قربانی کے لیے بروقت جانور کی خریداری ہر ایک کی خواہش ہوتی ہے، لیکن وہ دیکھ بھال اور رکھنے کے لیے مناسب جگہ نہ ہونے اور چوری کے خدشات کے باعث  زیادہ دن پہلے خریداری نہیں کر سکتے۔ ایسے لوگوں کے لیے خوشخبری ہے کہ پشاور کے ایک رہائشی نے ان کی یہ مشکل آسان کر دی ہے۔

پشاور کے گلبہار کے علاقے سے تعلق رکھنے والے طارق نامی شخص نے طارق وچھہ کے نام سے قربانی کے جانوروں کے لیے پارکنگ اور اسٹیشن کا اہتمام کیا ہے، جہاں مناسب فیس دے کر جانور کو چوری سے بچاؤ اور ان کی دیکھ بھال کروائی جا سکتی ہے۔

طارق نے بتایا کہ پشاور شہر میں تنگ گلیوں کے باعث قربانی کے جانور رکھنا اور ان کی دیکھ بھال مشکل ہو گئی ہے، جس کی وجہ سے لوگ بچوں کی ضد اور فرمائش کے باوجود بھی عید سے پہلے جانور خریدنے سے قاصر تھے۔ طارق وچھہ کی جگہ پہلے شادی ہال تھا، جسے اب وہ ہر سال جانوروں کی پارکنگ میں تبدیل کرتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ان کے جانوروں کے لیے مختص اسٹیشن میں قربانی کے جانوروں کی مکمل دیکھ بھال کی جاتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس بار بڑی تعداد میں لوگ جانور لے کر آئے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ان کے ہاں تمام تر سہولیات موجود ہیں۔ اگر مالک چاہے تو مویشیوں کو چارہ ڈالنے اور انہیں نہلانے کی سہولت بھی موجود ہے۔ جانور کو قربانی کے لیے سجایا بھی جاتا ہے۔ اگر مالک چاہے تو وہ خود بھی آ کر چارہ ڈال سکتا ہے۔

طارق نے مزید بتایا کہ جانوروں کی حفاظت اور دیکھ بھال ان کی ذمہ داری ہے اور ان کی ٹیم دن رات جانوروں کا  خیال رکھتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بچے اور بڑے دن کے وقت آ کر اپنے جانوروں کو گھماتے ہیں اور رات کو پارکنگ میں باندھ دیتے ہیں تاکہ چوری نہ ہو۔

طارق وچھہ آنے والے لوگ بھی خوش دکھائی دیے۔ شبیر خان نے بتایا کہ ان کی گلی کافی تنگ ہے، جانور باندھنے سے لوگوں کا گزرنا مشکل ہو جاتا ہے، جبکہ رات کو چوری کا خطرہ بھی رہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچے عید سے ایک دو ہفتے پہلے جانور خریدنے کی ضد کرتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اس بار طارق پارکنگ کی وجہ سے انہیں آسانی ہوئی اور 2 ہفتے پہلے ہی انہوں نے بیل خرید لیا۔

انہوں نے بیل کو اس پارکنگ میں رکھا ہے، نہلانا اور چارہ ڈالنا سب ان کی ذمہ داری ہے، جبکہ ان کے بچے دن کے وقت آ کر بیل کو گھمانے لے جاتے ہیں۔

قربانی کے جانوروں کی اس پارکنگ اسٹیشن میں مزید کیا سہولیات ہیں؟ دیکھیں اس ویڈیو رپورٹ میں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: قربانی کے جانوروں قربانی کے جانور نے بتایا کہ جانوروں کی دیکھ بھال انہوں نے کے لیے اور ان

پڑھیں:

حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم کے اپنا گھر پروگرام کے تحت اپنا ذاتی گھر حاصل کرنے کے خواہشمند شہریوں کے لیے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پروگرام کے تحت کمرشل بینک اب تک 160 ارب روپے مالیت کے ہاؤسنگ قرضے منظور کر چکے ہیں جبکہ کامیاب درخواست گزاروں کو قرضوں کی فراہمی کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔

یہ بات وزیر خزانہ کے مشیر عدنان پاشا نے کراچی میں منعقدہ فرسٹ انٹرنیشنل انشورنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا اپنا گھر پروگرام ملک میں تقریباً ایک کروڑ (10 ملین) گھروں کی کمی کو پورا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے اور اس کے ذریعے کم آمدنی والے خاندانوں کو رعایتی شرائط پر اپنے گھر کا مالک بننے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔

عدنان پاشا نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت شہریوں کو صرف 5 فیصد رعایتی مارک اپ پر ہاؤسنگ قرض فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ وزارت خزانہ اس منصوبے میں شامل بینکوں کے ممکنہ قرض نقصان کا 10 فیصد تک بوجھ خود برداشت کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت پہلے 10 سال تک مارک اپ سبسڈی بھی فراہم کر رہی ہے تاکہ ہاؤسنگ فنانس زیادہ سے زیادہ سستا اور عوام کی پہنچ میں رہ سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ مستحق خاندان اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں، جس سے نہ صرف رہائشی مسائل میں کمی آئے گی بلکہ تعمیراتی شعبے، سیمنٹ، اسٹیل، ٹائلز، الیکٹریکل مصنوعات اور دیگر متعلقہ صنعتوں میں بھی معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔

اس موقع پر عدنان پاشا نے حکومت کے الیکٹرک موٹرسائیکل پروگرام پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت آئندہ برسوں میں 20 لاکھ الیکٹرک موٹرسائیکلیں متعارف کرانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ رجسٹرڈ موٹرسائیکلیں ہر سال قریب 8 ارب ڈالر مالیت کا درآمدی پٹرول استعمال کرتی ہیں، جس سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت شہریوں کو الیکٹرک بائیکس کی خریداری پر سبسڈی اور بلاسود فنانسنگ فراہم کر رہی ہے تاکہ ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے، تاہم ملک میں الیکٹرک بائیکس کی پیداوار اور سپلائی کے مسائل اب بھی موجود ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

عدنان پاشا نے زرعی شعبے کے حوالے سے بتایا کہ حکومت نے حال ہی میں زرخیزی اسکیم بھی متعارف کرائی ہے جس کے تحت 21 بینکوں پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور سپارکو کے تعاون سے کسانوں کو ڈیجیٹل زرعی قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور ریئل ٹائم ڈیٹا کے ذریعے قرضوں کے استعمال کی نگرانی کی جائے گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہو۔

حکومتی حکام کے مطابق اپنا گھر پروگرام اور دیگر مالیاتی اسکیموں کا مقصد کم آمدنی والے طبقات کو سہولت فراہم کرنے معیشت کو متحرک کرنے، تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور ملک میں پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔

مزید پڑھیں۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ

متعلقہ مضامین

  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • پشاور: حیات میڈیکل کمپلیکس میں ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال دوسرے روز بھی جاری، مریض مشکلات سے دوچار
  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
  • مزہ کرکرا: اے آئی سے بنے جعلی جانوروں نے اصلی ویڈیوز بھی مشکوک بنادیں
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ