اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 31 مئی ۔2025 )انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) نے اعتماد میں لیے بغیر بجلی ٹیرف میں کمی کرنے پر حکومت سے وضاحت طلب کر لی ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان ورچوئل مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے.

(جاری ہے)

نجی ٹی وی نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ آئی ایم ایف کی جانب سے کرپٹو کرنسی کا اسٹیٹس تاحال لیگل نہ ہونے پر بِٹ کوائن مائننگ اور اے آئی کے لیے بجلی مختص کرنے پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف نے مطالبہ کیا کہ قرض پروگرام میں رہتے ہوئے تمام اقدامات مشاورت سے کیے جائیں، بِٹ کوائن مائننگ کو بجلی فراہم کرنے پر بھی ورچوئلی بات ہوگی، معاشی ٹیم کو بجٹ پر مذاکرات کے دوران آئی ایم ایف کے سخت سوالوں کا سامنا ہے.

ذرائع کے مطابق بِٹ کوائن مائننگ کے لیے بجلی فراہمی کے اقدام پر آئی ایم ایف کی جانب سے مزید سخت بات چیت کا خدشہ ہے دوسری جانب ”ڈان نیوزبزنس“نے کہا ہے کہ وزیراعظم کے بجلی 7 روپے 41 پیسے فی یونٹ سستی کرنے کے پیکج کو ایک اور دھچکہ لگنے کا خدشہ پیدا ہوگیا، جون میں بھی بجلی صارفین کو اعلان کردہ کمی کا مکمل ریلیف نہ ملنے کا امکان ہے جون میں بجلی صارفین کے لیے مجموعی ریلیف کم ہوکر 4 چارروپے 79 پیسے فی یونٹ رہنے کا امکان ہے، اس وقت وزیر اعظم پیکج کے تحت بجلی صارفین کو 6 روپے 35 پیسے کا ریلیف مل رہا ہے جبکہ گزشتہ ماہ اپریل میں بجلی صارفین کو 4 روپے 97 پیسے فی یونٹ کا ریلیف دیا گیا تھا.

رواں ماہ کے مقابلے میں آئندہ ماہ وزیر اعظم سستی بجلی سہولت پیکج کے تحت بجلی صارفین کو دیے جانے والے ریلیف میں کمی کاخدشہ ہے، تاہم ریلیف میں کمی نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کی جانب سے اپریل کی ماہانہ ایڈجسٹمنٹ میں سینٹرل پرچیزنگ پاور ایجنسی (سی پی پی اے) کی درخواست کے مطابق من و عن اضافے اور اس کا اطلاق جون میں کرنے سے مشروط ہوگا.

ذرائع کے مطابق مارچ کی ماہانہ ایڈجسٹمنٹ کے 29 پیسے فی یونٹ کمی کا ریلیف اس مہینے ختم ہو جائےگا جبکہ اپریل کی ایڈجسٹمنٹ میں سی پی پی اے نے ایک روپے27 پیسے فی یونٹ کا اضافہ مانگ رکھا ہے نیپرا نے گزشتہ روزبجلی کی قیمت میں اضافے کی درخواست پر سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا تھا ذرائع کے مطابق رواں مالی سال کی دوسری اور تیسری سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں بجلی کی قیمت میں کمی کا اطلاق جون میں برقرار رہے گا، رواں مالی سال کی دوسری سہ ماہی میں ایک روپے90 پیسے اور رواں مالی سال کی تیسری سہ ماہی میں ایک روپے 55 پیسے فی یونٹ کمی کا ریلیف دیا جارہا ہے.

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پیٹرولیم لیوی کی مدمیں ایک روپے 71 پیسے فی یونٹ کمی کا ریلیف بھی جون میں برقرار رہے گا جبکہ ری ٹینڈ ایف سی اے کی مد میں 90 پیسے فی یونٹ کمی بھی جون میں برقراررہے گی یاد رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے 3 اپریل کو گھریلو صارفین کے لیے بجلی 7 روپے41 پیسے فی یونٹ سستی کرنے کا اعلان کیا تھا. 

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے پیسے فی یونٹ کمی ذرائع کے مطابق بجلی صارفین کو آئی ایم ایف کا ریلیف ایک روپے کمی کا کے لیے

پڑھیں:

جبری مشقت کے خلاف ناکافی اقدامات: امریکا کی انڈیا سمیت 60 ملکوں پر نئے ٹیرف عائد کرنے کی تجویز

امریکا نے جبری مشقت سے تیار ہونے والی مصنوعات کی درآمد روکنے میں ناکامی کے الزام پر پاکستان سمیت 60 معیشتوں پر نئے درآمدی محصولات (ٹیرف) عائد کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ مجوزہ اقدام کے تحت پاکستان پر 10 فیصد اضافی ٹیرف لگایا جا سکتا ہے، تاہم حتمی فیصلے سے قبل عوامی مشاورت اور سماعتوں کا عمل مکمل کیا جائے گا۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق مجوزہ ٹیرف کی شرح 10 سے 12.5 فیصد کے درمیان ہوگی۔ حتمی فیصلہ کرنے سے قبل اس تجویز پر عوامی رائے طلب کی جائے گی اور متعلقہ فریقین کو اپنے مؤقف پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔

یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ قانونی رکاوٹوں کے بعد اپنی تجارتی اور ٹیرف پالیسی کو ازسرِ نو ترتیب دینے کی کوشش کر رہی ہے۔

چند ماہ قبل واشنگٹن نے اپنے بڑے تجارتی شراکت داروں، جن میں چین، یورپی یونین اور جاپان شامل ہیں، کے خلاف تحقیقات شروع کی تھیں۔ ان تحقیقات کا مقصد یہ جاننا تھا کہ آیا یہ ممالک جبری مشقت سے تیار شدہ مصنوعات کی درآمد روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کر رہے ہیں یا نہیں، اور اس کا امریکی تجارت پر کیا اثر پڑ رہا ہے۔

منگل کو جاری بیان میں امریکی تجارتی نمائندے کے دفتر نے کہا کہ 54 معیشتیں ایسی پائی گئیں جنہوں نے جبری مشقت سے تیار ہونے والی مصنوعات کی درآمد پر پابندی مؤثر انداز میں نافذ نہیں کی۔

اس فہرست میں چین، ویتنام، تائیوان، برطانیہ اور بھارت سمیت متعدد ممالک شامل ہیں۔

مزید چھ معیشتوں کینیڈا، ایکواڈور، یورپی یونین، انڈونیشیا، میکسیکو اور پاکستان کے بارے میں کہا گیا کہ اگرچہ ان کے پاس متعلقہ قوانین موجود ہیں، تاہم وہ ان پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے میں ناکام رہی ہیں۔

امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا کے اہم تجارتی شراکت داروں کی جانب سے جبری مشقت سے تیار شدہ مصنوعات کی درآمد کا مسئلہ حل نہ کرنا ناقابلِ قبول ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس صورتحال کے باعث امریکی کارکنوں کو عالمی منڈی میں غیر مساوی مسابقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکا اب اس فرق کو مزید برداشت نہیں کرے گا اور تمام تجارتی شراکت داروں کو اس بات کو یقینی بنانے کے لیے مزید اقدامات کرنا ہوں گے کہ عالمی تجارت جبری مشقت کے فروغ کا ذریعہ نہ بنے۔

پاکستان پر 10 فیصد اضافی ٹیرف کی تجویز

امریکی تجارتی نمائندے کے دفتر کے مطابق پاکستان، کینیڈا، یورپی یونین، میکسیکو، انڈونیشیا، ارجنٹائن، بنگلہ دیش، کمبوڈیا، ایل سلواڈور، گواٹے مالا، ملائیشیا، تائیوان اور برطانیہ سمیت بعض دیگر ممالک سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر جبری مشقت سے متعلق تحقیقات کے تناظر میں 10 فیصد اضافی ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

دوسری جانب باقی 45 ممالک پر 12.5 فیصد اضافی محصولات عائد کرنے کا منصوبہ ہے۔

بعض اشیا مستثنیٰ ہوں گی

مجوزہ ٹیرف کے اطلاق سے بعض اشیا کو استثنیٰ حاصل ہوگا، جن میں گائے کا گوشت، کافی، بعض پھل اور خشک میوہ جات شامل ہیں۔

اسی طرح کینیڈا اور میکسیکو سے شمالی امریکا کے آزاد تجارتی معاہدے کے تحت درآمد ہونے والی مصنوعات بھی ان محصولات سے مستثنیٰ رہیں گی۔ کچھ ٹیکسٹائل اور ملبوسات کو بھی رعایت دی جائے گی۔

امریکی تجارتی نمائندے کے دفتر نے عوام، کاروباری اداروں اور دیگر متعلقہ فریقین کو 6 جولائی تک تحریری تجاویز اور اعتراضات جمع کرانے کی دعوت دی ہے۔ اس کے بعد باقاعدہ سماعتوں کا انعقاد کیا جائے گا، جن کی روشنی میں حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب 20 فروری کو ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے عائد کردہ عارضی 10 فیصد ٹیرف کی مدت 24 جولائی کو ختم ہونے والی ہے۔

یاد رہے کہ 20 فروری کو ہی امریکی سپریم کورٹ نے بین الاقوامی ہنگامی اقتصادی اختیارات کے قانون کے تحت سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نافذ کیے گئے بعض ٹیرف اقدامات کو کالعدم قرار دیا تھا، جس کے بعد انتظامیہ نئے قانونی راستوں کے ذریعے اپنی تجارتی پالیسی کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے لیے ٹیکسوں میں بڑی کمی اور فائلر کیلیےبڑے ریلیف  کی تجاویز
  • ڈیٹا لیک ہونے کی خبریں؛ہائر ایجوکیشن کمیشن کی وضاحت آگئی
  • جبری مشقت کے خلاف ناکافی اقدامات: امریکا کی انڈیا سمیت 60 ملکوں پر نئے ٹیرف عائد کرنے کی تجویز
  • بجلی کی قیمت میں ایک روپے 72 پیسے اضافے کا امکان
  • ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
  • نیپرا، بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • بجلی صارفین کے لیے ریلیف کا اعلان، پاور ڈویژن نے عوام کو خوشخبری سنا دی
  • بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
  • بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان