فرانس میں مرنے کا قانونی حق منظور، 90 فیصد عوام کی حمایت حاصل
اشاعت کی تاریخ: 28th, May 2025 GMT
اس قانون کے تحت وہ افراد جو شدید، لاعلاج بیماری میں مبتلا ہیں اور ناقابل برداشت تکلیف کا سامنا کر رہے ہیں، وہ قانونی طور پر طبی مدد سے اپنی زندگی ختم کرنے کی درخواست دے سکیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ فرانس کی پارلیمنٹ نے ایک متنازعہ لیکن تاریخی "حقِ موت" (Assisted Dying Bill) کے بل کو ابتدائی منظوری دے دی ہے۔ اس قانون کے تحت وہ افراد جو شدید، لاعلاج بیماری میں مبتلا ہیں اور ناقابل برداشت تکلیف کا سامنا کر رہے ہیں، وہ قانونی طور پر طبی مدد سے اپنی زندگی ختم کرنے کی درخواست دے سکیں گے۔ فرانسیسی نیشنل اسمبلی میں یہ بل 305 ووٹوں سے منظور ہوا جبکہ 199 ارکان نے مخالفت کی۔ صدر ایمانویل میکرون نے اس پیش رفت کو "بھائی چارے کی راہ میں اہم قدم" قرار دیا ہے۔ تاہم قدامت پسند جماعتوں کی جانب سے سخت مخالفت جاری ہے۔ قانون کے مطابق، ایسے مریض جو 18 سال سے زائد عمر کے ہوں، فرانس کے شہری یا مستقل رہائشی ہوں اور ناقابل برداشت اور لاعلاج بیماری کے آخری مرحلے میں ہوں وہ درخواست دے سکیں گے۔ اس عمل میں کئی حفاظتی شرائط شامل ہیں، جیسے رضاکارانہ درخواست، میڈیکل ٹیم کی منظوری اور نظرثانی کی مدت۔ اگر مریض خود دوا لینے کے قابل نہ ہو، تو ڈاکٹر یا نرس کی مدد سے دوا دی جا سکتی ہے۔ دوا گھر، نرسنگ ہوم یا اسپتال میں لی جا سکتی ہے۔ اب یہ بل فرانسیسی سینیٹ میں بحث کے لیے جائے گا، تاہم نیشنل اسمبلی کے پاس اختلاف کی صورت میں آخری فیصلہ کرنے کا اختیار ہے۔حالیہ سروے کے مطابق فرانس کی 90 فیصد عوام اس قانون کی حمایت کرتی ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں میں یہ حمایت مسلسل بڑھتی رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔
بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔