علامہ راجہ ناصر عباس نے وحدت یوتھ پاکستان کی 10 رکنی مجلس نظارت کا اعلان کردیا
اشاعت کی تاریخ: 30th, May 2025 GMT
نظارت کی سرپرستی چیئرمین ایم ڈبلیو ایم علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کریں گے جبکہ دیگر اراکین میں وائس چیئرمین علامہ سید احمد اقبال رضوی، سید ناصر عباس شیرازی، سید اسد عباس نقوی، علامہ ڈاکٹر محمد یونس، مولانا آغا علی حسنین حسینی، مولانا عمران، مولانا مزمل حسین فصیح اور کاظم عباس شامل ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ چیئرمین مجلس وحدت مسلمین پاکستان علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے وحدت یوتھ پاکستان کی 10 رکنی مجلس نظارت کے ناموں کا اعلان کر دیا ہے۔ 10 رکنی نظارت کی سرپرستی چیئرمین ایم ڈبلیو ایم علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کریں گے جبکہ دیگر اراکین میں وائس چیئرمین علامہ سید احمد اقبال رضوی، سید ناصر عباس شیرازی، سید اسد عباس نقوی، علامہ ڈاکٹر محمد یونس، مولانا آغا علی حسنین حسینی، مولانا عمران، مولانا مزمل حسین فصیح اور کاظم عباس شامل ہیں جبکہ مولانا تصور علی مہدی سیکرٹری نظارت اور سیکرٹری یوتھ کے عہدے پر فائض کیے گئے ہیں۔ یاد رہے کہ وحدت یوتھ کے مرکزی کنونشن کے انتخابات میں سید یاور علی کاظمی اگلے تنظیمی سال کے لیے بطور صدر منتخب ہوئے تھے۔ جس کے بعد وحدت یوتھ کی مرکزی مجلس نظارت کا اعلان کیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: علامہ راجہ ناصر عباس وحدت یوتھ
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔