کراچی:

شہر قائد میں ظالم سفاک شخص نے  اپنی دو کم عمر سوتیلی بیٹیوں کو بدترین تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔

نارتھ کراچی شاہنوازبھٹوکالونی میں سفاک شخص نے 2 کم عمربہنوں (سوتیلی بیٹیوں) کوبدترین تشدد کانشانہ بنا ڈالا  اور فرار ہوگیا۔ پولیس نے واقعے کا مقدمہ متاثرہ بچیوں کے ماموں عمران شفیع کی مدعیت میں  سوتیلے باپ کے خلاف  اقدام  قتل کی دفعہ کے تحت درج کرلیا۔

خواجہ اجمیر نگری نارتھ کراچی  سیکٹر 14 اے شاہنوازبھٹوکالونی میں مدعی مقدمہ کے مطابق میری بھانجیوں مقدس اوربشریٰ  کواس کے سوتیلے باپ شہریارعرف شیری نے بدترین تشدد کانشانہ بنایا ہے اورتشدد کرنے کے بعد سوتیلا باپ فرارہوگیا ہے۔

مدعی مقدمہ کے مطابق میرے بہنوئی تابش علی کا2019ء  میں انتقال ہو گیا تھا اور2 سال  قبل میری بہن ندا  نے اپنی مرضی سے شہریار عرف شیری سے نکاح کرلیا تھا۔ شادی کے بعد میری بہن ندا دونوں بچیوں کو بھی ساتھ لے گئی تھی جب کہ اس شادی کے بعد ہمارا ملنا جلنا نہیں تھا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ سوتیلے باپ نے 22 اور 23 مئی کو دونوں بچیوں کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ سوتیلا باپ اس سے قبل بھی تشدد کا نشانہ بنا چکا تھا۔ انہوں نے بتایاکہ پہلے بچیوں کوسندھ گورنمنٹ اسپتال اورگزشتہ روزسول اسپتال لے کر پہنچے۔ بچیوں کے جسم پر تشدد کے نشانات بہت واضح ہیں۔

پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ کے مطابق  متاثرہ بچیوں کومنگل کے روز اسپتال لایا گیا  تھا ، جن کے جسم پرتشدد کے نشانات 5، 6 روز پرانے معلوم ہوتے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بچیوں کےجسم سے نمونے حاصل کرلیے گئے ہیں۔  بچیوں سے زیادتی ہوئی ہے یا نہیں رپورٹ میں تصدیق ہوگی۔ دونوں بہنوں کی عمریں 8 سال اور 16 سال ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: تشدد کا نشانہ بنا بدترین تشدد کا بچیوں کو

پڑھیں:

سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی

بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔

عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔

Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy

— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 2026

59 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔

اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔

سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایچ آئی وی کے خلاف حکومت سندھ موثر اقدامات کر رہی ہے، وزیر صحت
  • عطاء اللّٰہ خان عیسیٰ خیلوی کا اپنی قبر تیار کرنے کا انکشاف
  • ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق