سیمینار سے خطاب میں مختلف مکاتب فکر کے علماء مشائخ و اکابرین نے کہا کہ امریکی ٹرمپ کا ابراہیمی معاہدہ اسلام کے منافی اور شہدائے پاکستان، فلسطین و کشمیر سے بغاوت قرار دیتے ہیں، امریکی شیطانی منصوبہ پاکستان پر مسلط نہیں ہونے دیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ متحدہ علماء محاذ پاکستان کے بانی سیکریٹری جنرل مولانا محمد امین انصاری کی زیر صدارت چہلم امام حسین علیہ السلام کے موقع پر پیغام شہدائے کربلا و یکجہتی شہدائے فلسطین سیمینار میں شریک مختلف مکاتب فکر کے علماء مشائخ، سیاسی زعماء، دانشور، صحافی، وکلاء، تاجر و ممتاز شخصیات نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہدائے فلسطین نے شہدائے کربلا کی یادیں تازہ اور یزیدیت کا چہرہ آشکار کردیا ہے، حکومت چہلم امام حسین علیہ السلام اربعین پر فول پروف سیکورٹی انتظامات کو یقینی بنائے علماء و عوام امن و اتحاد کی فضا قائم رکھیں، امریکی ٹرمپ کا ابراہیمی معاہدہ اسلام کے منافی اور شہدائے پاکستان، فلسطین و کشمیر سے بغاوت قرار دیتے ہیں۔

رہنماؤں نے کہا کہ امریکی شیطانی منصوبہ پاکستان پر مسلط نہیں ہونے دیں گے، سیدنا امام حسینؑ بلارنگ و مسلک پوری انسانیت کیلئے رہبر و ذریعہ نجات اور ان سے محبت کل ایمان ہے، امام حسینؑ اگر یزید کے ہاتھ پر بیعت کرلیتے تو قیامت تک کسی عالم کو محراب و منبر پر ظالم و جابر حکمراں کے خلاف حق و سچ بیان کرنے کی جرأت نہ ہوتی، امام حسینؑ نے پوری انسانیت میں جذبہ حریت اور ظلم کے خلاف بیداری کا شعور دیا، آج فلسطین و کشمیر میں بھارتی و اسرائیلی انسانیت سوز مظالم کے خلاف جہاد و قربانیاں دینے والے کردار و افکار حسینی کو زندہ کررہے ہیں، شہدائے کربلا و شہدائے فلسطین نے حق و صداقت، جرأت و حریت و آزادی کیلئے اسلام و مسلمانوں کو نئی جلا بخشی ہے۔

سیمینار سے علامہ عبدالخالق فریدی سلفی،علامہ ڈاکٹر مفتی عبدالغفور اشرفی، علامہ پروفیسر ڈاکٹر سید شمیل احمد قادری حنبلی، علامہ سید سجاد شبیر رضوی، صاحبزادہ مولانا منظرالحق تھانوی، مولانا مفتی محمد داؤد، مولانا مفتی وجیہہ الدین، علامہ مرتضیٰ خان رحمانی سلفی، علامہ عبدالماجد فاروقی، علامہ مفتی علی المرتضیٰ، مولانا حافظ محمد ابراہیم چترالی، مولانا پیر حافظ گل نواز خان ترک و دیگر نے خطاب کیا جبکہ سیمینار کا آغاز مولانا قاری محمد اقبال رحیمی نے تلاوت قرآن کریم سے کیا، معروف نعت و منقبت خواں مفتی رفیع اللہ رفعت، حافظ ابوبکر بیروی نے سیدنا امام حسینؑ کی شان میں نذرانہ عقیدت پیش کیا۔ اس موقع پر علماء نے ہاتھوں میں ہاتھ بلند کرکے فلسطین کشمیر افواج پاکستان کیساتھ اظہار یکجہتی کیا۔ مولانا منظرالحق تھانوی نے ملکی امن و استحکام کیلئے خصوصی دعا کرائی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: شہدائے فلسطین شہدائے کربلا

پڑھیں:

اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید

راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
 
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
 
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • محبوبہ مفتی کا نئی دلی سے مذاکرات کیلئے متحدہ سیاسی محاذ بنانے پر زور
  • 99 ووٹ لے کر بنگلہ دیش نے دنیا کو حیران کردیا، اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی صدارت جیت لی
  • اسحاق ڈار کا کویتی وزیر خارجہ سے رابطہ‘ بیلجیئم میں تعینات پاکستانی سفیر کی ملاقات
  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان