اسلام آباد : جماعت اسلامی کے رہنما مشتاق احمد کی اہلیہ، بیٹی اور بیٹے کو گرفتار کرلیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 28th, May 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن )جماعت اسلامی کے رہنما مشتاق احمد کی اہلیہ ، بیٹی اوربیٹا گرفتار کرلیا گیا، مشتاق احمد نے بتایا کہ اہلیہ نے پریس کلب کے سامنے غزہ کیلئے تعزیتی کیمپ لگایا تھا۔ کیا اسلام آباد میں مظلوم فلسطینیوں کیلئے تعزیتی کیمپ لگانا جرم ہے ؟
نجی ٹی وی آج نیوز کے مطابق اسلام آباد پولیس نے جماعت اسلامی کے رہنما مشتاق احمد کی اہلیہ حمیرا طیبہ، بیٹی مریم صدیقہ اور چھوٹے بیٹے علی اور دیگرخواتین کوگرفتارکرکے کوہسارتھانے میں بند کردیا۔
مشتاق احمد نے بتایا کہ اہلیہ نے پریس کلب کے سامنے غزہ کیلئے تعزیتی کیمپ لگایا تھا، کوئی احتجاجی کیمپ نہیں، پولیس کی فاشزم بدترین اسرائیل نوازی ہے۔
رہنما جماعت اسلامی نے کہا کہ کیا اسلام آباد میں مظلوم فلسطینیوں کیلئے تعزیتی کیمپ لگانا جرم ہے ؟ کیا یہ ہے شہبازشریف اورمحسن نقوی اور ان کے سر پرستوں کی فلسطین پالیسی؟۔
روس نے شمالی یوکرین پر حملے کیلئے 50 ہزار فوجی جمع کر لیے، اب تک کا بڑا دعویٰ
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: کیلئے تعزیتی کیمپ جماعت اسلامی اسلام آباد مشتاق احمد
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔