ملک کے مختلف علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش اور ژالہ باری کی بھی پیشگوئی
اشاعت کی تاریخ: 31st, May 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)محکمہ موسمیات نے ملک کے مختلف علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش اور ژالہ باری کی بھی پیشگوئی کر دی۔
ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم گرم اور خشک جبکہ میدانی علاقوں میں شدید گرم رہنے کا امکان ہے۔ اسلام آباد، بالائی خیبرپختونخوا، خطہ پوٹھوہار، شمال مشرقی پنجاب، کشمیر اور گلگت بلتستان میں مطلع جزوی ابر آلود رہنے کے علاوہ جھکڑ چلنے اور گرج چمک کے ساتھ چند مقامات پر بارش کا امکان ہے۔
اسلام آباد اور گرد و نواح میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے، بعض مقامات پر ژالہ باری اور موسلادھار بارش ہونے کی بھی توقع ہے۔ راولپنڈی، مری، گلیات، اٹک، چکوال اور جہلم میں بارش کا امکان ہے۔
میانوالی، خوشاب، حافظ آباد، گوجرانوالہ، گجرات، منڈی بہاؤالدین، سیالکوٹ، نارووال، شیخوپورہ اور لاہور میں بھی بارش ہونے کی توقع ہے۔ خطہ پوٹھوہار میں موسلا دھار بارش اور ژالہ باری ہونے کا امکان ہے۔
مانسہرہ، کوہستان، ایبٹ آباد، ہری پور، چترال، دیر، سوات، مالاکنڈ، بونیر، پشاور، صوابی، مردان، کوہاٹ اورکرک میں بارش کا امکان ہے، بالائی خیبرپختونخوا میں بعض مقامات پر موسلادھار بارش اور ژالہ باری ہونے کی بھی توقع ہے۔
بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں موسم گرم اور خشک رہے گا جبکہ کر اچی سمیت سندھ کے بیشتر اضلاع میں موسم گرم اور خشک رہنے کا امکان ہے۔ کشمیر، گلگت بلتستان میں گرج چمک کے ساتھ بارش ہونے کی توقع ہے۔
حکومت نے عیدالاضحیٰ کی تعطیلات کا اعلان کر دیا
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: میں گرج چمک کے ساتھ بارش بارش اور ژالہ باری بارش کا امکان ہے علاقوں میں توقع ہے ہونے کی کی بھی
پڑھیں:
وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان
اسلام آباد:نئے مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے حکومت نے فاٹا اور پاٹا کو حاصل مختلف ٹیکس رعایتوں میں مزید توسیع نہ دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے تحت 30 جون 2026ء کے بعد انکم ٹیکس اور ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ ختم ہو سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان آئندہ مالی سال کے بجٹ کے حوالے سے جاری مذاکرات میں آئی ایم ایف نے ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتوں میں مزید کمی کا مطالبہ کیا ہے۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتیں مزید کم کرنے سے تقریباً 40 ارب روپے حاصل ہونے کا امکان ہے۔
وفاقی حکومت نے 30 جون 2026ء کے بعد ٹیکس چھوٹ میں مزید توسیع نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے اور آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مختلف ٹیکس استثنیٰ ختم کر کے محصولات اکٹھے کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق سابق فاٹا اور پاٹا کے لیے انکم ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گا جبکہ یکم جولائی 2026ء کے بعد فاٹا اور پاٹا کے رہائشی افراد اور کمپنیوں پر عام ٹیکس قوانین لاگو ہونے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ فاٹا اور پاٹا میں سیلز ٹیکس بھی مرحلہ وار بڑھائے جانے کا امکان ہے اس سلسلے میں سابق فاٹا اور پاٹا کی صنعتوں پر سیلز ٹیکس 10 فیصد سے بڑھا کر 12 فی صد کیے جانے کی تجویز زیر غور ہے جبکہ سابق قبائلی علاقوں میں درآمدی صنعتی خام مال پر بھی 12 فی صد سیلز ٹیکس عائد ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق فاٹا اور پاٹا کے لیے ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ بھی یکم جولائی 2026ء کو ختم ہونے کا امکان ہے۔
الیکٹرک گاڑیوں کے سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبل کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا۔ اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔
ذرائع کے مطابق قبائلی علاقوں میں بجلی کی فراہمی پر سیلز ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026 تک برقرار رہے گا جبکہ مقامی طور پر تیار کردہ سائلوز پر سیلز ٹیکس چھوٹ بھی 30 جون 2026 کو ختم ہو جائے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 5 روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔