سائنس دانوں نے انڈونیشیا کے ساحل میں کے نیچے دفن ایک ایسی دریافت کی ہے جو ممکنہ طور پر انسانوں کی تاریخ کو بدل سکتی ہے۔

سائنس دانوں کو جاوا اور مدورا کے جزائر کے درمیان موجود مدورا اسٹریٹ میں ساحل کی ریت میں دفن 1 لاکھ 40 ہزار برس پرانی قدیم انسان کی کھوپڑی دریافت ہوئی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ جگہ ممکنہ طور پر گمشدہ دنیا ( غرقاب سنڈا لینڈ نامی قبل از تاریخ دور کا وہ خطہ جو جنوب مشرقی ایشیا سے جڑا ہوا تھا) کا پہلا طبعی ثبوت ہوسکتی ہے جو کہ 1 لاکھ 40 ہزار برس قبل دریاؤں کے ساتھ ایک وسیع پیمانے پر پھیلا ہوا خطہ تھا۔

کھوپڑی کی ہڈیوں کے ساتھ محققین نے 36 انواع کے جانوروں کے 6000 فاسل بھی دریافت کیے جن میں کوموڈو ڈریگن، بھینسے، ہرن اور ہاتھی کی باقیات شامل تھیں۔

ان میں سے کچھ پر جبری کٹ کے نشانات تھے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ابتدائی انسان جانوروں کے شکار کے لیے جدید طریقے استعمال کرتے تھے۔

یہ باقیات میری ٹائم سینڈ مائنرز نے 2011 میں دریافت کی تھیں لیکن ماہرین نے حال ہی میں ان کی عمر اور انواع کا تعین کیا ہے جو کہ پیلیو اینتھروپولوجی کے شعبے میں ایک اہم کامیابی ہے۔

تحقیق میں ماہرین سمندر کے نیچے دفن سولو دریا کے وادی کے سسٹم کو دریافت کیا اور ان باقیات کی عمر کا اندازہ 1 لاکھ 62 ہزار سے 1 لاکھ 19 ہزار برس کے درمیان لگایا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: دریافت کی

پڑھیں:

عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ

اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔

تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔

ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔

تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔

پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟

توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • چیری نے پاکستان میں اپنی گاڑیوں کے تمام ماڈلز کی قیمتیں بڑھا دیں
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی،فی تولہ نئی قیمت جانئے
  • قادر آباد بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب، چناب میں پانی کا بہاؤ بڑھ گیا
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • ہیڈ مرالہ میں پانی کی سطح میں ایک بارپھر اضافہ
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع