جنگ کے امکانات بڑھ گئے، جنوبی ایشیا میں تنازعات کبھی بھی بے قابو ہوسکتے ہیں، جنرل ساحر شمشاد مرزا
اشاعت کی تاریخ: 1st, June 2025 GMT
جنگ کے امکانات بڑھ گئے، جنوبی ایشیا میں تنازعات کبھی بھی بے قابو ہوسکتے ہیں، جنرل ساحر شمشاد مرزا WhatsAppFacebookTwitter 0 1 June, 2025 سب نیوز
سنگاپور (آئی پی ایس) چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا کہنا ہے کہ پہلگام واقعے کے بعد جنگ کے امکانات خطرناک حد تک بڑھ گئے۔ جنوبی ایشیا میں تنازعات کبھی بھی بے قابو ہوسکتے ہیں۔
سنگاپور میں شنگریلا ڈائیلاگ سے خطاب میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا نے کہا کہ کہ جنوبی ایشیا میں بہت سے تنازعات ہیں جو کبھی بھی بے قابو ہوسکتے ہیں۔ جنوبی ایشیا میں کشمیر حل طلب تنازع ہے، نظریاتی یا علاقائی اختلافات کو دبانے سے انہیں حل نہیں کیا جاسکتا۔
جنرل ساحر شمشاد نے کہا کہ ایشیا پیسیفک21 ویں صدی کا جیو پالیٹیکل کاک پٹ بن چکا ہے، کرائسس مینجمنٹ میکنزم آج بھی ادارہ جاتی سطح پر غیرمساوی ہے، جنوبی ایشیا کو ایشیا پیسیفک استحکام کی بات چیت سے الگ نہیں کرناچاہیے، عدم اعتماد کی فضا میں کوئی میکنزم کام نہیں کرتا۔
چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی نے کہا کہ صرف متنازع علاقے میں نہیں بلکہ پورے ہندوستان اور پورے پاکستان میں دونوں ممالک کے ڈیڑھ ارب لوگوں کو تجارت اور ترقی کی ضروریات ہے۔
انہوں نے کہا کہ مستقبل میں ہندوستانی پالیسز اور انتہا پسند سوچ کے مد نظر کرائسز مینجمنٹ میکانزم کے پاس شاید وقت نہیں بچے گا اور عالمی طاقتیں مداخلت کرپائیں گی نہ ہی اثر انداز ہوسکیں گی، وہ تباہی اورنقصان کو روکنے میں بہت دیر کرچکی ہوں گی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسیالکوٹ کے حلقہ پی پی 52 میں ضمنی انتخابات کے لیے پولنگ جاری سیالکوٹ کے حلقہ پی پی 52 میں ضمنی انتخابات کے لیے پولنگ جاری کرپشن، بدانتظامی، امن و امان کی بگڑتی صورتحال پر جے یو آئی کا عوامی مہم چلانے کا اعلان معرکہ حق میں ناکامی، ہزیمت چھپانے کیلئے بھارت کا بلوچستان میں پراکسیز کا بے دریغ دوبارہ استعمال اسرائیل نے سعودیہ سمیت 5 عرب وزرائے خارجہ کو مغربی کنارے کے دورے سے روکدیا بھارت کی قیادت کا غرور تین روز کی جنگ نے ملیا میٹ کر دیا ہے، احسن اقبال اسحاق ڈار کا آذربائیجان کے ہم منصب سے رابطہ، ای سی او اجلاس پر گفتگوCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: کبھی بھی بے قابو ہوسکتے ہیں جنوبی ایشیا میں نے کہا کہ
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔