Express News:
2026-07-24@05:39:28 GMT

پانی کی بچت کیجیے

اشاعت کی تاریخ: 29th, May 2025 GMT

آج ہی ہمیں اپنی ہاؤسنگ سوسائٹی کی طرف سے ایک نوٹس آیا ہے ، ’’ گرمی کی شدت کی وجہ سے آج کل پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے، آپ اس مشکل وقت میں پانی کے استعمال میں کمی کر کے اس بحران پر قابو پانے میں مدد کر سکتے ہیں، براہ کرم اپنی گاڑیاں اور گھروں کی گلیاں دھونے سے گریز کریں، پودوں کو بھی کوشش کریں کہ کم سے کم پانی دیں ۔ ‘‘

کیا یہی کافی ہے کہ ہم اگر اپنی گاڑیاں نہ دھوئیں اور گھروں کی گلیاں نہ دھوئیں تو پانی کی بچت کی جاسکتی ہے؟ میں چند مثالیں ایک درمیانہ طبقے کے گھر کی دیتی ہوں، ایک گھر کے صبح سے رات سونے تک کے معمول میں پانی کا کس طرح اور کتنا زیاں ہوتا ہے ۔ ہم ایک ایسے گھر کی مثال لیتے ہیں جہاں گھر میں چھ لوگ رہتے ہوں جو کہ ہمارے ملک کا ایک محتاط اوسط گھرانے کا سائز ہے۔

ایک گھرمیں میاں بیوی، ان کے والدین یا والدین میں سے کوئی ایک رہتا ہے، دو سے چار تک بچے ہوتے ہیں۔ اگر اس گھر میں نصف لوگ بھی نماز پڑھتے ہوں تو وہ صبح وضو کرتے وقت کتنا پانی ضایع کرتے ہیں، نل کھول دیا جاتا ہے اور وضو کے تمام فرائض پورے کیے جاتے ہیں، جو وضو پانی کی بچت کی نیت کر کے فقط ایک لوٹا پانی سے کیا جا سکتا ہے، اس کے لیے ہر شخص کم از کم تین لوٹے پانی استعمال کرتا ہے۔

اس کے بعد جب باقی سب افراد جاگتے ہیں تو سب کے ہاتھ منہ دھونے، دانت برش کرنے کے دوران کہ جب ہم نل کھول کر برش کرتے ہوئے اپنے منہ کو کئی کئی زاویوں سے دیکھتے اور پس منظر میں پانی بہنے کی موسیقی سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ ہمارے ہاں ٹیلی وژن کے ڈراموں، اشتہاروں اور فلموں میں بھی ایسا ہی دکھایا جاتا ہے ۔ ہمارے ملک میں مرد حضرات کی عادت ہے کہ وہ سارا سال ہر روز سویرے ضرور نہاتے ہیں، ان کے شیو کرنے اور نہانے کے دوران کتنا پانی صرف ہوتا ہے، اندازہ کریں ۔

بعض لوگ فخر سے بتاتے ہیں کہ وہ تو دن میں دو تین بار نہاتے ہیں۔ بچپن میں سنا کرتے تھے کہ پانی اللہ تعالی کی دنیاوی نعمتوں میں سے سب سے بڑی نعمت ہے اور روز حشر سب سے کڑا حساب بھی پانی کا ہی ہوگا تو ہم پانی ضایع کرنے سے ڈرتے تھے۔گھروں میں کام والی مائیاں آتی ہیں تو انھیں کہاں احساس ہوتا ہے کہ پانی بچانا ہے یا بے مقصد بہانا ہے۔

وہ کپڑے ، برتن دھوتے وقت اور غسل خانوں کی صفائی کے دوران کتنے لٹر پانی فالتو بہا دیتی ہیں، کیا وہ برتن دھونے والا پانی کسی ٹب میں محفوظ کر کے اس سے گلیاں یا غسل خانے نہیں دھو سکتیں ۔ مجھے دیوانگی کی حد تک پانی کی بچت کرنے کا شوق ہے اور میں اپنے گھر والوں اور ملازموں کو اکثر اس بات پر چیک کرتی ہوں۔ ملازمائیں کچھ اس طرح کی نظر سے دیکھتی ہیں جیسے کہ میرے سر پر سینگ نکلے ہوئے ہوں اور میں کوئی خبطی ہوں جسے پانی بچانے کا مرض لاحق ہے۔

سبزیاں پھل دھونا ہوں یا چاول اور دالیں… میری کوشش ہوتی ہے کہ سنک میں نیچے ٹب رکھ کر اگر یہ سب دھلائی کی جائے تو وہ پانی پودوں کو دینے کے لیے استعمال ہو سکتا ہے۔ ملازم سمجھتے ہیں کہ اس طرح وہ پانی بچانے کی ایکسر سائز میں مصروف رہیں تو ان کا سارا دن اسی میں گزر جائے گا۔

انھیں اچھا لگتا ہے کہ وہ کھلا پانی بہائیں اور جلدی جلدی کام ختم کریں، اس کے بعد انھیں اپنے ٹیلی فونوں پر بھی مصروف ہونا ہوتا ہے۔ جب وہ خود نہاتے ہیں اور اپنے کپڑے اور برتن دھوتے ہیں تو انھیں کوئی کچھ دیکھنے اور کہنے والا نہیں ہوتا۔ اللہ تعالی کے عطا کردہ وسائل کو احتیاط سے استعمال کرنا اور انھیں اپنی اگلی نسلوں کے لیے بچانا ایک ایسا رجحان ہے جو تعلیم کی وجہ سے آتا ہے یا آپ کو بچپن میں ایسے بزرگوں کے زیر سایہ رہنا نصیب ہو جو یہ جانتے ہوں کہ جب ہم اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرتے اور ان کے استعمال میں احتیاط نہیں کرتے تو وہ نعمتیں ہم سے چھین لی جاتی ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ہوتا ہے ہیں تو

پڑھیں:

معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا

کراچی: ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کے الیکٹرک صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی۔ مالی سال 2026 کے دوران کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر بجلی کی مجموعی کھپت 6 ارب 8 کروڑ یونٹس (6.08 ارب یونٹس) ریکارڈ کی گئی، جو ادارے کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال کے دوران سب سے زیادہ ہے۔

کے الیکٹرک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صنعتی بجلی کی طلب میں یہ نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو مسلسل، قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی نے صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔

کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طہٰ نے کہا کہ صنعتی بجلی کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے بہتر ماحول، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری اعتماد میں اضافے نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔

انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور کے الیکٹرک 2013 سے صنعتی فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھے ہوئے ہے تاکہ صنعتوں کی پیداوار اور برآمدات متاثر نہ ہوں۔

بی تھری کیٹیگری میں سب سے زیادہ بجلی استعمال

اعلامیے کے مطابق سب سے زیادہ بجلی کا استعمال بی تھری (B3) کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا، جس میں 501 سے 5 ہزار کلوواٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکل اور دیگر بڑے صنعتی شعبے شامل ہیں۔

ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں صنعتی بجلی کی کھپت سب سے زیادہ رہی، جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔

گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد اضافہ

اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں صنعتی صارفین نے 5.04 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، جبکہ مالی سال 2026 میں یہ مقدار بڑھ کر 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔

اس سے قبل مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 5.84 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔

349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم

کے الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران 349 نئے صنعتی کنکشنز جاری کیے گئے، جبکہ 273 صنعتی صارفین نے اپنے بجلی کے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی، معاشی بحالی اور صنعتی پیداوار میں اضافے نے بھی بجلی کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔

کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف زمروں میں سب سے بہتر رہی، جو بروقت بلوں کی ادائیگی اور لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔

کے الیکٹرک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی کی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی آئندہ بھی اس کی اولین ترجیح رہے گی تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • موبائل سم صار فین ہوشیار ، پی ٹی اے کا اہم انتباہ جار ی
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی