ڈیاگو میراڈونا کے قتل کیس میں ٹرائل کالعدم کیوں قرار دیا گیا؟
اشاعت کی تاریخ: 30th, May 2025 GMT
فٹبال لیجنڈ ڈیاگو میراڈونا کی موت کے مقدمے میں ارجنٹینا کی عدالت نے ٹرائل کالعدم قرار دے دیا، اس کی وجہ ایک خاتون جج کی ایک دستاویزی فلم میں شرکت بنی۔
یہ بھی پڑھیں:کرسٹیانو رونالڈو نے مسلسل تیسرے سال کون سا اعزاز اپنے نام کیا؟
جج جولیئیتا ماکِنتاچ، جو 7 طبی ماہرین کے خلاف چلنے والے مقدمے میں 3 رکنی عدالتی پینل کا حصہ تھیں، ایک ایسی دستاویزی فلم میں بارہا نظر آئی ہیں جو میراڈونا کی موت کے متعلق ہے۔
اس پر سوالات اٹھنے کے بعد انہوں نے رواں ہفتے کے آغاز میں خود کو مقدمے سے علیحدہ کر لیا۔
ماکنتاچ کی اچانک علیحدگی کے بعد عدالت نے مقدمے کو کالعدم (مِس ٹرائل) قرار دے دیا۔ 2 ماہ قبل شروع ہونے والا یہ مقدمہ اب نئے ججوں کے ساتھ کسی آئندہ تاریخ پر دوبارہ شروع کیا جائے گا۔
پراسیکیوٹر نے دورانِ سماعت ڈوائین جسٹس (Divine Justice) نامی دستاویزی فلم کا ٹریلر پیش کیا، جس سے ماکنتاچ کی غیر جانبداری پر سوالات پیدا ہوئے۔
یاد رہے کہ بین الاقوامی شہرت یافتہ ماضی کے اسٹار فٹبالر میراڈونا 25 نومبر 2020 کو 60 برس کی عمر میں انتقال کر گئے تھے۔
انتقال سے کچھ ہفتے قبل ان کے دماغ کی ایک کامیاب سرجری ہوئی تھی، جس کا مقصد سب ڈورل ہیماٹوما (دماغ اور کھوپڑی کے درمیان خون کا رساؤ) کا علاج تھا۔
پراسیکیوشن کا الزام ہے کہ سرجری کے بعد ان کی طبی نگہداشت میں غفلت برتی گئی، جس کے نتیجے میں ان کی موت واقع ہوئی۔ ملزمان میں نیورو سرجن سمیت 7 افراد شامل ہیں، جنہوں نے خود کو بے قصور قرار دیا ہے۔ اگر ان پر جرم ثابت ہو جاتا ہے تو انہیں 8 سے 25 سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
ڈیاگو میراڈوناڈیاگو میراڈونا کو دنیائے فٹبال کے عظیم ترین کھلاڑیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ انہوں نے ارجنٹینا کو 1986 میں ورلڈ کپ جتوایا اور انہیں ’ال پیبے دے اورو‘ (سنہرا لڑکا) کے لقب سے پکارا جاتا تھا۔ ان کی بال کنٹرول، ڈرِبلنگ اور کھیل کی فہم ان کے خاص اثاثے تھے۔
میراڈونا نے 21 سالہ کیریئر میں ارجنٹینوس جونیئرز، بوکا جونیئرز، بارسلونا، ناپولی، سویا اور نیویلز اولڈ بوائز جیسے نامور کلبز کی نمائندگی کی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ارجنٹینا ڈیاگو میراڈونا گولڈن بوائے میراڈونا قتل.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ارجنٹینا گولڈن بوائے
پڑھیں:
بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
بلوچستان میں حالیہ دہشتگرد حملوں اور ایک جج کے قتل کے تناظر میں کالعدم بی ایل اے اور داعش کے پی کے درمیان مبینہ روابط کے حوالے سے نئے دعوے سامنے آئے ہیں۔
عوام کی جانب سے بی ایل اے کو اقوامِ متحدہ کی دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے کارروائی کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں شہریوں اور عوامی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے والے حملوں میں بی ایل اے ملوث رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں دہشتگردوں کے خلاف پاکستان کی کامیاب کارروائیاں، ٹی ٹی پی اور بی ایل اے مشترکہ پناہ گاہ ڈھونڈنے پر مجبور
اس کے نتیجے میں بے گناہ شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں اور صوبے میں امن و امان کی صورتحال متاثر ہو رہی ہے۔
عوامی انفراسٹرکچر پر حملوں سے شہری متاثرواضح رہے کہ عوامی انفراسٹرکچر، خصوصاً پلوں اور سڑکوں کو نشانہ بنانے سے آمدورفت، کاروباری سرگرمیوں، ہنگامی امدادی خدمات اور روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔
اس کا سب سے زیادہ نقصان بلوچستان کے عام شہریوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے، جنہیں بنیادی سہولیات تک رسائی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
جج کے قتل کو عدلیہ پر حملہ قرار دیا گیاعوامی حلقوں میں بلوچستان میں مستونگ کے علاقے میں جج کے قتل کو عدلیہ اور نظامِ انصاف پر براہِ راست حملہ قرار دیا جا رہا ہے جو کہ کالعدم بی ایل اے نے کیا جبکہ اس کی ذمہ داری داعش کے پی نے قبول کی ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر سینیئر صحافی اس صورتحال کو دونوں تنظیموں کے درمیان مبینہ گٹھ جوڑ کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔
اقوامِ متحدہ سے کارروائی کا مطالبہواضح رہے کہ کالعدم داعش کے پی پہلے ہی اقوامِ متحدہ کی جانب سے دہشت گرد تنظیم قرار دی جا چکی ہے، جبکہ کالعدم بی ایل اے اب تک اقوامِ متحدہ کی دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل نہیں ہے۔
مزید پڑھیں:ماہرنگ لانگو کے والد کی قبر پر کالعدم بی ایل اے کا پرچم لہرانے کی ویڈیو وائرل، اصل چہرہ بے نقاب
اسی بنیاد پر مطالبہ کیا گیا ہے کہ اقوامِ متحدہ کالعدم بی ایل اے کی سرگرمیوں کا جائزہ لے کر اسے فوری دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا جائے۔
ادھر خیبر پختونخوا سے سینیئر صحافی حسن خان نے ایکس پر لکھا ہے کہ ’بلوچستان کے ضلع مستونگ کے قریب سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین کے قتل کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم آئی ایس کے پی (داعش خراسان) نے قبول کر لی ہے۔
ISKP has claimed responsibility for the targeted killing of Sessions Judge Abdul Hakeem Kakar and his gunman while they were on their way to Mastung early on Thursday. Another judge was injured in the attack, according to officials.
This ISKP claim raises questions about a…
— Hassan khan (@hasankhyber) July 23, 2026
حملے میں ایک اور جج بھی زخمی ہوئے، جبکہ واقعے کے بعد سیکیورٹی اور تحقیقاتی اداروں نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔
سرکاری حکام کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ جمعرات کی صبح مستونگ جا رہے تھے کہ نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی کو نشانہ بنایا۔ فائرنگ کے نتیجے میں جج اور ان کا گن مین جاں بحق ہو گئے، جبکہ ایک اور جج زخمی ہوئے۔
آئی ایس کے پی کے دعوے کے بعد نئے سوالاتحملے کے چند گھنٹوں بعد آئی ایس کے پی نے اس کارروائی کی ذمہ داری قبول کر لی، جس کے بعد بعض حلقوں کی جانب سے بی ایل اے اور آئی ایس کے پی کے درمیان مبینہ روابط پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:لاپتا افراد کی آڑ میں کئی نوجوان دہشتگردی میں ملوث، بی ایل اے کا مکرو چہرہ بے نقاب
کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حملے کا طریقۂ کار ماضی میں بلوچستان میں ہونے والے بعض حملوں سے مماثلت رکھتا ہے، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ اس حملے میں کسی دوسری تنظیم کا کردار تھا یا دونوں گروہوں کے درمیان عملی تعاون موجود ہے۔
عدلیہ کو نشانہ بنانے کے محرکات کی تحقیقات جاریبعض مبصرین کے مطابق یہ حملہ عدلیہ کو خوفزدہ کرنے یا دباؤ میں لانے کی کوشش ہو سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب حالیہ دنوں میں بلوچ یکجہتی کونسل کی مرکزی رکن ماہ رنگ لانگو کے خلاف عدالتی فیصلہ سامنے آیا ہے۔
تحقیقاتی ادارے مختلف پہلوؤں سے واقعے کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ حملہ آوروں کی شناخت اور ممکنہ سہولت کاروں کا تعین کیا جا سکے۔
ایک روز قبل مسافر بس پر حملہیہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب ایک روز قبل بلوچستان میں مسافر بس پر حملے میں 5 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ سرکاری حکام نے اس حملے کا الزام بی ایل اے پر عائد کیا تھا۔
حکام کے مطابق مسلح افراد نے بس کو رکنے کا اشارہ کیا اور ڈرائیور کے گاڑی بھگانے پر اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں 5 مسافر جان کی بازی ہار گئے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اقوام متحدہ بی ایل اے پابندی خراسان داعش فہرست کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی ماہ رنگ لانگو مطالبہ