اسرائیل کی مغربی کنارے میں یہودی ریاست بنانے کی دھمکی
اشاعت کی تاریخ: 30th, May 2025 GMT
اسرائیل نے غزہ اور مغربی کنارے میں وحشیانہ مظالم کی تمام حدیں پار کردیں اور اب اپنے ناجائز قبضے کو وسعت دینے کے ناپاک منصوبے پر عمل پیرا ہے۔
اسرائیلی وزیر دفاع کاٹز نے غزہ میں امدادی سامان کی ترسیل کی اجازت نہ دینے کی مذمت اور فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا عندیہ دینے والے فرانسیسی صدر اور دیگر سربراہان مملکت پر تنقید بھی کی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیر دفاع نے کہا کہ فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون تو صرف ایک کاغذ کے ٹکڑے پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کریں گے لیکن ہم زمین پر یہودی ریاست قائم کریں گے۔
اسرائیلی وزیردفاع کا مزید کہنا تھا کہ مغربی کنارے میں یہودی ریاست کا قیام فرانس کے صدر ایمانوئل میکروں اور ان کے ہم نوا ساتھیوں کے لیے بھی ایک واضح پیغام ہوگا۔
اسرائیل کے وزیر دفاع کاٹز نے اپنے متنازع اور اشتعال انگیز بیان میں مغربی کنارے میں ملٹری کارروائیوں کے بعد مستقبل کے بارے میں اہم اعلان کیا۔
اسرائیلی دفاع کاٹز نے تمام بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کو نظر انداز کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ جلد مغربی کنارے میں ایک یہودی اسرائیلی ریاست بنائیں گے۔
صیہونی ریاست کے وزیر دفاع کاٹز نے کہا کہ وہ ایسا اس لیے کریں گے تاکہ اسرائیل کو کمزور اور نقصان پہنچانے کی کوشش کرنے والوں کو فیصلہ کن ردعمل دیا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔