Express News:
2026-07-24@10:16:49 GMT

اسرائیل کی مغربی کنارے میں یہودی ریاست بنانے کی دھمکی

اشاعت کی تاریخ: 30th, May 2025 GMT

اسرائیل نے غزہ اور مغربی کنارے میں وحشیانہ مظالم کی تمام حدیں پار کردیں اور اب اپنے ناجائز قبضے کو وسعت دینے کے ناپاک منصوبے پر عمل پیرا ہے۔

اسرائیلی وزیر دفاع کاٹز نے غزہ میں امدادی سامان کی ترسیل کی اجازت نہ دینے کی مذمت اور فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا عندیہ دینے والے فرانسیسی صدر اور دیگر سربراہان مملکت پر تنقید بھی کی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیر دفاع نے کہا کہ فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون تو صرف ایک کاغذ کے ٹکڑے پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کریں گے لیکن ہم زمین پر یہودی ریاست قائم کریں گے۔

اسرائیلی وزیردفاع کا مزید کہنا تھا کہ مغربی کنارے میں یہودی ریاست کا قیام فرانس کے صدر ایمانوئل میکروں اور ان کے ہم نوا ساتھیوں کے لیے بھی ایک واضح پیغام ہوگا۔

اسرائیل کے وزیر دفاع کاٹز نے اپنے متنازع اور اشتعال انگیز بیان میں مغربی کنارے میں ملٹری کارروائیوں کے بعد مستقبل کے بارے میں اہم اعلان کیا۔

اسرائیلی دفاع کاٹز نے تمام بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کو نظر انداز کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ جلد مغربی کنارے میں ایک یہودی اسرائیلی ریاست بنائیں گے۔

صیہونی ریاست کے وزیر دفاع کاٹز نے کہا کہ وہ ایسا اس لیے کریں گے تاکہ اسرائیل کو کمزور اور نقصان پہنچانے کی کوشش کرنے والوں کو فیصلہ کن ردعمل دیا جا سکے۔
 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: وزیر دفاع کاٹز نے

پڑھیں:

سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔

ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ریاست مخالف ٹوئٹ کیس: پی ٹی آئی کارکن صنم جاوید اور فلک جاوید کے جیل ٹرائل کےلیے دائر درخواست خارج
  • انسانی حقوق کا مغربی تصور سیرت طیبہؐ کی روشنی میں
  • مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز اور آبادکاروں کا دھاوا، 4 فلسطینی شہید
  • پاسدارانِ انقلاب کی دھمکی پر برطانیہ کا بھی سخت ردعمل آگیا
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم