پنجاب میں دفعہ 144 نافذ, عید سے قبل سخت پابندیاں
اشاعت کی تاریخ: 31st, May 2025 GMT
سٹی42: حکومتِ پنجاب نے عیدالاضحیٰ کے پیش نظر صوبے بھر میں دفعہ 144 نافذ کر دی ہے۔ محکمہ داخلہ پنجاب کے جاری کردہ احکامات کے مطابق 5 جون سے 11 جون تک متعدد سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
دفعہ 144 کے تحت عوامی مقامات پر سری پائے اور دیگر جانوروں کی باقیات جلانا، دریاؤں، نہروں، جھیلوں اور ڈیمز میں نہانا، تیرنا اور کشتی رانی، جانوروں کا فضلہ یا اوجھڑی مین ہول، نالیوں یا نہر میں پھینکنا ،غیر منظور شدہ مقامات پر قربانی کے جانوروں کی خرید و فروخت اور اسلحہ اور گولہ بارود کی نمائش پر دفعہ 144 نافذ کی گئی ہے۔
اس کے علاوہ کالعدم تنظیموں کو قربانی کی کھالیں اکٹھی کرنے کی اجازت نہیں ہوگی،قربانی کی کھالیں صرف پنجاب چیریٹی کمیشن سے رجسٹرڈ ادارے ہی اکٹھی کر سکیں گے۔
سوراب میں دہشت گردوں کا بینک اوررہائش گاہوں پر حملے؛ اے ڈی سی ریونیو شہید
ترجمان محکمہ داخلہ کے مطابق یہ اقدام انسانی جانوں کے تحفظ، امن و امان قائم رکھنے اور ماحولیاتی آلودگی سے بچاؤ کے لیے کیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سٹی42
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔