بین الاقوامی ثالثی ادارے کا ہانگ کانگ میں قیام، تنازعات کے حل کا نیا راستہ
اشاعت کی تاریخ: 31st, May 2025 GMT
بیجنگ :چین کے ہانگ کانگ میں 33 ممالک کے مندوبین نے “بین الاقوامی ثالثی ادارے” کے کنونشن پر دستخط کیے اور اس کے بانی رکن ممالک بن گئے۔ کنونشن کے مطابق، تین یا اس سے زائد ممالک کے داخلی قانونی طریقہ کار کے ذریعے تصدیق ہونے پر یہ ادارہ سرکاری طور پر قائم ہو جائے گا۔
اس ادارے کا ہیڈ کوارٹر ہانگ کانگ میں ہو گا اور یہ 2026 کے آغاز تک اپنا کام شروع کر دے گا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ ادارہ بین الاقوامی قانون کے نفاز کے حوالے سے ایک انقلابی قدم ہے جو ثالثی کے میدان میں موجود خلا کو پر کرے گا اور عالمی حکمرانی کو بہتر بنانے کے لیے ایک اہم قانونی پلیٹ فارم مہیا کرے گا۔ یہ چین کی جانب سے عالمی امن کے فروغ کے لیے ایک اور اہم کاوش ہے۔یہ ادارہ بین الاقوامی تنازعات کو ثالثی کے ذریعے حل کرنے والی دنیا کی پہلی بین الحکومتی قانونی تنظیم ہے، جسے 2022 میں چین اور 18 دیگر ممالک نے مشترکہ طور پر پروپوز کیا تھا۔ اس کے قیام کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ رضاکارانہ بنیاد پر ممالک کے درمیان، ممالک اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے درمیان، یا بین الاقوامی تجارتی میدان میں تنازعات کو ثالثی کے ذریعے نمٹایا جا سکے۔موجودہ دور میں دنیا نئے انتشار اور تبدیلیوں کے دور سے گزر رہی ہے۔
جغرافیائی سیاسی تصادم بڑھ رہے ہیں، یکطرفہ پالیسیاں اور تحفظ پسندی عروج پر ہے۔ ایسے ماحول میں کچھ ممالک بالادستی کے رویے یا جنگی اقدامات کا سہارا لیتے ہیں۔ دوسری جانب، موجودہ بین الاقوامی تنازعات حل کرنے والے ادارے بعض مغربی ممالک کی سیاسی چالبازیوں کی وجہ سے یا تو غیر منصفانہ ہو چکے ہیں یا عملاً غیر فعال ہیں۔ قابل غور بات یہ ہے کہ کنونشن پر دستخط کرنے والے 33 ممالک میں زیادہ تر ترقی پذیر ممالک شامل ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ماضی میں جب بین الاقوامی تنازعات پیدا ہوتے تھے تو عالمی جنوب کے ممالک کے مفادات کا حقیقی تحفظ نہیں ہوتا تھا۔ اب یہ ادارہ انہیں تنازعات حل کرنے کا ایک نیا آپشن فراہم کرے گا۔
ہانگ کانگ میں ہیڈکوارٹر کا انتخاب بھی ایک اہم پیغام رکھتا ہے۔ ایک طرف، ہانگ کانگ کی چین میں واپسی خود بین الاقوامی تنازعے کے پرامن حل کی ایک کامیاب مثال ہے۔ دوسری طرف، ہانگ کانگ کو جغرافیائی اور قانونی نظام کی مضبوطی کی وجہ سے بین الاقوامی ثالثی کے لیے مثالی مقام حاصل ہے۔ یہ چین کی عالمی امن کے لیے کوششوں اور قربانیوں کا ایک اور ثبوت ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ یہ ادارہ بین الاقوامی تنازعات کے پرامن حل، ممالک کے درمیان اعتماد اور تعاون کو نئی توانائی فراہم کرے گا۔ جب یہ نوزائیدہ ادارہ ایک مضبوط درخت بن جائے گا، تو دنیا میں امن اور خوشحالی کے امکانات مزید روشن ہوں گے۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بین الاقوامی تنازعات ہانگ کانگ میں ثالثی کے یہ ادارہ ممالک کے کرے گا کے لیے
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری
8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔
وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔
مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔
????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States
????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026
آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔
مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے
بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی