہے، لیکن اسرائیل نے جنگ کے مکمل خاتمے پر کوئی وعدہ نہیں کیا۔ اسرائیل کے مطابق، 60 روزہ جنگ بندی محض ایک عبوری مرحلہ ہوگا تاکہ قیدیوں کے تبادلے اور امدادی سرگرمیوں کو ممکن بنایا جا سکے، تاہم مستقل جنگ بندی کا انحصار حماس کے مکمل خاتمے پر ہوگا۔ غزہ میں جنگ بندی کے حوالے سے ہونے والی حالیہ پیش رفت یقینا خوش آئند ہے مگر المنا ک صورتحال یہ ہے کہ ایک طرف جنگ بندی کے لیے کوششیں کی جارہی ہیں تو دوسری جانب غزہ کے نہتے عوام پر اسرائیلی درندگی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران 250 افراد ان حملوں کا نشانہ بن چکے ہیں۔ قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق یہ امدادی مراکز وہی ہیں جنہیں امریکا اور اسرائیل کی حمایت حاصل ہے، اور اقوامِ متحدہ انہیں ’موت کا پھندا‘ قرار دے چکی ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارے یو این آر ڈبلیو اے کے نمائندے سیم روز کے مطابق، غزہ کے محصور علاقوں میں خوراک کی تلاش میں نکلنے والے بے بس شہری جان بوجھ کر اپنی زندگی خطرے میں ڈال رہے ہیں کیونکہ بھوک نے انہیں مجبور کر دیا ہے۔ علاوہ ازیں غزہ میں وزارت صحت نے تصدیق کی ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی حملوں میں امداد کے منتظر 12 افراد سمیت مزید 118 فلسطینی شہید اور 581 دیگر زخمی ہوگئے۔ جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے، غزہ میں اسرائیلی فوج کی جانب سے امدادی مراکز پر کی جانے والی فائرنگ اور حملوں میں صرف 5 ہفتوں میں 600 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔ غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے اور جس بے دردی سے غزہ کے معصوم اور نہتے شہریوں کا نشانہ بنایا جارہا ہے، اس پر پوری دنیا مضطرب، پریشان اور سراسیمہ ہے۔ اس صورتحال میں قطر نے اوّل روز سے قائدانہ کردار ادا کرتے ہوئے جنگ بندی کی کوششیں کیں، بعد ازاں ان کوششوں میں امریکا اور مصر بھی شریک ہوئے۔ ثالثی ممالک کی کوششوں سے نومبر 2023 کے بعد رواں سال کی ابتداء میں بھی جنگ بندی کے معاہدے ہوئے مگر ہر بار اسرائیل نے جنگ کے معاہدے کو سبوتاژ کیا۔ حالیہ جنگ بندی کے مجوزہ منصوبے میں ایک اہم پہلو امریکا کی سیاسی ضمانت ہے۔ منصوبے کے مطابق سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاہدے سے وابستگی ظاہر کی ہے اور اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ 60 دن کی جنگ بندی کے دوران سنجیدہ مذاکرات ہوں گے۔ اگر اس دوران مکمل معاہدہ نہیں ہو پاتا تو اس مدت میں توسیع بھی ممکن ہے۔ یہ مجوزہ 60 روزہ جنگ بندی نہ صرف انسانی جانوں کو محفوظ بنانے کی کوشش ہے بلکہ اس سے ایک نئے سیاسی عمل کا آغاز بھی ہو سکتا ہے۔ اگر اسرائیل خلوص نیت سے مذاکرات کرے تو یہ معاہدہ غزہ میں مستقل امن کے قیام اور دیرینہ تنازع کے خاتمے کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہوسکتا ہے، اب دیکھنا ہے کہ امریکا اور اسرائیل حقیقتاً جنگ بندی کے خواہاں ہیں یا یہ سب کچھ محض قیدیوں کی بازیابی کی کوشش ہے، غزہ میں جنگ بندی کے ٹھوس اقدامات خطے میں امن کے قیام کے لیے ناگزیر ہیں، یہ وہ حقیقت ہے جس کا ادارک کیا جانا چاہیے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جنگ بندی کے جنگ بندی کی اسرائیل نے معاہدے کے کے مطابق کے دوران نہیں ہو جائے گی حماس کے غزہ کے کے لیے کرے گی اور اس جنگ کے

پڑھیں:

ایران میں تعمیر نو کی رفتار پر اسرائیل حیران ہے، وال اسٹریٹ جرنل

رپورٹ میں ایک اسرائیلی فوجی عہدیدار کے حوالے سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران نے ایک ایسا پل، جسے اسرائیلی فوج نے تین بموں سے نشانہ بنایا تھا، صرف چند دنوں میں دوبارہ تعمیر کر دیا۔ اس عہدیدار کے مطابق اس پیش رفت نے اسرائیلی فوجی کمانڈروں کو حیران کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیل ایران میں تعمیر نو کی رفتار پر حیران ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل نے اپنی ایک رپورٹ میں اسرائیلی اور مغربی حکام کے حوالے سے، نیز سیٹلائٹ تصاویر کے جائزے کی بنیاد پر، رپورٹ کیا ہے کہ ایران نے حالیہ مہینوں میں امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے متاثر ہونے والے اپنے بنیادی ڈھانچے کا ایک بڑا حصہ مختصر عرصے میں دوبارہ تعمیر کر لیا ہے۔ اخبار کے مطابق اس پیش رفت نے بعض اسرائیلی حکام میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق تعمیرِ نو میں پہاڑوں کے اندر قائم میزائل اڈے، پل، بندرگاہیں اور صنعتی پیداواری تنصیبات شامل ہیں، اور اس کام کی رفتار اسرائیلی حکام کے ابتدائی اندازوں سے کہیں زیادہ رہی ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق یہ تیز رفتار بحالی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ایران، امریکہ اور اسرائیل کی وسیع فضائی مہم کے باوجود، جس میں جنگ کے عروج پر 20 ہزار سے زائد حملے کیے گئے اور اب بھی ایران کے ساحلی علاقوں میں جاری ہے، اپنی دفاعی اور صنعتی صلاحیت کو برقرار رکھنے اور بحال کرنے کی قابلِ ذکر استعداد رکھتا ہے۔

اخبار نے سیٹلائٹ تصاویر کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ کنگاور کے قریب مارچ میں ہونے والے فضائی حملوں میں ایک میزائل اڈے کی دو سرنگوں کے داخلی راستے اور وہاں جانے والی سڑک تباہ کر دی گئی تھی، تاہم چند ہی ہفتوں بعد نئی تصاویر میں اس مقام پر نئی پختہ سڑک اور تازہ کھودی گئی سرنگوں کے داخلی راستے دکھائی دیے۔رپورٹ میں ایک اسرائیلی فوجی عہدیدار کے حوالے سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران نے ایک ایسا پل، جسے اسرائیلی فوج نے تین بموں سے نشانہ بنایا تھا، صرف چند دنوں میں دوبارہ تعمیر کر دیا۔ اس عہدیدار کے مطابق اس پیش رفت نے اسرائیلی فوجی کمانڈروں کو حیران کر دیا اور انہیں اپنے حملوں کی مؤثریت پر دوبارہ غور کرنے پر مجبور کیا۔ رپورٹ کے ایک اور حصے میں کہا گیا ہے کہ جولائی کے اوائل کی سیٹلائٹ تصاویر سے بندر انزلی میں واقع ایک جہاز سازی کے کارخانے کے بعض حصوں کی تعمیرِ نو کا آغاز بھی ظاہر ہوتا ہے۔ اسرائیل اس تنصیب کو آئی آر جی سی سے منسلک قرار دیتا ہے۔

وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق اسرائیل نے مارچ میں اس کمپلیکس، بندرگاہی تنصیبات، کمانڈ سینٹر اور دیگر اہداف کو اس مقصد سے نشانہ بنایا تھا کہ روس اور ایران کے درمیان سازوسامان کی ترسیل کے راستے کو منقطع کیا جا سکے۔ اسرائیل کے فضائی اور میزائل دفاعی نظام کے سابق کمانڈر ران کوخاو نے وال اسٹریٹ جرنل سے گفتگو میں کہا: "انہوں نے اپنے اسلحہ خانے دوبارہ بھر لیے ہیں۔ ایران کے پاس صنعتی صلاحیت اور تعمیرِ نو کی غیر معمولی استعداد موجود ہے۔" وال اسٹریٹ جرنل نے مزید لکھا کہ اگرچہ ایران کو امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے ہونے والے نقصانات کے ازالے کے لیے اب بھی ایک مہنگے اور وقت طلب عمل کا سامنا ہے، تاہم بنیادی ڈھانچے کی تیز رفتار بحالی نے ڈونلڈ ٹرمپ اور بنیامین نیتن یاہو کے ان دعوؤں کو چیلنج کیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ ایران کی صلاحیتوں کو فیصلہ کن اور تباہ کن نقصان پہنچایا گیا ہے۔

رپورٹ کے اختتام پر یہ بھی کہا گیا کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو کو اپنے اپنے ممالک میں ان اہداف کے حصول میں ناکامی پر سیاسی دباؤ کا سامنا ہے جن میں ایران میں نظام کی تبدیلی، ایرانی جوہری پروگرام کا خاتمہ اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ مکمل طور پر کھلوانا شامل تھا۔

متعلقہ مضامین

  • ایران نے عراق کے ذریعے بھیجی گئی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دیں
  • ایران نے عراق کے ذریعے بھیجی گئی امریکی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی، امریکی اخبار کا دعویٰ
  • ایران میں تعمیر نو کی رفتار پر اسرائیل حیران ہے، وال اسٹریٹ جرنل
  • نام نہاد جنگ بندی بے اثر، غزہ میں شہریوں کی ہلاکتیں جاری: انتونیو گوتریس
  • ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • پی سی بی نے 27 -2026 کے ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کا اعلان کردیا، ورلڈ کپ تیاریوں پر توجہ مرکوز
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم