چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحرشمشاد مرزا نے کہا ہے کہ جنوبی ایشیا میں ایسے تنازعات زندہ ہیں، جو کسی بھی وقت بے قابو ہوسکتے ہیں۔

ڈان نیوز کے مطابق سنگاپور میں شنگریلا ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے جنرل ساحر شمشاد مرزا نے واضح کیا کہ جنوبی ایشیا میں غیر حل شدہ تنازع کشمیر موجود ہے، ایسے اقدامات کی ضرورت ہے جو کشیدگی کے خطرات میں ابہام ختم کر سکیں۔

???????? Pakistan Reaffirms Peaceful Intent at Shangri-La Dialogue 2025

Speaking at the Shangri-La Dialogue 2025 in Singapore today, Pakistan’s Chairman Joint Chiefs of Staff Committee, General Sahir Shamshad Mirza, reaffirmed that Pakistan has consistently pursued diplomatic… pic.

twitter.com/hVs8kGHm2a

— Global Defense Insight (@Defense_Talks) May 31, 2025


جنرل ساحر شمشاد مرزا نے کہا کہ ایشیا پیسیفک اکیسویں صدی کا جیو پولیٹیکل کاک پٹ بن چکا ہے، کرائسس مینجمینٹ میکنزم آج بھی کسی حد تک نازک، اور ادارہ جاتی سطح پر غیر مساوی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کرائسس مینجمنٹ کے لیے اسٹریٹیجک انڈراسٹینڈنگ بڑھائی جانی چاہیے، پائیدارکرائسس مینجمنٹ کے لیے باہمی برداشت، ریڈ لائن کی پاسداری اور مساوات کی ضرورت ہوتی ہے، عدم اعتماد کی فضا میں کوئی میکنزم کام نہیں کرتا۔

چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف نے کہا کہ جب تک بنیادی اسٹیک ہولڈرز کمزور سمجھے جائیں، کوئی فریم ورک کامیاب نہیں ہوسکتا، تعاون کا ڈھانچہ روک تھام کے آلے کے طور پر استعمال ہونے پر بھی کوئی فریم ورک کامیاب نہیں ہوتا، استحکام کا حصول شراکت داری کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

جنرل ساحرشمشاد مرزا نے کہا کہ ایڈہاک رسپانسز ناکافی ہیں، ہمیں ادارہ جاتی پروٹوکول، ہاٹ لائنز کی ضرورت ہے، کشیدگی میں کمی کےطے شدہ طریقہ کار اور مشترکا کرائسس مینجمنٹ مشقوں کی ضرورت ہے، مصنوعی ذہانت، سائبر مداخلت، رئیل ٹائم بیٹل فیلڈ سرویلنس فیصلوں پر اثرانداز ہوسکتی ہیں، ہمارے میکنزم میں اب یہ موجودہ حقیقت شامل ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا کو ایشیا پیسیفک استحکام کی بات چیت سے الگ نہیں کرنا چاہیے، جنوبی ایشیا میں غیر حل شدہ تنازع کشمیر موجود ہے، جنوبی ایشیا میں ایسے بہت سے تنازعات زندہ ہیں جو کبھی بھی قابو سے باہر ہوسکتے ہیں، ایسے اقدامات کی ضرورت ہے جوکشیدگی کے خطرات میں کسی بھی ابہام کو ختم کر سکیں۔

چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف نے کہا کہ طاقت اور مفاد، اخلاقیات اور اصولوں سے بالاتر ہوگئے ہیں، ماڈرن اسٹیٹ سسٹم پر مبنی اسٹرکچر توانائی کھو رہے ہیں، آزاد دنیا کے رکھوالوں نے خود ہی ریاستی خودمختاری، علاقائی سالمیت، انسانی حقوق، عالمی قانون اورانصاف کی قدروں کو پامال کر دیا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ نظریاتی یا علاقائی اختلافات کودبانے سے انہیں حل نہیں کیا جاسکتا، پائیدار میکنزم میں پُریقین راستے، اختلافات کے پُرامن حل شامل ہونے چاہئیں، اسٹریٹجک کمیونیکیشن اہم ہے، غلط فہمیاں، غلط معلومات کشیدگی کو ہوا دیتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کیساتھ برابری کی سطح پر تمام مسائل کے حل کے لیے بات چیت کرنے کو تیار ہیں۔

Post Views: 4

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: جنوبی ایشیا میں کی ضرورت ہے نے کہا کہ

پڑھیں:

ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا

ماہرین فلکیات نے نظام شمسی سے باہر موجود سیاروں (ایگزوپلینیٹس) میں مقناطیسی میدانوں کے شواہد دریافت کر لیے ہیں جسے اس حوالے سے اب تک کا مضبوط ترین ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کیا پلوٹو کو سیارے کا درجہ دوبارہ مل جائے گا، یہ سیاروں کی فہرست سے نکالا کیوں گیا؟

سائنس دانوں نے چلی اور ہوائی میں نصب جدید دوربینوں کی مدد سے 7 بڑے اور انتہائی گرم گیسوں پر مشتمل سیاروں کا مشاہدہ کیا۔ تحقیق کے دوران ان سیاروں کی فضائی ہواؤں کے غیرمعمولی رویے کا جائزہ لیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ ان پر مقناطیسی میدان موجود ہیں۔

یہ تحقیق جریدے نیچر آسٹرونومی میں شائع ہوئی ہے اور اس کے مطابق مقناطیسی میدان وہ غیر مرئی قوت ہے جو کسی سیارے کے اندر موجود پگھلے ہوئے دھاتی مواد کی حرکت اور اس کی گردش سے پیدا ہوتی ہے۔

تحقیق کی سربراہ اور فرانس کے آبزرویٹری ڈی لا کوٹ ڈی آزور سے وابستہ ماہر فلکیات جولیا سیڈل کے مطابق سائنس دانوں کی توقع تھی کہ زیادہ گرم سیاروں پر ہوائیں زیادہ تیز ہوں گی کیونکہ وہاں توانائی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے لیکن مشاہدات میں اس کے برعکس نتائج سامنے آئے۔

مزید پڑھیے: 45 نئے سیارے دریافت جہاں زندگی کے امکانات موجود ہیں

انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ گرم سیاروں پر ہواؤں کی رفتار توقع سے کم دیکھی گئی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ستاروں سے ملنے والی اضافی توانائی کسی اور طریقے سے ضائع ہو رہی ہے۔

ان کے مطابق اس کی سب سے ممکنہ وجہ مقناطیسی میدان اور فضا میں موجود برقی ذرات کے درمیان تعامل ہے۔

تحقیق میں شامل ساتوں سیارے اپنے ستاروں کے انتہائی قریب گردش کرتے ہیں۔ ان کا ایک حصہ مسلسل ستارے کی طرف جبکہ دوسرا حصہ ہمیشہ تاریکی میں رہتا ہے۔ اس قسم کے سیاروں کو ’ہاٹ جیوپیٹر‘ کہا جاتا ہے کیونکہ ان کا حجم اور ساخت مشتری سے ملتی جلتی ہوتی ہے تاہم ان کا درجہ حرارت بہت زیادہ ہوتا ہے۔

ان سیاروں پر ہواؤں کی رفتار بعض مقامات پر 25 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ تک ریکارڈ کی گئی جو نظامِ شمسی کے سب سے بڑے سیارے مشتری کی ہواؤں سے بھی زیادہ ہے۔

مزید پڑھیں: سب سے چھوٹے سیارے عطارد کا وجود ایک معمہ، جانیے اس پراسرار جہان کی حقیقت؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ نظام شمسی کے بیشتر سیاروں میں مقناطیسی میدان موجود ہیں اس لیے یہ بات حیران کن نہیں کہ دوسرے نظاموں کے سیاروں میں بھی یہ خصوصیت پائی جائے تاہم اب تک اس کے واضح شواہد دستیاب نہیں تھے۔

تحقیق میں شامل جرمنی کے یورپی جنوبی رصدگاہ سے وابستہ ماہر فلکیات بیبیانا پرنوتھ کے مطابق مقناطیسی میدان کسی سیارے کو قابلِ رہائش بنانے کا واحد عنصر نہیں لیکن یہ طویل عرصے تک فضا کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ زندگی کے لیے فضا کا موجود ہونا انتہائی ضروری ہے کیونکہ فضا سطحی دباؤ کو برقرار رکھنے، درجہ حرارت کو متوازن رکھنے اور زمین کی طرح مائع پانی کے وجود کو ممکن بناتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: زمین جیسے سیارے کی تلاش ایک دلچسپ جدوجہد، سائنسدان پرامید

ماہرین کے مطابق اگرچہ اس تحقیق میں شامل تمام سیارے گیسوں پر مشتمل ہیں اور زندگی کے لیے موزوں نہیں سمجھے جاتے تاہم ان میں مقناطیسی میدانوں کی موجودگی کی دریافت مستقبل میں زمین جیسے چٹانی سیاروں کے مطالعے اور قابلِ رہائش دنیاوں کی تلاش میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ مقناطیسی میدان رکھنے والے سیارے نظام شمسی ہاٹ جیوپیٹر

متعلقہ مضامین

  • اٹلی‘ 4 پاکستانی قتل: مکمل معلومات نہیں ملیں: دفتر خارجہ 
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • چلاس: پی ٹی آئی کے مرکزی جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجا کو دیامر میں روک لیا گیا
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار
  • قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان