مقبوضہ کشمیر, بھارتی وزیر داخلہ کے دورے کے موقع پر سخت پابندیاں عائد
اشاعت کی تاریخ: 30th, May 2025 GMT
ذرائع کے مطابق قابض حکام نے میڈیا کو بتایا ہے کہ جموں خطے میں اپنے دو روزہ قیام کے دوران امیت شاہ مذہبی مقامات کا دورہ کریں گے اور ضلع میں بھارتی بارڈر سکیورٹی فورس کے اہلکاروں سے ملاقات کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ کے مقبوضہ کشمیر کے دو روزہ دورے کے موقع پر جموں اور پونچھ اضلاع میں پابندیاں مزید سخت کر دی گئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق قابض حکام نے میڈیا کو بتایا ہے کہ جموں خطے میں اپنے دو روزہ قیام کے دوران امیت شاہ مذہبی مقامات کا دورہ کریں گے اور ضلع میں بھارتی بارڈر سکیورٹی فورس کے اہلکاروں سے ملاقات کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ جموں میں گورنر ہاؤس کے اردگرد اضافی فوجیوں کو تعینات کیا گیا ہے، جہاں بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں شرکت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پونچھ میں گاڑیوں کی سخت چیکنگ اور لوگوں کی تلاشیاں لی جا رہی پیں۔ گاڑیوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے داخلی اور خارجی راستوں پر چوکیاں قائم کی گئی ہیں۔ جموں میں رات بھر قیام کے بعد امیت شاہ آج پونچھ جائیں گے۔ وہ سنگھ سبھا گردوارہ سمیت مذہبی مقامات کا بھی دورہ کریں گے اور افسران کے ساتھ میٹنگ کریں گے۔ بھارتی وزیر داخلہ پونچھ میں بی ایس ایف کیمپ کا بھی دورہ کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بھارتی وزیر داخلہ دورہ کریں گے امیت شاہ
پڑھیں:
مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ
برطانوی ایوانِ بالا کے رکن لارڈ قربان حسین نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے حالات نسل کُشی کی طرف جارہے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق لارڈ قربان حسین نے برطانوی پارلیمنٹ میں مقبوضہ کشمیر کی انسانی حقوق کی صورتحال پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ان کے مطابق وہاں کے حالات نسل کشی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔
انہوں نے جینوسائڈ واچ کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے برطانوی حکومت سے پوچھا کہ وہ ان انتباہات کو کس حد تک سنجیدگی سے لیتی ہے اور ممکنہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی روک تھام کے لیے کیا اقدامات کر رہی ہے۔
جواب میں برطانوی حکومت کی جانب سے پارلیمانی انڈر سیکرٹری لارڈ کولنز نے کہا کہ برطانیہ انسانی حقوق سے متعلق اپنے دیرینہ مؤقف پر قائم ہے اور بھارتی پولیس یا سکیورٹی فورسز کے خلاف مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کی مکمل، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کی حمایت کرتا ہے۔