1947 ء کا موسمِ بہار تھا جب یورپ سے آئے اجنبی چہروں والے قافلے فلسطین کی سرزمین پر اترے۔ یہ وہ لوگ تھے جنہیں دنیا اشکنازی یہودیوں کے نام سے جانتی ہے۔ ان کے چہروں پر مظلومیت کی جھوٹی پرچھائیاں اور دلوں میں ایک پرانا خواب تھا۔ ارضِ مقدس پر قبضہ !فلسطینی عربوں نے انسانیت کے ناطے انہیں پناہ دی، کھانے کو دیا، رہنے کو جگہ دی، مگر شاید وہ جانتے نہ تھے کہ جنہیں وہ مہمان سمجھ رہے ہیں وہی کل ان کے گھروں کے مالک بن بیٹھیں گے۔
اشکنازی یہودی اصل میں یورپ کے مختلف ممالک جیسے جرمنی، پولینڈ، روس، ہنگری اور آسٹریا سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کی زبان عبرانی نہیں بلکہ یدش (Yiddish) تھے جو جرمن اور عبرانی کا ایک مرکب تھی۔ یہ لوگ وہاں صدیوں سے رہ رہے تھے لیکن جب نازی جرمنی نے دوسری جنگِ عظیم میں یہودیوں پر مظالم شروع کیے تو لاکھوں یہودی جان بچا کر نکلے۔ دنیا کے مختلف ممالک میں بکھرنے کے بجائے ان کا رخ فلسطین کی طرف تھا کیونکہ وہاں صہیونی تحریک پہلے سے ہی کام کر رہی تھی۔
کہا جاتا ہے کہ انیسویں صدی کے آخر میں صہیونیت یعنی Zionism کی ایک تحریک نے جنم لیا ۔ اس کا بانی تھیوڈور ہرزل تھا جس نے دعویٰ کیا کہ دنیا کے تمام یہودیوں کو ایک الگ ریاست ملنی چاہیے اور وہ ریاست صرف فلسطین میں بننی چاہیے۔ یہ محض ایک مذہبی یا روحانی خواب نہیں تھا بلکہ ایک سیاسی منصوبہ تھا جسے مغربی طاقتوں کی بھرپور حمایت حاصل تھی خاص طور پر برطانیہ اور بعد ازاں امریکہ کی۔1917 ء میں اس وقت کے برطانوی سیکریٹری خارجہ آرتھر بالفور نے بالفور اعلامیہ جاری کیا جس میں یہودیوں کو فلسطین میں قومی وطن قائم کرنے کا وعدہ کیا گیا۔ یہ اعلان اس وقت ہوا جب فلسطین پر عثمانی خلافت کی گرفت ختم ہو چکی تھی اور برطانیہ نے فلسطین کو اپنا انتداب بنا لیا تھا۔
جب یہودی قافلے آنا شروع ہوئے تو فلسطینی عربوں نے انہیں انسانی ہمدردی کے تحت خوش آمدید کہا۔ کئی علاقوں میں زمین فروخت کی گئی، کئی جگہوں پر یہودیوں نے آبادیاں بسائیں لیکن ان کی تعداد پھر بھی اقلیت میں تھی۔ 1947ء تک فلسطین میں کل یہودیوں کی آبادی 30 فیصد سے بھی کم تھی جبکہ 70 فیصد سے زائد فلسطینی مسلمان اور عیسائی عرب تھے۔ مگر یہودیوں نے پہلے دن سے ہی ایک منظم حکمت عملی اختیار کی۔ زمین خریدنا، مسلح گروہ تیار کرنا، خفیہ ملیشیا قائم کرنا اور مغربی دنیا میں لابنگ کر کے اپنے لیے عالمی ہمدردی حاصل کرنا۔چودہ مئی 1948 ء کو وہ دن آیا جب دنیا کے نقشے پر ایک ناجائز ریاست اسرائیل کے نام سے وجود میں آئی۔ اگلے ہی روز عرب ممالک نے اس کے خلاف اعلانِ جنگ کیا مگر بدقسمتی سے عربوں کی قیادت بکھری ہوئی، تیاری ناکافی اور عزائم غیر واضح تھے۔ اسرائیل نے برطانوی اسلحے، امریکی تعاون اور یورپی لابیوں کی مدد سے نہ صرف اپنا وجود قائم رکھا بلکہ فلسطینیوں کو ان کے ہی گھروں سے نکال دیا۔ اس سانحے کو آج ’’نکبہ‘‘ (تباہی) کہا جاتا ہے۔
تقریباً 8 لاکھ فلسطینی اپنے گھروں، کھیتوں، مسجدوں، قبرستانوں، بازاروں اور قصبوں سے نکال دیئے گئے۔ کئی کو قتل کیا گیا، خواتین کی عصمت دری کی گئی، بچے یتیم اور خاندان برباد ہو گئے۔ یافا، حیفا، صفد، طبریہ اور لد جیسے شہر خالی کرائے گئے اور ان پر یہودی قابض ہو گئے۔
فلسطینیوں نے جنہیں نازی مظالم سے بچنے کے لیے پناہ دی تھی وہی آج ان کے گھروں کے مالک بن بیٹھے۔ اشکنازی یہودیوں نے اپنی چالاکی، مغربی حمایت اور منظم منصوبہ بندی کے ذریعے اپنے ہی محسنوں کی زمین پر ظلم کا پہاڑ توڑ دیا۔ انہوں نے نہ صرف فلسطین پر قبضہ کیا بلکہ پوری تاریخ کو بھی مسخ کیا۔ مسجد اقصیٰ سے لے کر حیفا کے اسکولوں تک ہر چیز کو یہودی شناخت دینے کی کوشش کی ۔ یہاں تک کہ آج کے جدید اسرائیل میں اگر کوئی فلسطینی اپنی شناخت پر فخر کرے، اپنی زبان بولے یا اپنے حقوق مانگے تو وہ دہشت گرد کہلاتا ہے۔
آج اسرائیل دنیا کی جدید ترین فوجی طاقتوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس کے پاس ایٹمی ہتھیار ہیں، جدید فضائیہ ہے، طاقتور انٹیلی جنس ایجنسی ’’موساد‘‘ ہے اور اسے امریکہ اور یورپ جیسے طاقتور ممالک کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔ لیکن اس تمام طاقت کے باوجود اسرائیل ایک خوفزدہ ریاست ہے۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس کا وجود ظلم پر قائم ہے، جھوٹ پر قائم ہے اور جبر پر قائم ہے۔غزہ کی گلیوں میں پتھروں سے لڑتے بچے، مقبوضہ بیت المقدس میں نماز پڑھتے نمازی اور لبنان کی سرحد پر مزاحمت کار یہ سب اسرائیل کی نیندیں حرام کیے ہوئے ہیں۔جس طرح وہ 1947 ء میں یورپ سے آئے تھے اور جس طرح وہ فلسطین میں زبردستی داخل ہوئے تھے ان شا اللہ وہ دن بھی دور نہیں جب وہ اسی ذلت سے نکالے جائیں گے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ظلم جتنا بھی طاقتور ہو وہ ہمیشہ عارضی ہوتا ہے۔ نمرود، فرعون، ہٹلر، اور موسولینی جیسے جابر حکمران آج تاریخ کی گرد میں دفن ہو چکے ہیں۔ اسرائیل بھی اسی انجام سے نہیں بچ سکے گا۔فلسطین کے نوجوان، غزہ کے مجاہد، اور القدس کے نمازی اس دن کے لیے پر امید ہیں جب قابض کو اس سرزمین سے نکال باہر کیا جائے گا یا وہ انجام کو پہنچے گا۔دنیا خاموش نہیں رہی۔ اب یورپ، امریکہ اور آسٹریلیا جیسے ممالک میں بھی لاکھوں لوگ فلسطین کے حق میں آواز اٹھا رہے ہیں۔ سوشل میڈیا نے سچ کو عام کر دیا ہے۔ وہ فلسطینی مظلوم بچے جن کی تصویریں کبھی دکھائی نہ دیتی تھیں آج دنیا بھر میں دلوں کو جھنجھوڑ رہی ہیں۔یہ تحریر صرف تاریخ کا ایک گوشہ نہیں بلکہ ایک زندہ حقیقت ہے۔ آج بھی ظلم جاری ہے، آج بھی اشکنازی یہودی فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے نکال رہے ہیں، آج بھی بیت المقدس قید ہے اور آج بھی عالمی ضمیر امتحان میں ہے۔ لیکن امید زندہ ہے اور حالات اسرائیل کو ہر آنے والے دن مشکلات کی طرف لے جا رہے ہیں۔ جن یہودیوں کو امن اور آئرن ڈوم جیسی فوجی تنصیبات اور لاکھوں ڈالر کے پیکیج اور مراعات دے کر اسرائیل میں آباد کر کے یہاں کی آبادی کو بڑھایا جا رہا تھا اب ایران اسرائیل جنگ کے بعد لاکھوں یہودی دوبارہ اسرائیل چھوڑ کر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے یورپ اور امریکی ممالک کو واپس روانہ ہو نا شروع ہو چکے ہیں۔ حالات تبدیل ہو رہے ہیں۔ شہیدوں کا لہو ، مجاہدین کے وار اور فلسطینیوں کی مزاحمت رنگ لانے والی ہے۔ فلسطین کا سورج طلوع ہونے والا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: اشکنازی یہودی فلسطین میں رہے ہیں سے نکال ہے اور آج بھی
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
پاکستان سمیت 8 عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ اور الحرم الشریف میں اسرائیلی اشتعال انگیز اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ مشترکہ اعلامیے میں اسرائیل سے فوری طور پر ان اقدامات کو روکنے اور عالمی برادری سے مؤثر کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
پاکستان، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ (الحرم الشریف) میں اسرائیل کی حالیہ اشتعال انگیزی اور کشیدگی میں اضافے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدامات بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں انتہا پسند اسرائیلی وزراء کی قیادت میں یہودی آبادکاروں کی مسلسل اجتماعی دراندازی، مسجد اقصیٰ کے صحن میں اسرائیلی پرچم لہرانا، اسرائیلی پولیس کی جانب سے دو خیمے نصب کرنا اور دیگر اشتعال انگیز اقدامات نہایت خطرناک اور ناقابل قبول ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی انتہا پسند وزراء اور گروہوں کی جانب سے اشتعال انگیزی، مسجد اقصیٰ میں دراندازی پر اکسانے اور تشدد پر مبنی بیانات کی بھی شدید مذمت کی۔ اعلامیے میں خبردار کیا گیا کہ ایسے اقدامات نفرت اور انتہا پسندی کو فروغ دیتے ہیں اور دو ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ اور پائیدار امن کی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ یروشلم کے قدیم شہر اور اس کے مذہبی مقامات تک رسائی پر پابندیاں، خصوصاً مسلمانوں اور دیگر عبادت گزاروں کے ساتھ امتیازی سلوک، بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ یہ اقدامات مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت کو تبدیل کرنے کی ایک غیرقانونی کوشش ہیں۔
وزرائے خارجہ نے واضح کیا کہ اسرائیل کو مقبوضہ یروشلم یا وہاں موجود اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات پر کسی قسم کی خودمختاری حاصل نہیں۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ اسرائیل بطور قابض طاقت مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے کے لیے منظم اقدامات کر رہا ہے، جو اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے تقدس اور حیثیت کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہیں۔
آٹھوں ممالک نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کی کوشش کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے اس حیثیت کے تحفظ پر زور دیا۔ اعلامیے میں مقدس مقامات کی نگرانی کے حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا گیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35 ایکڑ) رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے۔ مزید کہا گیا کہ اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور کے ماتحت یروشلم اوقاف اور مسجد اقصیٰ امور کا محکمہ ہی وہ واحد قانونی ادارہ ہے جو مسجد اقصیٰ کے انتظام و انصرام اور وہاں داخلے کے معاملات کا مجاز ہے۔
وزرائے خارجہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ بطور قابض طاقت فوری طور پر یروشلم کے قدیم شہر میں عائد تمام پابندیاں ختم کرے، مسجد اقصیٰ میں مسلمانوں کی عبادت میں رکاوٹ ڈالنے سے باز آئے اور مقدس مقامات کے تقدس کا احترام کرے۔
مشترکہ اعلامیے میں عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ وہ اسرائیل کو یروشلم میں اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے خلاف جاری غیرقانونی اقدامات اور خلاف ورزیوں سے باز رکھنے کے لیے واضح، مضبوط اور مؤثر موقف اختیار کرے، تاکہ مقدس مقامات کی حرمت اور تاریخی حیثیت کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں