سٹی کورٹ میں سیکیورٹی اور انتظامی مسائل، دو سیشن ججز کی رپورٹس سندھ ہائیکورٹ میں جمع
اشاعت کی تاریخ: 29th, May 2025 GMT
فائل فوٹو۔
سٹی کورٹ میں سیکیورٹی اور انتظامی مسائل کے حوالے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کراچی شرقی اور جنوبی کی رپورٹس سندھ ہائی کورٹ میں جمع کرا دی گئی۔
رپورٹ کے مطابق ضلع شرقی میں 64 عدالتوں میں تزئین و آرائش اور مرمت کی ضرورت ہے، عدالتوں میں رنگ و روغن، باتھ رومز، چھتوں کی مرمت اور روشنی کے مناسب انتظامات کی ضرورت ہے۔
رپورٹ کے مطابق عدالتوں میں فرنیچر کی فوری طور پر ضرورت ہے، ناکافی سہولتیں عدالت آنیوالوں اور عملے کے لیے پریشانی اور عدالتی کارروائی میں رکاوٹ کا سبب ہیں۔
رپورٹ کے مطابق گرمیوں میں عدالتوں میں ہوا کے گزر کا مناسب انتظام نہ ہونے سے اسٹیک ہولڈرز کو پریشانی ہے، عدالتوں میں سہولتوں کی فراہمی کے مناسب انتظامات جلد سے جلد کیے جائیں۔
رپورٹ کے مطابق قدیم اور تاریخی عمارت کی حیثیت برقرار رکھتے ہوئے سٹی کورٹ کی مرمت کی جائے، ریکارڈ کو مناسب انداز میں محفوظ رکھنے کے لیے کم از کم سو شیلف فراہم کیے جائیں۔
سٹی کورٹ میں سیکیورٹی سمیت انتظامی مسائل کے حوالے سے سندھ ہائیکورٹ میں جمع کرائی گئی ایس ایس پی سٹی کی رپورٹ بھی موصول ہوگئی۔
رپورٹ کے مطابق سٹی کورٹ میں 503 سی سی ٹی وی کیمرے نصب ہیں، جن میں سے 257 کیمرے کام کر رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق تین داخلی راستوں پر لگائے گئے 16 سی سی ٹی وی کیمروں کا کنٹرول تھانہ سٹی کورٹ پولیس کے پاس ہے، رپورٹ میں کہا گیا کہ سٹی کورٹ میں لگائے گئے تمام سی سی ٹی وی کیمروں تک مقامی پولیس کو رسائی دی جائے۔
رپورٹ کے مطابق سٹی کورٹ میں 8 واک تھرو گیٹ میں سے سے ایک فعال نہیں، سٹی کورٹ میں ججز گیٹ پر سیکیورٹی انتظامات مزید سخت کرنے کی ضرورت ہے۔ ججز گیٹ سے وکلا، سائلین اور عملے کو بھی غیر قانونی طور پر رسائی حاصل ہے۔
رپورٹ کے مطابق کراچی بار سے درخواست کی ہے کہ وہ غیر قانونی داخلے روکنے میں معاونت کریں، سٹی کورٹ میں گداگر اور مختلف اشیا فروخت کرنے والے کراچی بار کی اجازت سے آپریٹ کرتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق غیر متعلقہ افراد کی سٹی کورٹ میں موجودگی سنگین سیکیورٹی خدشات کا باعث ہے، عدالتی عملے کی جانب سے سٹی کورٹ میں گاڑیوں اور موٹر سائیکل کی پارکنگ بھی سیکیورٹی رسک ہے۔
مزیر برآں کے ایم سی کی جانب سے سٹی کورٹ اور اطراف میں تجاوزات سے متعلق رپورٹ عدالت عالیہ میں جمع کرائی گئی۔ رپورٹ میں تجاوزات اور غیر قانونی پارکنگ سے متعلق 50 سے زائد تصاویر بھی شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق سٹی کورٹ کے اطراف ٹھیلے، پتھارے اور اسٹیمپ فروشوں کی جانب سے عارضی تجاوزات قائم ہیں، اطراف میں موجود دکانداروں کی جانب سے مستقل شیڈز، کنکریٹ بیریئر سمیت مستقل تجاوزات ہیں۔
رپورٹ کے مطابق سٹی کورٹ کے اطراف تین لینز پر موٹر سائیکلیں، رکشے اور گاڑیاں پارک کی جاتی ہیں، چیف انجینئر جوڈیشل ورکس سندھ سٹی کورٹ کا ماسٹر پلان فراہم کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ہیں رپورٹ کے مطابق سٹی کورٹ میں عدالتوں میں کی جانب سے ضرورت ہے
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔