WE News:
2026-06-03@03:34:05 GMT

قصہ مولانا طارق جمیل کی ناراضی کا

اشاعت کی تاریخ: 30th, May 2025 GMT

سوشل میڈیا پر ممتاز واعظ اور عالم دین مولانا طارق جمیل صاحب کی ایک آڈیو وائرل ہے، جس میں مولانا طارق جمیل تبلیغی جماعت پاکستان کے ذمہ داران سے اپنے گلے شکوے کر رہے ہیں۔ کہیں تیرہ منٹ اور کہیں پندرہ منٹ کی آڈیو دستیاب ہے جو مولانا کے دو تین مختلف میسجز کو جوڑ کر بنائی گئی۔

مولانا کے صاحبزادے مولانا یوسف جمیل کی ایک باون منٹ طویل آڈیو بھی منظر پر آ چکی ہے جو غیر ضروری طوالت، بوریت اور بے مغز گفتگو کا ایک “مثالی” نمونہ ہے۔ حیرت ہے کہ مولانا طارق جمیل جیسے مقبول اور دلچسپ گفتگو کرنے والے واعظ کا بیٹا ایسی بے رس، کشش سے عاری گفتگو کرتا ہے۔

مولانا طارق جمیل کی آڈیو کا جواب بھی کئی لوگوں نے سوشل میڈیا پر دیا ہے۔ بعض نے ان پر تندوتیز حملے کئے ہیں۔ حیرت انگیز طور سے مولانا فضل الرحمن کی جے یوآئی کے لوگ اس میں پیش پیش نظر آئے ہیں۔ لگتا ہے وہ مولانا طارق جمیل سے خاصے عرصے سے ناراض تھے اور اب انہیں اپنا غصہ نکالنے کا موقعہ ملا ہے۔ ان لوگوں نے باقاعدہ مولانا طارق جمیل کو سوشل میڈیا پر ٹرول کرنے کی کوشش کی۔ کہا جا رہا ہے کہ چونکہ مولانا طارق جمیل نے ایک دو بار عمران خان کے حق میں بات کی اور جب وہ وزیراعظم تھے تب مولانا ان سے جا کر ملے اور خان کی تعریف کی۔ تب سے مولانا فضل الرحمن کے حامی مولانا طارق جمیل سے خفا اور ناخوش تھے۔

مولانا طارق جمیل کی آڈیو پرتنقید کرنے والی ایک ویڈیو میں ایک مولوی صاحب نے سیدھا مولانا کو گستاخ صحابہ قرار دے دیا۔ معلوم نہیں یہ مبنی بر غلط نتیجہ کہاں سے اخذ کیا گیا؟ بات وہی ہے کہ ہمارا مذہبی طبقے کا ایک حصے مخالفت میں شدت اور انتہا تک چلا جاتا ہے اور اس میں وہ فتوے بازی سے بھی گریز نہیں کرتے۔ البتہ بعض لوگوں نے اس حوالے سے معتدل بات کی ہے اور مولانا طارق جمیل کو مشورہ دیا ہے کہ وہ تبلیغی جماعت کے ذمہ داران کے ساتھ اپنے ان اختلافات کو منظرعام پر نہ لے آتے ۔ ان کا خیال ہے کہ یہ معاملہ کمرے میں بیٹھ کر سلجھانے والا ہے نہ کہ سوشل میڈیا پر بات کی جائے وغیرہ وغیرہ۔

مولانا طارق جمیل کا میں کوئی خاص مداح نہیں ہوں، ملی جلی درمیانی سی بلکہ کہہ لیں ایک غیر جانبدار سی معتدل رائے ان کے بارے میں ہے۔ وہ اچھے واعظ ہیں، ہمارے گھر میں ان کی تقریریں میری خوشدامن صاحبہ شوق سے سنتی ہیں، کبھی اہلیہ بھی سن لیتی ہیں۔رمضان میں اکثر ایسا ہوتا ہے۔ کبھی خاکسار کو بھی یہ ان سب کی معیت میں یہ ’’سعادت‘‘ نصیب ہو جاتی ہے۔ کبھی ہم سنتے رہے اور کبھی کچھ دیر کے بعد آرام سے چینل تبدیل کر ڈالا۔ یہی رویہ جناب ڈاکٹر زاکر نائیک کے حوالے سے بھی روا رکھتے ہیں۔ احترام کے ساتھ مناسب فاصلہ۔

مولانا کا مخصوص تبلیغی جماعت والا سٹائل ہے ، ایک بات مجھے اچھی لگی کہ انہوں نے سوشل موضوعات پر زیادہ تقریریں کی ہیں۔ وہ خواتین کے حق میں بڑا کھل کر بات کرتے ہیں، مردوں کو اپنی بیویوں کے ساتھ حسن سلوک کی نصیحت کرتے ہیں، نرمی، حسن اخلاق ، دیانت داری اور دیگر اوصاف جن کا تعلق معاملات سے ہے، ان کی تاکید کرتے ہیں۔ یہ اچھی بات ہے، عام طور پر ہمارے مولوی صاحبان ان اہم ایشوز پر زیادہ فوکس نہیں کرتے۔ مولانا طارق جمیل کی یہ بات اچھی لگی۔

مولانا طارق جمیل میں اہل بیت کے لئے گہری محبت جھلکتی ہے، اس حوالے سے انہوں نے کئی بڑی شاندار تقریریں بھی کر رکھی ہیں۔ ویسے کون سا مسلمان ہوگا جسے اہل بیت اور آل رسول ﷺ سے محبت نہیں ہوگی۔ اس کے بغیر تو ہمارا ایمان ہی مکمل نہیں ہوتا۔ اہل بیت اور صحابہ سے محبت ہمارے عقیدے کا حصہ ہے۔

مولانا طارق جمیل کا طرز استدلال روایتی ہے،فکر بھی روایتی ہے۔ سیاستدانوں اور لیڈروں سے وہ ملتے جلتے رہتےہیں، مگر ہمارے جیسے لوگوں کو اس سے کوئی مسئلہ نہیں۔ داعی کے طور پر انہیں اہم حلقوں میں جانا چاہیے۔ وہ ماضی میں میاں نواز شریف سے ربط رکھتے تھے یاعمران خان سے رابطے میں رہے، چودھریوں کے ساتھ بھی ملتے رہے۔ ٹھیک ہے۔

مولانا طارق جمیل کی جانب سے شریف خاندان سے ملاقاتوں ، ان کے لئے دعا کرنے پر کوئی اعتراض ہونا چاہیے اور نہ ہی عمران خان یا کسی اور سیاستدان سے ملنے جلنے ، ان سے حسن ظن رکھنے پر کوئی شکوہ کیا جائے۔ س حوالے سے ایک داعی کو سپیس ملنی چاہیے۔ عمران خان سے ملاقات اور ریاست مدینہ کے حوالے سے ان کے تصور کی تحسین کے باوجود کہیں پر کسی بھی جگہ مولانا طارق جمیل نے شریف خاندان یا دیگر سیاسی جماعتوں کے خلاف ایک جملہ یا ایک لفظ بھی نہیں کہا۔ یہ اہم نکتہ ہے۔

چند سال قبل مولانا طارق جمیل کے خلاف سوشل میڈیا پر ایک کمپین چلی تھی جب یہ خبر آئی کہ کپڑوں کا ایک برانڈ انہوں نے کراچی کے کسی کاروباری کے ساتھ مل کر شروع کیا ہے۔ مجھے حیرت ہوئی کہ مولانا طارق جمیل کے کپڑوں کا کاربار کرنے کے فیصلے پر سوشل میڈیا میں بعض احباب نے غیر ضروری طنزیہ پوسٹیں لگائیں۔ اس کی وجہ ناقابل فہم لگی۔ کاروبار کرنا ہر ایک شخص کا حق ہے، مولانا طارق جمیل کو بھی پورا حق حاصل ہے کہ وہ اپنے نام کا برانڈ لے آئیں۔

مولانا کی جانب سے وضاحت آئی کہ اس آمدنی کو وہ خیراتی مقاصد کے لئے استعمال کریں گے۔ اس کا انہیں حق ہے، مگر کاروبار کر کے خوشحال ہونے میں بھی کوئی حرج نہیں۔ ہمارے اکابر علما کاروبار کرتے رہے اور آمدن کا بڑا حصہ خیراتی امور پر بھی خرچ ہوتا رہا، مگر وہ اپنے اور اہل خانہ کی کفالت بھی اسی سے کرتے تھے۔

مجھے تو لگتا ہے کہ مولانا طارق جمیل کی ایک ہی بڑی خامی اور کمزوری ہے۔ ان کی عوامی مقبولیت۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ پاکستان کے مقبول ترین مقررین میں سے ایک ہیں۔ ان کی گفتگواور تقریر کے لاکھوں بلکہ شائد کروڑوں مداح ہیں۔ ایسی مقبولیت، شہرت اور نیک نامی ہمارے قریب کے زمانے میں شائد ہی کسی کو ملی ہو۔

مولانا طارق جمیل نے تبلیغ میں بہت وقت لگایا، ان کی تین چوتھائی زندگی اسی میں صرف ہوگئی۔ خود کہتے ہیں کہ اٹھارہ انیس برس کی عمر سے اس طرف لگے اور اب وہ ستر کے پیٹے میں ہیں، پچاس پچپن برس انہوں نے تبلیغی جماعت کے ساتھ لگا دیے۔

پچیس چھبیس سال قبل شیخ زائد ہسپتال کے چند ڈاکٹروں کے ساتھ ہمیں بھی ایک سہہ روزہ لگانے کا موقعہ ملا۔ اس سفر میں مولانا طارق جمیل کے بارے میں کئی کہانیاں سنیں۔ وہ زمیندار گھرانے کے فرزند ہیں، غالباً میڈیکل کے طالب علم تھے کہ تبلیغ جماعت کے سحر میں گرفتار ہوئے ۔ اپنی پڑھائی چھوڑ کر دینی تعلیم حاصل کی اور پھر تبلیغی مرکز کی طرف ایسے متوجہ ہوئے کہ مڑ کر نہیں دیکھا۔

مولانا طارق جمیل کو شہرت ممکن ہے ابتدا میں تبلیغی جماعت کی وجہ سے ملی ہو، مگر ہم نے تو طویل عرصے سے ان کی وجہ سے لوگوں کو تبلیغی جماعت اور دین کی طرف متوجہ ہوتے دیکھا ہے۔ ان کی سوشل ایشوز پر کی گئی تقریروں نے بہت لوگوں کو تبدیل کیا۔ مرد حضرات نرم خو ہوئے، خواتین کے ساتھ ان کا برتائو بہتر ہوا۔ اسی طرح ٹی وی چینلز پر مولانا طارق جمیل کی تقریروں کی وجہ ان کی تبلیغی جماعت کے ساتھ وابستگی ہرگز نہیں۔ وہ ذاتی طور پر ایک قدآور بلکہ دیوقامت مبلغ، مقرر اور واعظ بن چکے ہیں۔

کہتے ہیں ہر چیز کی ایک قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔ عوامی مقبولیت اور پزیرائی کی قیمت اکثر دوسروں کے حسد اور کبھی نفرت کی صورت میں چکانی پڑتی ہے۔ مولانا طارق جمیل بھی لگتا ہے بہت سوں کے حسد کا شکار ہوئے ہیں۔ ان کی موجودگی میں کسی دوسرے کا چراغ جلنا آسان نہیں۔ ایسے میں اچھے بھلے لوگوں کی انا مجروح ہوتی ہے اور وہ ردعمل کی نفسیات کا شکار ہوجاتے ہیں۔

مولانا طارق جمیل نے اپنی ویڈیو میں جو شکوے کئے وہ ان کے درد دل ، کرب اور تکلیف کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ یہ سب وہ کئی برسوں بلکہ شائد عشروں سے سہہ رہے تھے۔ پہلے شائد ایسا کرنے والے نسبتاً بڑے لوگ ہوں گے ، ان کا اختلاف بھی شائد کسی قرینے سے ہوگا، اب تو لگتا ہے اپنی انا کے اسیر اوسط درجے کے لوگ اس ڈھلتی عمر میں مولانا طارق جمیل پر حملہ آور ہوئے ہیں تو ان کی برداشت بھی جواب دے گئی ۔

مفتی زاہد صآحب کا تعلق فیصل آباد کی معروف دینی درسگاہ سے ہے، وہ ایک متین، نہایت معقول اور مدلل گفتگو کرنے والے معروف دینی سکالر ہیں۔ ان کا تعلق تحریک انصاف سے نہیں بلکہ غالباً اس کے ناقدین میں ہیں۔ انہوں نے مولانا طارق جمیل کے حوالے سے تازہ قضیہ پر اپنی فیس بک پوسٹ میں لکھا ہے، ” مولانا طارق جمیل صاحب کے ساتھ مانسہرہ میں کیا ہوا، اس کے بعد مولانا نے کیا کہا اور ان کی حمایت اور مخالفت میں کیا کہا گیا ان میں سے کسی چیز پر میں کوئی تبصرہ نہیں کروں گا تاہم ایک تصحیح ضروری ہے وہ یہ کہ موجودہ تناظر میں مولانا کی جو خامیاں بیان کی جا رہی ہیں کہ انھوں نے ایک سیاسی پوزیشن لی ہوئی ہے، وہ میڈیا اور سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں، وہ یو ٹیوب پر کاپی رائٹ استعمال کرتے ہیں اور یہ کہ وہ اپنے بیٹے کے بہت زیادہ زیرِ اثر ہیں، وہ بیٹے کے دباؤ میں فاؤنڈیشن کے لیے فنڈ ریزنگ کرتے ہیں ان معاملات پر آپ کی جو بھی رائے ہو میں کچھ نہیں کہتا البتہ تبلیغ والوں کے ہاں مولانا کی معتوبیت ان تمام چیزوں کے پیدا ہونے سے بہت پہلے کی ہے۔

کم از کم اکیسویں صدی کے اوائل سے یعنی ربع صدی سے تو میں جانتا ہوں کہ وہ کئی تبلیغی حضرات کے ہاں کھٹکتے رہے ہیں اور کم از کم یہ حقیقت ناقابل انکار ہے کہ مولانا نے بہت برداشت کا ثبوت دیا اور انھوں نے نظم کی اطاعت کی.

اس کھٹک میں آپ جسے بھی حق بجانب سمجھیں لیکن معاملہ مذکورہ بالا وجوہات پیدا ہونے سے بہت پرانا ہے، لہذا اس فلسفے کو درمیان میں نہ لایا جائے تو بہتر ہے۔”

میرا خیال ہے کہ جو ہونا تھا وہ ہوگیا، اب اس مسئلے کو مناسب طریقے سے حل ہونا چاہیے۔ رائے ونڈ مرکز کے ذمہ داران اگر اپنا دل بڑا اور ظرف کشادہ کر سکیں تو بات بڑی نہیں۔ مولانا طارق جمیل جیسے بڑے اور ہردلعزیز مقرر کو جو فنافی التبلیغی جماعت ہے ، اسے بیان کا موقعہ دینے میں کوئی حرج ہے نہ نقصان کا اندیشہ۔

مولانا طارق جمیل کو بھی چاہیے کہ وہ اس موضوع پر مزید کوئی آڈیو یا ویڈیو میسج سوشل میڈیا پر نہ دیں۔ اس سے بہرحال تبلیغی جماعت کے مقصد اور ساکھ کو نقصان پہنچے گا۔ ایسا کہ بعد میں مولانا طارق جمیل خود بھی چاہنے کے باوجود اسے بحال نہیں کر پائیں گے۔
یہ اپنی جگہ حقیقت ہے کہ اس طرح اگر دینی طبقے میں اختلافات منظر عام پر آئیں تو اس سے مذہب بیزار اور علما کا تمسخر اڑانے والے احباب ہی خوش ہوں گے۔ اہل مذہب اور علما کے مداحین کا تو دل ہی دکھے گا۔ اللہ والوں اور اللہ کے دین کا کام کرنے والوں میں انتشار کی خبروں سے دلی کرب اور پریشانی ہی لاحق ہوگی۔ اللہ پاک ہم سب پر رحم فرمائے، آمین۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عامر خاکوانی

نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: میں مولانا طارق جمیل مولانا طارق جمیل کو مولانا طارق جمیل کی کہ مولانا طارق جمیل مولانا طارق جمیل کے مولانا طارق جمیل نے تبلیغی جماعت کے سوشل میڈیا پر میں کوئی حوالے سے انہوں نے کرتے ہیں کے ساتھ نہیں کہ لگتا ہے نہیں کر کی ایک کی وجہ ہیں کہ ہے اور

پڑھیں:

ناتمام (آخری قسط)

ہارون صاحب کی کتاب ’’ناتمام‘‘ میں کچھ غیر معمولی شخصیات کے بارے میں لکھی گئی تحریریں بے حد دلنشین ہیں۔ ایک جگہ لکھتے ہیں ’’کبھی کبھی یہ طالب علم سوچتا ہے سیدنا علی بن عثمان ہجویریؒ کے بعد شاید اقبالؔ ہی وہ مفکر تھے، جنھوں نے امت کے ادبار پر دل سوزی کے ساتھ پیہم تدبر کیا، جس برصغیر میں وہ پیدا ہوئے تھے، اسے الوداع کہا تو وہ بدل چکا تھا، مسلم برصغیر کو امید اور امکان کی راہ دکھانے میں ان کا حصہ کسی بھی شخص سے زیادہ تھا، یہ اقبالؔ ہی تھے، جنھوں نے کہا تھا: جہاں کہیںجہاں میں روشنی ہے، مصطفیؐ کے طفیل ہے یا مصطفی ؐ کی تلاش میں! ۔۔۔۔‘‘

’’سیّد ابوالاعلیٰ نے آخری دنوں میں اقبالؔ سے فیض پایا۔ ان کی وفات پر اپنے مضمون ’’اقبالؔ، میرا نفسیاتی سہارا‘‘ میں لکھا ’قرآنِ کریم ان کے لیے ایک شاہ کلید تھا، تمام بند دروازے جس سے کھل جاتے‘آج کل کے دانشور کیا ہیں کہ مغرب کی چکاچوند نے جنھیں اندھا کردیا، جو یہ نہیں سمجھتے کہ ترقی، علم اور ارتقا، تقلید میں نہیں ہوتا، جہاں جو چیز اچھی ہے، وہ لے لی جاتی ہے اور جو ناقص ہو، وہ ترک کردینی چاہیے اور یہ عالمانِ دین ہیں کہ اکیسویں صدی میں قبائلی عہد میں زندہ رہنے پر مصر ہیں، جنھیں سرکارؐ کا پڑھایا ہوا اولین سبق ہی یاد نہیں۔ غوروفکر، حسنِ کلام، حکمت اور دلیل کے ساتھ مکالمہ، دردمندی اور دل سوزی کے ساتھ تفکّر اور تدبّر درکار ہے۔‘‘

مصنّف قائد اور اقبالؒ کا پھر ایک کالم میں ذکر کرتے ہیں ’’یہ قوم اپنے دو عظیم رہنماؤں کو بھول گئی۔ جناح ایسے تھے کہ عمر بھر تین باتوں کا طعنہ انھیں کبھی نہ دیا گیا۔ کبھی وعدہ نہ توڑا، کبھی مالی بے قاعدگی نہیں، کبھی جھوٹ نہ بولا۔ اقبالؔ ایسے کہ تمام فکری تعصبات سے اوپر اٹھ کر سوچ بچار کیا اور پیہم کیا، تمام خلوص، تمام صلابتِ کردار۔۔ نہیں، فقط سیاست سے ہماری زندگی نہیں بدلے گی، تعلیم، غوروفکر اور حسنِ کردار۔ حضورؐ نے ارشاد فرمایا تھا: اللہ جسے ہدایت دینا چاہے، اپنی آنکھ اس پر کھول دیتا ہے۔ دوسروں کے عیب چننے سے نہیں، حیات اپنی اصلاح سے ثمر بار ہوتی ہے۔‘‘ مصنّف نے کیا دلپذیر باتیں لکھی ہیں جو ہرشعبۂ حیات کے لیڈر کو پڑھنی چاہئیں۔

 ناتمام میں مصنف نے بھٹوصاحب کا بھی تجزیہ کیا ہے، لکھتے ہیں ’’بھٹو حیرت انگیز خامیوں اور خوبیوں کا مجموعہ تھے۔ 1965کی جنگ کے ہنگام وہ ایک قوم پرست بن کر ابھرے، جب بھارت کے خلاف ہزار سالہ جنگ کا انھوں نے نعرہ لگایا، غریب آدمی کے احساسات کا انھوں نے ادراک کیا، سندھ اور پنجاب میں وہ ایک مقبول رہنما بن کر ابھرے مگر 1970 کے انتخابی نتائج کو عملاً انھوں نے تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ شیخ مجیب الرحمٰن کو واضح اکثریت حاصل ہوئی تو جنرل یحییٰ سے انھوں نے گٹھ جوڑ کرلیا اور انتقالِ اقتدار کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن گئے، ان دو آدمیوں کی ہوسِ اقتدار نے پاکستان کے دولخت ہونے کی بنیاد فراہم کی۔‘‘

پھر لکھتے ہیں ’’ایک راز بھٹو نے پالیا تھا۔ لیڈر وہ شخص ہوتا ہے، جو کسی قوم کی عمیق ترین، سب سے بنیادی اور سب سے بڑی آرزو کو پوری طرح پہچان لے۔ جنگِ ستمبر تک، وہ فیلڈ مارشل ایوب خان کے درباری تھے، کبھی اسے صلاح الدین قرار دیتے اور کبھی ایشیا کا ڈیگال۔ جنگِ ستمبر میں پہلی بار دلوں میں یہ امید جاگی کہ کشمیر پہ دشمن بھارت کا تسلّط تمام ہوسکتا ہے، بھٹو نے اس نجیب آرزو کو پہچانا اور اس کا مظہر بن گئے، اقوامِ متحدہ میں جاری مباحث کے دوران، جن کا ایک ایک لفظ غور سے پڑھا اور سنا جایا کرتا، بھٹو نے بھارت کے ’’میسنے‘‘ وزیرِ خارجہ سردار سورن سنگھ کو مخاطب کرکے کہا: لڑنا پڑا تو کشمیر کے لیے ایک ہزار برس تک بھی ہم لڑیں گے، تبھی وہ ہیرو بن کر ابھرے۔ ہاں! مگر ان کا کوئی عقیدہ نہ تھا، قوم پرست وہ یقیناً تھے اور بے شک انھوں نے پہلی بار Anti Estabhishment پارٹی تشکیل دی مگر خود پسند، اقتدار کے حریص اور نرگسیت کے مارے۔ باقی سب تاریخ ہے"

پاکستانی سیاست کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں’’ پاکستانی سیاست اور معاشرے کا مرض یہ ہے کہ سائنسی اندازِ فکر سے وہ محروم ہے۔ تعصّبات اور جذبات کا غلبہ اس قدر ہے کہ کبھی نفرت چھا جاتی ہے اور کبھی محبت۔ بھٹو صاحب کے مداحوں سے عرض کیجیے کہ بے شک مقبول وہ بہت تھے۔

بجا کہ ملک کو انھوں نے دستور عطا کیا، ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی، جذباتی توازن سے مگر وہ محروم تھے اور پرلے درجے کے انتقام پسند۔ دوسروں کا تو ذکر ہی کیا، اپنی پارٹی کے سیکریٹری جنرل جے رحیم کو پٹوایا۔ قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے رکنِ اسمبلی ملک سلیمان اور ان کے خاندان کی تذلیل کی، اپنے وزیرِ اعلیٰ حنیف رامے کو شاہی قلعے میں قید رکھا۔ پارٹی کے ایک دوسرے لیڈر احمد رضا قصوری پر قاتلانہ حملے میں ان کے والد مارے گئے۔ کوئی نہیں سنتا، کوئی نہیں مانتا۔‘‘

کتاب کے مصنّف، عمران خان کے سب سے بڑے سپورٹر تھے اور شاید اب بھی ہیں مگر اس کتاب میں انھوں نے اس کی خامیاں بھی چھپانے کی کوشش نہیں کی، لکھتے ہیں ’’لاہور میں موسم بہار کی ایک سویر جب میں زمان پارک میں اسے ملنے گیا تو وہ ورزش میں مصروف تھا۔ کچھ دیر کے بعد وہ نمودار ہوا اور ضرورت سے زیادہ پُراعتماد لہجے میں کہا’’اپنے جسم پر بھی آدمی کو سرمایہ کاری کرنی چاہیے‘‘ ۔ ’’جی ہاں‘‘۔ عرض کیا ’’اپنے ذہن پر بھی‘‘۔ اسے دھچکا لگا ’’تمہارا مطلب یہ ہے کہ میں نے ذہن پہ سرمایہ کاری نہیں کی‘‘۔ ہاں! میں نے جواب دیا ’’میرا مطلب یہی ہے‘‘۔ بدمزہ نہیں، وہ کچھ حیران سا ہوا اور ناشتے میں جُت گیا، پھل، دہی، ڈبل روٹی کے دو ٹکڑے اور بہت سا جوس۔ مجال ہے کہ ایسے میں دوسروں کو وہ دعوت دے‘‘۔

 پھر لکھتے ہیں ’’عمران خان اپنی پہاڑ سی غلطیوں کو بھلا کر ظفرمندی کے خواب کا اسیر تھا، 11 مئی کی صبح احسن رشید سے کہا کہ انتخابی نتائج سنتے ہی شوکت خانم اسپتال آجانا کہ جشن منایا جاسکے۔ اپنے بچوں سے لندن میں کہہ آیا تھا کہ اگلی بار وزیراعظم کی حیثیت سے برطانیہ آئے گا۔ نتیجہ نکلا تو صرف اس کی نہیں، پارٹی کے تمام بزر جمہروں کی رائے یہ تھی کہ قبول کرلینا چاہیے۔

الجھے ہوئے ذہن کے ساتھ کئی ماہ وہ مخمصے کا شکار رہا، پارٹی کو ان دنوں دو تین گھنٹے سے زیادہ وقت نہ دیا کرتا۔ شاطروں نے سمجھ لیا کہ اسے الّو بنانے میں کامیاب رہے‘‘۔ ایک اور جگہ لکھتے ہیں ’’ناقابلِ فہم بات یہ ہے کہ دس حلقے کھولنے کی شرط کے ساتھ مفاہمت پہ آمادگی کے بعد تحریکِ انصاف کے سربراہ وزیراعظم کے استعفیٰ کی تاریخیں کیوں دینے لگے؟ نوبت پھر تھرڈ امپائر کی انگلی تک پہنچی، بلا استثنیٰ سبھی کا تاثر یہ تھا کہ کپتان کا اشارہ عسکری قیادت کی طرف ہے۔ کئی دن بعد کپتان نے اعلان کیا کہ ان کی مراد اللہ تعالیٰ سے تھی۔ اللہ تعالیٰ امپائر نہیں، وہ کائنات اور زندگی کا خالق ہے۔ حیات کی تمام حرکیات اور قوانین کا، وہ دلوں کے بھید جانتا ہے۔ ذاتِ باری تعالیٰ کو کرکٹ کے امپائر سے تشبیہہ دینا پرلے درجے کی بدذوقی اور سطحیت تھی۔ کپتان اگر انھی لوگوں کے زیرِ اثر رہا، جن کے زیرِ اثر ہے تو مستقبل میں بھی اس طرح کے واقعات ہوتے رہیں گے‘‘۔

کچھ دوسرے لیڈروں کے بارے میں لکھتے ہیں ’’چوہدری نثار علی میں صلاحیّت بے پایاں تھی مگر روحانی جہت معمولی۔ کھٹ سے اللہ کی رحمت کا دروازہ کھلتا مگر بن مانگے تو گاہے وہ گھاس بھی نہیں دیتا، چہ جائیکہ عظمت ورفعت۔ یوں بھی عظمت غریبوں، دکھ جھیلنے اور ایثار کرنے والوں کے لیے ہوتی ہے۔ چوہدری کہاں، شریف برادران کہاں، ان کے مقاصد محدود ہیں۔ اقتدار کا انبساط، جو دنیا کا سب سے تباہ کن نشہ ہے، جان چھوڑتا ہی نہیں، عزتِ نفس اور شان وشوکت کا ایک سطحی سا تصور۔عمران خان سمیت سبھی کا حال پتلا ہے۔ پانی پت کی تیسری جنگ لڑنے جاتے ہیں اور لشکر سراج الدولہ سے بدتر۔ رہے علّامہ طاہرالقادری تو جرأت ہی نہیں، جسارت ہی نہیں، فقط زورِ خطابت۔ کوئی دن میں غبارہ پھٹ جائے گا‘‘۔

’’اچھی حکمرانی کی بے تاب تمنا بھی بجا۔ بحث بہت ہوچکی۔ سیاست کے قرینوں سے اب ہم آگاہ ہیں مگراس کے لیے سیاست کافی نہیں زندگی جوڑ توڑ سے بہت بڑی ہے۔ علم اور اخلاق کے بغیر معاشرے، اقوام نہیں، ریوڑ ہوتے ہیں۔ علم، اخلاق اور تربیت۔ قرآن کریم اور اس کا صاحب انوار شارع۔۔ اور ہاں جدید علم!‘‘

ہر طبقۂ فکر کے لوگوں خصوصاً سیاست میں دلچسپی رکھنے والوں کو یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے۔

متعلقہ مضامین

  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • محکمہ موسمیات نے تیزہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیش گوئی کردی
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بتا دیا
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے