اداکارہ مرینہ خان نے اپنی آخری خواہش بتا دی؛ مداح حیران رہ گئے
اشاعت کی تاریخ: 22nd, July 2025 GMT
اپنی بے ساختہ اداکاری سے برسوں تک مداحوں کے دل پر راج کرنے والی مرینہ خان نے اپنی آخری خواہش کا اظہار کرکے سب کو حیران کردیا۔
حال ہی میں ایک انٹرویو میں میزبان نے سوال کیا کہ مرنے سے پہلے آپ کون سی چیز آزمانا چاہیں گی جو آپ نے پہلے کبھی نہ کیا ہو؟
جس کے جواب میں اداکارہ مرینہ خان نے برجستہ پوچھا کہ کیا میں سچ بتادوں ؟ آپ اُسے کاٹ تو نہیں دیں گے، کیوں کہ زرا عجیب سی بات ہے۔
جب میزبان نے یقین دلایا کہ ان کا جواب من و عن ایسا ہی جائے گا جیسا آپ کہیں گی۔ جس پر مرینہ خان نے ہنستے ہوئے کہا کہ وہ زندگی میں ایک بار ڈرگز آزمانا چاہتی ہیں۔
مرینہ خان نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ صرف یہ جاننا چاہتی ہیں کہ لوگ نشے کے پیچھے اتنے دیوانے کیوں ہوتے ہیں۔ اس میں ایسی کیا کشش ہے جو انھیں اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔
اداکارہ نے یہ بھی کہا کہ انھیں کسی نے بھنگ پینے کا مشورہ بھی دیا تھا کہ لیکن میں نے خوف کی وجہ سے کبھی ٹرائی نہیں کیا، البتہ قریبی دوست احباب ہوں تو آزمایا جا سکتا ہے۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔