موسم گرما کی آمد کے ساتھ ہی وادی کوئٹہ میں عوام کو پانی کی قلت کا سامنا ہے۔ شہری علاقوں میں محکمہ واسا کی جانب سے 2 روز میں ایک بار ایک سے ڈیڑھ گھنٹے تک صاف پانی فراہم کیا جاتا ہے جبکہ نواحی علاقوں میں واسا کے کنیکشن موجود نہیں ہیں۔ جس کے سبب لوگوں کو ٹینکرز ڈلوانا پڑتے ہیں۔

شہریوں کا یہ مسئلہ حل کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے شہر میں واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ نصب کیا گیا تھا لیکن مختلف ادوار میں حکومتی عدم توجہی، وسائل  کی کمی اور عوامی آگاہی نہ ہونے کےباعث یہ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ بظاہر وسائل کا زیاں  ثابت ہوا۔ یہ 2007 میں پایہ تکمیل کو پہنچا۔ اس کا مقصد مختلف مراحل کی تکمیل کے بعد سیوریج کاپانی فلٹر کرکے اسے تعمیرات اور باغبانی کے لیے استعمال کیا جانا تھا۔ اور اس کی  یومیہ پیداوار 5 ہزار گیلن ہے، لیکن بد قسمتی سے اپنی تکمیل سے اب تک تقریباً ڈیڑھ دہائی کے دوران یہ وسائل اور آگاہی کی کمی کے باعث بند اور چلتا رہا۔ اگرچہ اب یہ 2 سال سے فعال ہے لیکن اب بھی  وسائل اور ادارہ کی عدم توجہی کا شکار ہے۔

اس پلانٹ کے علاوہ 2 مزید پلانٹس  کی تعمیر کا منصوبہ تھا جن میں سے ایک  کنٹونمنٹ کی حدود میں کام کر رہا ہے، جبکہ دوسرا جامعہ بلوچستان میں ابھی تک مکمل نہیں ہوسکا۔  انتظامیہ اس کی جلد تکمیل کے لیے پر امید ہے۔

اس پلانٹ میں پانی کو  مختلف پراسیس سے گزار کے مرکزی ٹینک میں جمع کیا جاتا ہے جہاں سے سرکاری سطح پر کوئٹہ پراجیکٹ کے تحت پودوں کے لیے پانی فراہم کیا جاتا ہے، لیکن عوام ابھی تک اس سے ناواقف ہیں۔

بلوچستان میں  پینے کے پانی کی قلت کے باعث شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ ایسے میں زیر زمین پانی کی گرتی سطح کو روکنے اور عوامی مشکلات میں کمی کے لیے واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ جس پر کروڑوں روپے خرچ کئے گئے ہیں، اس کو مستقل بنیادوں پر فعال کرنے کے ساتھ اس کی عوام میں آگاہی ناگزیر ہے، تاکہ وہ اس واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کے پانی کو دیگر مصارف کے لیے استعمال نہ کریں اور صاف پانی بچ جائے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بلوچستان پانی موسم گرما واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ وادی کوئٹہ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بلوچستان پانی واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ وادی کوئٹہ پانی کی کے لیے

پڑھیں:

مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا

مظفر آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)مقبوضہ کشمیر میں تیز  بارشوں کے بعد بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا ہے۔بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی تیز بارشوں کے بعد سلال ڈیم کے تمام گیٹ کھولے دیے اور پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا۔ 

بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے کے بعد پاکستان میں بڑے سیلاب کا خدشہ ہے اور اس حوالے سے سیالکوٹ اور  وزیرآباد کے علاقوں میں سیلابی صورتحال پر ہائی الرٹ جاری کیا گیا ہے۔محکمہ ایریگیشن پنجاب کے مطابق سلال ڈیم کےگیٹ کھلنے سے دریائے چناب میں پانی کی سطح بلند ہونےلگی ہے ریلا آئندہ 48 گھنٹوں میں دریاِئے چناب وزیرآباد پہنچنے کا امکان ہے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

مزید :

متعلقہ مضامین

  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • زباں فہمی289؛ میں بھی رانی، تُو بھی رانی........
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • ہیڈ مرالہ میں پانی کی سطح میں ایک بارپھر اضافہ
  • دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا