تھانہ رمنا حملہ کیس: رکن قومی اسمبلی عبداللطیف سمیت 11 پی ٹی آئی کارکنوں کو 27 سال قید
اشاعت کی تاریخ: 30th, May 2025 GMT
اسلام آباد:انسداددہشت گردی عدالت اسلام آباد نے 9 مئی 2023 کو تھانہ رمنا پر حملہ کرنے والے تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی عبداللطیف اور سابق رکن صوبائی اسمبلی وزیر زادہ سمیت 11 کارکنوں کو 27 سال قید کی سزا سنا دی، عدالت میں موجود 4 ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا۔
انسداد دہشت گردی عدالت اسلام آباد کے جج طاہر عباس نے 9 مئی 2023 کو تھانہ رمنا پر حملے کے مقدمے میں رکن قومی اسمبلی عبداللطیف اور سابق رکن صوبائی اسمبلی وزیر زادہ سمیت دیگر ملزمان کو مختلف دفعات کے تحت 27 سال قید کی سزا سنادی۔
جج طاہر عباس سپرا نے عدالت میں فیصلہ سناتے ہوئے ملزمان سے کہا کہ آپ پر اسلام آباد کے تھانہ رمنا پر حملہ کا الزام ہے، آپ کے خلاف 20 گواہان نے شہادتیں ریکارڈ کرائیں، جن میں مجسٹریٹس بھی شامل تھے۔
جج طاہر عباس سپرا نے کہاکہ کسی بھی احتجاج کا پرامن طریقہ ہوتا ہے،قانون ہاتھ میں نہیں لیا جاتا، اگر آپ اپنے ہی تھانوں پر حملہ کرینگے تو ملک رہنے کے قابل نہیں رہے گا۔
پولیس نے عدالت کی جانب سے فیصلہ سنائے جانے کے بعد کمرہ عدالت میں موجود 4 ملزمان محمد اکرم ، میرا خان، شاہ زیب ، سہیل خان کو تحویل میں لے لیا جبکہ عدالت نے غیر حاضر ملزمان کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ۔
انسداد دہشت گردی عدالت نے ملزمان کو پولیس پر قاتلانہ حملے کے جرم میں5 سال قید اور 50،50 ہزار روپے جرمانے، موٹر سائیکل جلانے پر 4 سال قید اور 40،40 ہزار روپے جرمانے، تھانہ جلانے کے جرم میں 4 سال قید اور 40،40 ہزار روپے جرمانے جبکہ پولیس کے کام میں مداخلت پر3 ماہ قید کی سزا سنائی۔
عدالت نے دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر ملزمان کو ایک ماہ قید جبکہ مجمع بنا کر جرم کرنے پر 2 سال کی سزا سنائی گئی، اسی طرح دہشت گردی کی دفعات میں ملزمان کو 10،10 سال قید اور 2،2 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی۔
Post Views: 6.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: روپے جرمانے اسلام ا باد سال قید اور تھانہ رمنا ملزمان کو کی سزا
پڑھیں:
کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے فرار ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے۔اسپیشل انویسٹی گیشن (ایس آئی ایو) نے دعویٰ کیا ہےکہ گلشنِ معمار، عمر بروہی گوٹھ میں گرفتار ڈاکوؤں کی نشاندہی پر ان کے فرار ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپا مارا تو ملزمان نے فائرنگ کردی جس سے پولیس اہلکار بھی زخمی ہوگیا۔ایس آئی یو کا کہنا ہے کہ فائرنگ کےدوران ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارے گئے۔13 جولائی کو کراچی کے علاقے کلفٹن میں بینک کے باہر ڈاکوؤں کی فائرنگ سے نوجوان ڈاکٹر آکاش جاں بحق ہوگیا تھا جب کہ ملزمان بینک سے نکالے گئے 50 لاکھ روپے میں سے 25 لاکھ لوٹ کر فرار ہوگئے تھے۔ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں پولیس نے تفتیشی رپورٹ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں جمع کرائی تھی جس میں واردات میں نامعلوم خاتون کے ملوث ہونے کاانکشاف بھی کیا گیا تھا۔پولیس نے بتایا تھا کہ کلفٹن تین تلوار کے قریب ڈکیتی واردات کے دوران ڈاکٹر آکاش کو فائرنگ کرکے قتل کرنے کے واقعے میں گرفتار ملزمان کے بینکوں کے باہر رقم چھیننے اور تاجر کو لوٹنے کے واقعات میں ملوث ہیں۔