data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امریکا، قطر اور مصر کی ثالثی سے اسرائیل اور حماس کے درمیان مجوزہ 60 روزہ جنگ بندی کی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جس کا مقصد غزہ میں جاری خونریزی کو روکنا، انسانی امداد کی فراہمی ممکن بنانا، اور مستقل جنگ بندی کی راہ ہموار کرنا ہے۔ رائٹرز کے اینڈریو ملز کی رپورٹ کے مطابق یہ منصوبہ فریقین کی منظوری سے مشروط ہے، تاہم اس میں کچھ ایسے نکات شامل ہیں جو اس معاہدے کو ایک متوازن اور دیرپا حل کی طرف پہلا قدم بناتے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے غزہ میں 60 روزہ جنگ بندی کے لیے ضروری شرائط کو تسلیم کر لیا ہے‘ اس ممکنہ معاہدے کے دوران فریقین کے ساتھ مل کر جنگ کے خاتمے کے لیے کوشش کی جائے گی۔ معاہدے کے تحت حماس 60 دن کی مدت میں مرحلہ وار 10 زندہ یرغمالیوں کو رہا کرے گی جبکہ 18 یرغمالیوں کی لاشیں بھی واپس کرے گی۔ اس عمل کا شیڈول پہلے سے طے شدہ ہوگا۔ پہلے دن 8 زندہ یرغمالی، ساتویں دن 5 لاشیں، 30 ویں دن مزید 5 لاشیں، 50 ویں دن 2 زندہ یرغمالی، اور آخر میں 60 ویں دن 8 لاشیں واپس کی جائیں گی۔ ان تبادلوں کو کسی قسم کی عوامی تقریب یا میڈیا نمائش کے بغیر خاموشی سے مکمل کیا جائے گا۔ دسویں دن، حماس باقی یرغمالیوں کے زندہ یا جاں بحق ہونے کے ثبوت اور میڈیکل رپورٹس فراہم کرے گی۔ بدلے میں اسرائیل اْن تمام فلسطینی قیدیوں کی معلومات دے گا جنہیں 7 اکتوبر 2023 کے بعد غزہ سے گرفتار کیا گیا تھا۔ قیدیوں کے تبادلے کا عمل دو طرفہ ہوگا۔ اسرائیل کے مطابق، حماس اور اس کے اتحادیوں کے قبضے میں موجود 50 یرغمالیوں میں سے تقریباً 20 زندہ ہیں۔ اس معاہدے کی بنیاد ایک پہلے سے طے شدہ معاہدے پر ہے جس کے مطابق غزہ میں اقوامِ متحدہ اور ریڈ کراس کی نگرانی میں فوری اور وافر انسانی امداد داخل کی جائے گی۔ اس اقدام کا مقصد جنگ سے متاثرہ علاقوں میں بنیادی ضروریاتِ زندگی کی فراہمی کو ممکن بنانا ہے۔ معاہدے کے پہلے دن جب ابتدائی یرغمالی رہا کیے جائیں گے، اسرائیلی فوج شمالی غزہ کے مخصوص علاقوں سے پیچھے ہٹ جائے گی۔ ساتویں دن، جب 5 یرغمالیوں کی لاشیں واپس ملیں گی، تو جنوبی غزہ کے مخصوص حصوں سے بھی فوجی انخلا ہوگا۔ ان انخلا کے لیے نقشے پہلے سے طے کیے جائیں گے اور ایک تکنیکی ٹیم ان سرحدوں کی درستی اور جلد عملدرآمد کے لیے کام کرے گی۔ معاہدے کے پہلے دن ہی مستقل جنگ بندی کے لیے مذاکرات کا آغاز ہوگا۔ ان مذاکرات میں باقی ماندہ یرغمالیوں اور فلسطینی قیدیوں کا تبادلہ، غزہ کی طویل مدتی سیکورٹی، اور مستقل جنگ بندی کا باقاعدہ اعلان شامل ہوگا۔ اگر ان مذاکرات میں کامیابی حاصل ہوتی ہے تو یہ 7 اکتوبر 2023 کے بعد گرفتار ہونے والے تمام فلسطینیوں کی رہائی کا سبب بنے گا۔ ادھر حماس نے عندیہ دیا ہے کہ وہ اس جنگ بندی کی تجویز پر سنجیدگی سے غور کرنے کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ اس کا اختتام غزہ میں جاری جنگ کے مکمل خاتمے پر ہو۔ حماس کے ترجمان نے بتایا کہ تنظیم کے رہنما اس نئی تجویز کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں۔ حماس کے ایک اعلیٰ عہدیدار طاہر النونو نے کہا کہ ہم سنجیدہ اور تیار ہیں کہ اگر کسی بھی تجویز سے جنگ کا مکمل خاتمہ ممکن ہو، تو ہم اسے قبول کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ’’انہوں نے کہا کہ ہمارے رہنما قاہرہ میں مصری اور قطری ثالثوں سے ملاقات کریں گے تاکہ اختلافات کم کرکے دوبارہ مذاکرات شروع ہوسکیں۔ اسرائیل نے ہمیشہ جنگ بندی معاہدے کی یک طرفہ خلاف ورزی کرکے ہمارے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی ہے۔ عالمی قوتیں اگر اسرائیل کی ضمانت لیں تو ہم اپنی شرائط پر اس تجویز پر غور کرسکتے ہیں۔ادھر بن یامین نیتن یاہو نے سخت مؤقف اپناتے ہوئے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ ’’میں واضح طور پر اعلان کرتا ہوں — غزہ میں حماس کا کوئی وجود نہیں ہوگا‘‘۔ اسرائیل کی پوزیشن یہ ہے کہ جب تک حماس ہتھیار نہیں ڈالتی، غیر مسلح نہیں ہوتی اور غزہ سے از خود جلا وطن نہیں ہوتی، تب تک جنگ بند نہیں کی جائے گی۔ اسرائیلی ذرائع کے مطابق، موجودہ تجویز میں انسانی امداد کی فراہمی اور محدود فوجی انخلا شامل ہے، لیکن اسرائیل نے جنگ کے مکمل خاتمے پر کوئی وعدہ نہیں کیا۔ اسرائیل کے مطابق، 60 روزہ جنگ بندی محض ایک عبوری مرحلہ ہوگا تاکہ قیدیوں کے تبادلے اور امدادی سرگرمیوں کو ممکن بنایا جا سکے، تاہم مستقل جنگ بندی کا انحصار حماس کے مکمل خاتمے پر ہوگا۔ غزہ میں جنگ بندی کے حوالے سے ہونے والی حالیہ پیش رفت یقینا خوش آئند ہے مگر المنا ک صورتحال یہ ہے کہ ایک طرف جنگ بندی کے لیے کوششیں کی جارہی ہیں تو دوسری جانب غزہ کے نہتے عوام پر اسرائیلی درندگی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران 250 افراد ان حملوں کا نشانہ بن چکے ہیں۔ قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق یہ امدادی مراکز وہی ہیں جنہیں امریکا اور اسرائیل کی حمایت حاصل ہے، اور اقوامِ متحدہ انہیں ’موت کا پھندا‘ قرار دے چکی ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارے یو این آر ڈبلیو اے کے نمائندے سیم روز کے مطابق، غزہ کے محصور علاقوں میں خوراک کی تلاش میں نکلنے والے بے بس شہری جان بوجھ کر اپنی زندگی خطرے میں ڈال رہے ہیں کیونکہ بھوک نے انہیں مجبور کر دیا ہے۔ علاوہ ازیں غزہ میں وزارت صحت نے تصدیق کی ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی حملوں میں امداد کے منتظر 12 افراد سمیت مزید 118 فلسطینی شہید اور 581 دیگر زخمی ہوگئے۔ جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے، غزہ میں اسرائیلی فوج کی جانب سے امدادی مراکز پر کی جانے والی فائرنگ اور حملوں میں صرف 5 ہفتوں میں 600 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔ غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے اور جس بے دردی سے غزہ کے معصوم اور نہتے شہریوں کا نشانہ بنایا جارہا ہے، اس پر پوری دنیا مضطرب، پریشان اور سراسیمہ ہے۔ اس صورتحال میں قطر نے اوّل روز سے قائدانہ کردار ادا کرتے ہوئے جنگ بندی کی کوششیں کیں، بعد ازاں ان کوششوں میں امریکا اور مصر بھی شریک ہوئے۔ ثالثی ممالک کی کوششوں سے نومبر 2023 کے بعد رواں سال کی ابتداء میں بھی جنگ بندی کے معاہدے ہوئے مگر ہر بار اسرائیل نے جنگ کے معاہدے کو سبوتاژ کیا۔ حالیہ جنگ بندی کے مجوزہ منصوبے میں ایک اہم پہلو امریکا کی سیاسی ضمانت ہے۔ منصوبے کے مطابق سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاہدے سے وابستگی ظاہر کی ہے اور اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ 60 دن کی جنگ بندی کے دوران سنجیدہ مذاکرات ہوں گے۔ اگر اس دوران مکمل معاہدہ نہیں ہو پاتا تو اس مدت میں توسیع بھی ممکن ہے۔ یہ مجوزہ 60 روزہ جنگ بندی نہ صرف انسانی جانوں کو محفوظ بنانے کی کوشش ہے بلکہ اس سے ایک نئے سیاسی عمل کا آغاز بھی ہو سکتا ہے۔ اگر اسرائیل خلوص نیت سے مذاکرات کرے تو یہ معاہدہ غزہ میں مستقل امن کے قیام اور دیرینہ تنازع کے خاتمے کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہوسکتا ہے، اب دیکھنا ہے کہ امریکا اور اسرائیل حقیقتاً جنگ بندی کے خواہاں ہیں یا یہ سب کچھ محض قیدیوں کی بازیابی کی کوشش ہے، غزہ میں جنگ بندی کے ٹھوس اقدامات خطے میں امن کے قیام کے لیے ناگزیر ہیں، یہ وہ حقیقت ہے جس کا ادارک کیا جانا چاہیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جنگ بندی کے جنگ بندی کی اسرائیل نے معاہدے کے کے مطابق کے دوران نہیں ہو جائے گی حماس کے غزہ کے کے لیے کرے گی اور اس جنگ کے
پڑھیں:
ٹرمپ کے بدلتے پینترے
امریکا ایران معاہدے کے حوالے سے فریقین کے درمیان بیشتر نکات پر اتفاق ہو چکا ہے، تاہم حتمی معاہدے کے لیے ابھی وقت درکار ہے۔ بعض معاملات پر دونوں جانب سے سخت گیر موقف کے باعث مذاکرات کی تان بار بار ٹوٹ جاتی ہے۔ بالخصوص امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بدلتے ہوئے بیانات، غیر لچکدار رویے اور نت نئی شرائط پیش کرنے کی وجہ سے تادم تحریر حتمی معاہدہ طے نہ پا سکا۔ نیز مذاکرات کا عمل ہنوز جاری ہے۔
دونوں جانب سے تجاویز اور شرائط کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔ پاکستان سر توڑ کوشش میں مصروف ہے کہ کسی صورت امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت ہو جائے اور حتمی معاہدہ طے پا جائے تاکہ مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہو، سروں پر منڈلاتے جنگ کے بادل ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں۔ اس ضمن میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کاوشوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے ابھی چند روز قبل فیلڈ مارشل نے ایران کا ہنگامی دورہ اور ایران کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کرکے مجوزہ امن معاہدے کے نکات پر بات چیت کی۔ عالمی ذرائع ابلاغ نے فیلڈ مارشل کے تہران کے دورے کو نمایاں طور پر شائع کیا جس کے مطابق فیلڈ مارشل کے تہران دورے نے مذاکرات کو حتمی نتیجے تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق دو تین نکات پر اختلاف اب بھی برقرار ہے۔ الجزیرہ کے مطابق واشنگٹن منجمد اثاثوں کی بحالی اور لبنان میں جنگ کے دو اہم نکات پر مفاہمت سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔ یورینیم کی افزودگی اور آبنائے ہرمز پر جنگ کے آغاز سے پہلے کی طرح مکمل ایرانی کنٹرول پر بھی اختلاف اپنی جگہ موجود ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی مذاکراتی ٹیم کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ معاہدے میں جلد بازی نہ کرے، کوئی غلطی نہیں ہونی چاہیے اور وقت ہمارے ہاتھ میں ہے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی عندیا دیا ہے کہ کسی بھی حتمی معاہدے تک ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔
دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر کے فوجی مشیر محسن رضائی کا موقف ہے کہ قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے آبنائے ہرمز کا انتظام سنبھالنا ایران کا قانونی حق ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے یہ اہم بیان دیا ہے کہ ان کا ملک دنیا کو اس بات کا یقین دلانے کو تیار ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں ہے لیکن ایرانی مذاکرات کار ملک کی عزت اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے حوالے سے ایران کی اعلانیہ پیش کش کے بعد صدر ٹرمپ کا افزودہ یورینیم کی ایران سے منتقلی پر زور دینے کا جواز باقی نہیں رہتا، لیکن اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا یہ بیان کہ ان کی اور صدر ٹرمپ کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
ہمارے مابین اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ تہران کے ساتھ کسی بھی حتمی معاہدے میں جوہری خطرے کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے، اس امر کا عکاس ہے کہ اسرائیل امریکا ایران ممکنہ معاہدے کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے نیتن یاہو کی کوشش اور خواہش ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ان کی مرضی کے مطابق ہو اور خطے میں اس کا اثر و رسوخ کم نہ پڑنے پائے۔ اسی باعث وہ صدر ٹرمپ کو بہکاتے اور اکساتے رہتے ہیں اور صدر ٹرمپ اسرائیل کی سازشی چالوں کے فریب میں آ کر ایسے دھمکی آمیز بیانات جاری کرتے ہیں جن سے امن مذاکرات چار قدم آگے بڑھتے ہیں تو دو قدم پھر پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور پرنالہ وہیں کا وہیں رہتا ہے۔
ابھی امن مذاکرات حتمی مراحل میں داخل نہیں ہوئے کہ صدر ٹرمپ نے پھر معاہدہ ابراہیمی کا نیا شوشہ چھوڑ دیا ہے۔ ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک عظیم معاہدہ ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا اور دوبارہ جنگ ہوگی۔ صدر ٹرمپ کے دھمکی آمیز صبح شام بدلتے بیانات مطالبات اور کڑی شرائط معاہدے کو سبوتاژ کرنے کا باعث بن سکتے ہیں ۔