Express News:
2026-06-03@03:16:20 GMT

پانی کی بچت کیجیے

اشاعت کی تاریخ: 29th, May 2025 GMT

آج ہی ہمیں اپنی ہاؤسنگ سوسائٹی کی طرف سے ایک نوٹس آیا ہے ، ’’ گرمی کی شدت کی وجہ سے آج کل پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے، آپ اس مشکل وقت میں پانی کے استعمال میں کمی کر کے اس بحران پر قابو پانے میں مدد کر سکتے ہیں، براہ کرم اپنی گاڑیاں اور گھروں کی گلیاں دھونے سے گریز کریں، پودوں کو بھی کوشش کریں کہ کم سے کم پانی دیں ۔ ‘‘

کیا یہی کافی ہے کہ ہم اگر اپنی گاڑیاں نہ دھوئیں اور گھروں کی گلیاں نہ دھوئیں تو پانی کی بچت کی جاسکتی ہے؟ میں چند مثالیں ایک درمیانہ طبقے کے گھر کی دیتی ہوں، ایک گھر کے صبح سے رات سونے تک کے معمول میں پانی کا کس طرح اور کتنا زیاں ہوتا ہے ۔ ہم ایک ایسے گھر کی مثال لیتے ہیں جہاں گھر میں چھ لوگ رہتے ہوں جو کہ ہمارے ملک کا ایک محتاط اوسط گھرانے کا سائز ہے۔

ایک گھرمیں میاں بیوی، ان کے والدین یا والدین میں سے کوئی ایک رہتا ہے، دو سے چار تک بچے ہوتے ہیں۔ اگر اس گھر میں نصف لوگ بھی نماز پڑھتے ہوں تو وہ صبح وضو کرتے وقت کتنا پانی ضایع کرتے ہیں، نل کھول دیا جاتا ہے اور وضو کے تمام فرائض پورے کیے جاتے ہیں، جو وضو پانی کی بچت کی نیت کر کے فقط ایک لوٹا پانی سے کیا جا سکتا ہے، اس کے لیے ہر شخص کم از کم تین لوٹے پانی استعمال کرتا ہے۔

اس کے بعد جب باقی سب افراد جاگتے ہیں تو سب کے ہاتھ منہ دھونے، دانت برش کرنے کے دوران کہ جب ہم نل کھول کر برش کرتے ہوئے اپنے منہ کو کئی کئی زاویوں سے دیکھتے اور پس منظر میں پانی بہنے کی موسیقی سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ ہمارے ہاں ٹیلی وژن کے ڈراموں، اشتہاروں اور فلموں میں بھی ایسا ہی دکھایا جاتا ہے ۔ ہمارے ملک میں مرد حضرات کی عادت ہے کہ وہ سارا سال ہر روز سویرے ضرور نہاتے ہیں، ان کے شیو کرنے اور نہانے کے دوران کتنا پانی صرف ہوتا ہے، اندازہ کریں ۔

بعض لوگ فخر سے بتاتے ہیں کہ وہ تو دن میں دو تین بار نہاتے ہیں۔ بچپن میں سنا کرتے تھے کہ پانی اللہ تعالی کی دنیاوی نعمتوں میں سے سب سے بڑی نعمت ہے اور روز حشر سب سے کڑا حساب بھی پانی کا ہی ہوگا تو ہم پانی ضایع کرنے سے ڈرتے تھے۔گھروں میں کام والی مائیاں آتی ہیں تو انھیں کہاں احساس ہوتا ہے کہ پانی بچانا ہے یا بے مقصد بہانا ہے۔

وہ کپڑے ، برتن دھوتے وقت اور غسل خانوں کی صفائی کے دوران کتنے لٹر پانی فالتو بہا دیتی ہیں، کیا وہ برتن دھونے والا پانی کسی ٹب میں محفوظ کر کے اس سے گلیاں یا غسل خانے نہیں دھو سکتیں ۔ مجھے دیوانگی کی حد تک پانی کی بچت کرنے کا شوق ہے اور میں اپنے گھر والوں اور ملازموں کو اکثر اس بات پر چیک کرتی ہوں۔ ملازمائیں کچھ اس طرح کی نظر سے دیکھتی ہیں جیسے کہ میرے سر پر سینگ نکلے ہوئے ہوں اور میں کوئی خبطی ہوں جسے پانی بچانے کا مرض لاحق ہے۔

سبزیاں پھل دھونا ہوں یا چاول اور دالیں… میری کوشش ہوتی ہے کہ سنک میں نیچے ٹب رکھ کر اگر یہ سب دھلائی کی جائے تو وہ پانی پودوں کو دینے کے لیے استعمال ہو سکتا ہے۔ ملازم سمجھتے ہیں کہ اس طرح وہ پانی بچانے کی ایکسر سائز میں مصروف رہیں تو ان کا سارا دن اسی میں گزر جائے گا۔

انھیں اچھا لگتا ہے کہ وہ کھلا پانی بہائیں اور جلدی جلدی کام ختم کریں، اس کے بعد انھیں اپنے ٹیلی فونوں پر بھی مصروف ہونا ہوتا ہے۔ جب وہ خود نہاتے ہیں اور اپنے کپڑے اور برتن دھوتے ہیں تو انھیں کوئی کچھ دیکھنے اور کہنے والا نہیں ہوتا۔ اللہ تعالی کے عطا کردہ وسائل کو احتیاط سے استعمال کرنا اور انھیں اپنی اگلی نسلوں کے لیے بچانا ایک ایسا رجحان ہے جو تعلیم کی وجہ سے آتا ہے یا آپ کو بچپن میں ایسے بزرگوں کے زیر سایہ رہنا نصیب ہو جو یہ جانتے ہوں کہ جب ہم اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرتے اور ان کے استعمال میں احتیاط نہیں کرتے تو وہ نعمتیں ہم سے چھین لی جاتی ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ہوتا ہے ہیں تو

پڑھیں:

اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید

راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
 
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
 
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا